چینی بینک میں یورپی اتحادیوں کی شمولیت

ہر ملک کو اپنی اقتصادیات اور نظام بینکاری کی ترویج اور توسیع کا حق حاصل ہے۔

چینی بینک مستقبل کی ایک اہم مالیاتی پیش رفت ہے جسے عالمی نظام بینکاری میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

عالمی معیشت اور اپنے نئے مالیاتی منصوبوں میں پیش رفت کے باعث چین نے امریکا کو خاصا مشکل میں ڈال دیا ہے۔

گزشتہ روز امریکا کے یورپی حلیفوں جرمنی، اٹلی اور فرانس کے وزرائے خزانہ نے ایک مشترکہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ مجوزہ چینی بینک(ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB ) میں شامل ہونگے کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ چینی بینک نظام بینکاری کے اعلیٰ اصولوں کی پاسداری کریگا، عالمی مالیاتی ماہرین اسے امریکا کے لیے ایک مالیاتی دھچکا سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ عالمی امور پر امریکا کا پرانا حلیف برطانیہ بھی اس چینی بینک میں شمولیت کا فیصلہ کرچکا ہے اور بینک کا بانی رکن بننے پر تیار ہوگیا ہے جسے اوباما انتظامیہ اورامریکی مالیاتی ماہرین پہلے سے موجود بینکوں اور مالیاتی اداروں کا رقیب قرار دے چکے ہیں۔

جب کہ آسٹریلیا اور جنوبی کوریا تاحال شمولیت کے معاملہ پر انتہائی نازک بات چیت اور بعض امور پر ڈپلومیسی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یاد رہے ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کا قیام گزشتہ سال بیجنگ میں عمل میں لایا گیا جس کا مقصد ایشیائی معیشتوں کو استحکام دلانا ہے تاکہ اس بینک کے ذریعے ٹرانسپورٹ، توانائی ، برقی مواصلات اور دیگر انفرااسٹرