امن کا سورج جلد طلوع ہوگا
وطن عزیزکا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے جو ایک عفریت کی صورت اختیارکرچکا ہے۔
انشاء اللہ وہ وقت دورنہیں جب ملک میں جلد امن کا سورج طلوع ہوگا اور ظلمت کی اندھیری رات چھٹ جائے گی۔ فوٹو : فائل
وطن عزیزکا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے جو ایک عفریت کی صورت اختیارکرچکا ہے، حکومت ، سیکیورٹی ادارے اور عوام مل کر اس عفریت کا مقابلہ کررہے ہیں، لیکن تاحال اس کا سر مکمل طور پرکچلا نہیں جاسکا ہے، بہت سے ایسے گروہ اور جماعتیں ملک میں موجود ہیں جو عوام کے ذہنوں میں ابہام کی کیفیت کو جنم دے کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں۔
اب تک ساٹھ ہزارجانوں کا نذرانہ پاک وطن کی بقا کے لیے دیا جاچکا ہے ۔ملک میں تیرہ برس سے دہشتگردی کے واقعات تسلسل سے جاری ہیں،گزشتہ روزضلع مانسہرہ میں انسداد پولیوٹیم پر نامعلوم افرادکی فائرنگ سے دولیڈی ہیلتھ ورکرز اور پولیس اہلکارجاں بحق ہوگئے۔
سیکیورٹی کے تمام تردعوؤں کے باوجود پولیو ورکرز اوران کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات ملک کے طول وعرض میں تسلسل سے رونما ہو رہے ہیں ، جن پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے، پولیو کی ویکسین کے خلاف مہم چلانے والے جاہل رہنما اور پولیو ٹیموں پر حملے کرنیوالے دہشت گرد دراصل ہماری آنے والی نسلوں کو معذور بنانا چاہتے ہیں،کیا معذور بچے ملک کا مستقبل سنوار سکیں گے جواب نفی میں ہے۔
دوسری جانب ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں مبینہ طور پر امریکی سی آئی اے کی معاونت کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے سابق وکیل سمیع اللہ آفریدی کو پشاور میں منگل کی شام قتل کردیا گیا ۔ نفرت آمیز مواد پر مبنی پمفلٹ ،کتابوں ، پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان دہشت گردوں کو معصوم اور بے گناہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
ملک کو عدم استحکام کا شکارکرنے کے لیے نت نئے منصوبے بنائے جاتے ہیں، چند روز پیشتر المناک سانحہ یوحنا آباد لاہور میں رونما ہوا ،جس میں ان گنت قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، مذہبی عبادت گاہ پر بم دھماکے کے بعد جس طرح پرتشدد ہجوم نے دوانسانوں کو زندہ جلایا جو انسانیت کا قتل ہے۔
اقلیتیں قیام پاکستان کی جدوجہد میں شریک رہی ہیں،ان کی ملک سے وفاداری کسی شک وشبہ سے بالاتر ہے، اسی ضمن میں وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اقلیتیں ملک کا ایک اہم طبقہ ہیں جنھوں نے ملکی ترقی میں بھرپورکردار ادا کیا، حکومت چاہتی ہے کہ اقلیتیں امن اور ہم آہنگی کے ماحول میں زندگی بسرکریں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ لاہورمیں سانحہ یوحنا آبادکے بعد جو کچھ ہوا اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، زندہ انسانوں کوجلانا اور توڑ پھوڑ اداروں کی تضحیک اور بدترین دہشت گردی ہے، بلاشبہ ہرعبادت گاہ کوسیکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں اورنہ ہی تمام اسکولوں، عبادت گاہوں اور مارکیٹوں کو بندکیا جا سکتا ہے،دہشت گرد ہمارے گھروں کوآگ لگا رہے ہیں،کوئٹہ اورکراچی میں مساجد پر حملے ہوئے لیکن وہاں بھی ایسا اشتعال نہیں پھیلا۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ یوحناآباد سانحے کے بعد ہونے والی پرتشددکارروائیوں پر قابو پانے میں پولیس بری طرح ناکام ہوگئی اور اس سے ملکی وقاربری طرح مجروح ہوا ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ جو لوگ یہ قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ صوبے میں گورنر راج لگے گا ، یہ باتیں ان کے ذہن کی اختراع ہے ،گورنر راج لگانا آسان نہیں ہے، ہم ہر سازش کو ناکام بنادیں گے ، علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن فون کرکے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم، سندھ کے عوام کی منتخب نمایندہ جماعتیں ہیں اور دونوں مل کرملک وصوبے کی ترقی وخوشحالی اور عوام کی فلاح وبہبودکے لیے جدوجہدکرتی رہیں گی۔
گوکہ کراچی میں جاری آپریشن کے نتیجے میں امن وامان کی صورتحال پہلے کی نسبت بہتر ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود مختلف علاقوں میں فائرنگ اور مقابلوں کے دوران 2 پولیس اہلکار جاں بحق،دو زخمی جب کہ ٹارگٹ کلر سمیت3 ملزم مارے گئے، میانوالی کالونی رئیس سینٹر کے قریب رینجرز نے مبینہ مقابلے میں2 ملزمان کو ہلاک کر دیا ، اتحاد ٹاؤن میں پولیس مقابلے میں مبینہ ٹارگٹ کلر ہلاک ہوگیا، پولیس نے گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران پانچ مقابلوں میں ایک جرائم پیشہ کو ہلاک اور84 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے گیارہ پستول اور2 ہزار 115گرام چرس برآمد کر لی ۔
جب کہ رینجرز نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گرد سمیت چودہ ملزمان کوگرفتارکرلیا ہے، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے ، جو کہ اس وقت دہشتگردوں اور بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کے قبضے میں ہیں ، سیکیورٹی ادارے مکمل یکسوئی سے کراچی کو پرامن بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔
شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعدحکومت کے سامنے اہم چیلنج متاثرین کو اپنے گھروں کو واپس بھیجنا ہے،شمالی وزیرستان سے91 ہزار خاندانوں کوآپریشن ضرب عضب کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا تھا۔مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کے عمل کا آغاز ہوچکا ہے،منگل کوسات مختلف شہروں گوجرانوالہ، فیصل آباد،جھنگ، راولپنڈی،میانوالی،ملتان اورکراچی کی جیلوں میں 12 مجرموں کو پھانسی دیدی گئی جب کہ مزید پندرہ مجرموں کو گزشتہ روز تختہ دار پرلٹکایا جائے گا۔
ملک بھر میں مجرموں کو سزا دینے سے جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، سزا کا خوف ہی جرم کرنے سے روکتا ہے ۔ انشاء اللہ وہ وقت دورنہیں جب ملک میں جلد امن کا سورج طلوع ہوگا اور ظلمت کی اندھیری رات چھٹ جائے گی۔
اب تک ساٹھ ہزارجانوں کا نذرانہ پاک وطن کی بقا کے لیے دیا جاچکا ہے ۔ملک میں تیرہ برس سے دہشتگردی کے واقعات تسلسل سے جاری ہیں،گزشتہ روزضلع مانسہرہ میں انسداد پولیوٹیم پر نامعلوم افرادکی فائرنگ سے دولیڈی ہیلتھ ورکرز اور پولیس اہلکارجاں بحق ہوگئے۔
سیکیورٹی کے تمام تردعوؤں کے باوجود پولیو ورکرز اوران کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات ملک کے طول وعرض میں تسلسل سے رونما ہو رہے ہیں ، جن پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے، پولیو کی ویکسین کے خلاف مہم چلانے والے جاہل رہنما اور پولیو ٹیموں پر حملے کرنیوالے دہشت گرد دراصل ہماری آنے والی نسلوں کو معذور بنانا چاہتے ہیں،کیا معذور بچے ملک کا مستقبل سنوار سکیں گے جواب نفی میں ہے۔
دوسری جانب ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں مبینہ طور پر امریکی سی آئی اے کی معاونت کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے سابق وکیل سمیع اللہ آفریدی کو پشاور میں منگل کی شام قتل کردیا گیا ۔ نفرت آمیز مواد پر مبنی پمفلٹ ،کتابوں ، پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان دہشت گردوں کو معصوم اور بے گناہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
ملک کو عدم استحکام کا شکارکرنے کے لیے نت نئے منصوبے بنائے جاتے ہیں، چند روز پیشتر المناک سانحہ یوحنا آباد لاہور میں رونما ہوا ،جس میں ان گنت قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، مذہبی عبادت گاہ پر بم دھماکے کے بعد جس طرح پرتشدد ہجوم نے دوانسانوں کو زندہ جلایا جو انسانیت کا قتل ہے۔
اقلیتیں قیام پاکستان کی جدوجہد میں شریک رہی ہیں،ان کی ملک سے وفاداری کسی شک وشبہ سے بالاتر ہے، اسی ضمن میں وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اقلیتیں ملک کا ایک اہم طبقہ ہیں جنھوں نے ملکی ترقی میں بھرپورکردار ادا کیا، حکومت چاہتی ہے کہ اقلیتیں امن اور ہم آہنگی کے ماحول میں زندگی بسرکریں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ لاہورمیں سانحہ یوحنا آبادکے بعد جو کچھ ہوا اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، زندہ انسانوں کوجلانا اور توڑ پھوڑ اداروں کی تضحیک اور بدترین دہشت گردی ہے، بلاشبہ ہرعبادت گاہ کوسیکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں اورنہ ہی تمام اسکولوں، عبادت گاہوں اور مارکیٹوں کو بندکیا جا سکتا ہے،دہشت گرد ہمارے گھروں کوآگ لگا رہے ہیں،کوئٹہ اورکراچی میں مساجد پر حملے ہوئے لیکن وہاں بھی ایسا اشتعال نہیں پھیلا۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ یوحناآباد سانحے کے بعد ہونے والی پرتشددکارروائیوں پر قابو پانے میں پولیس بری طرح ناکام ہوگئی اور اس سے ملکی وقاربری طرح مجروح ہوا ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ جو لوگ یہ قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ صوبے میں گورنر راج لگے گا ، یہ باتیں ان کے ذہن کی اختراع ہے ،گورنر راج لگانا آسان نہیں ہے، ہم ہر سازش کو ناکام بنادیں گے ، علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن فون کرکے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم، سندھ کے عوام کی منتخب نمایندہ جماعتیں ہیں اور دونوں مل کرملک وصوبے کی ترقی وخوشحالی اور عوام کی فلاح وبہبودکے لیے جدوجہدکرتی رہیں گی۔
گوکہ کراچی میں جاری آپریشن کے نتیجے میں امن وامان کی صورتحال پہلے کی نسبت بہتر ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود مختلف علاقوں میں فائرنگ اور مقابلوں کے دوران 2 پولیس اہلکار جاں بحق،دو زخمی جب کہ ٹارگٹ کلر سمیت3 ملزم مارے گئے، میانوالی کالونی رئیس سینٹر کے قریب رینجرز نے مبینہ مقابلے میں2 ملزمان کو ہلاک کر دیا ، اتحاد ٹاؤن میں پولیس مقابلے میں مبینہ ٹارگٹ کلر ہلاک ہوگیا، پولیس نے گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران پانچ مقابلوں میں ایک جرائم پیشہ کو ہلاک اور84 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے گیارہ پستول اور2 ہزار 115گرام چرس برآمد کر لی ۔
جب کہ رینجرز نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گرد سمیت چودہ ملزمان کوگرفتارکرلیا ہے، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے ، جو کہ اس وقت دہشتگردوں اور بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کے قبضے میں ہیں ، سیکیورٹی ادارے مکمل یکسوئی سے کراچی کو پرامن بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔
شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعدحکومت کے سامنے اہم چیلنج متاثرین کو اپنے گھروں کو واپس بھیجنا ہے،شمالی وزیرستان سے91 ہزار خاندانوں کوآپریشن ضرب عضب کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا تھا۔مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کے عمل کا آغاز ہوچکا ہے،منگل کوسات مختلف شہروں گوجرانوالہ، فیصل آباد،جھنگ، راولپنڈی،میانوالی،ملتان اورکراچی کی جیلوں میں 12 مجرموں کو پھانسی دیدی گئی جب کہ مزید پندرہ مجرموں کو گزشتہ روز تختہ دار پرلٹکایا جائے گا۔
ملک بھر میں مجرموں کو سزا دینے سے جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، سزا کا خوف ہی جرم کرنے سے روکتا ہے ۔ انشاء اللہ وہ وقت دورنہیں جب ملک میں جلد امن کا سورج طلوع ہوگا اور ظلمت کی اندھیری رات چھٹ جائے گی۔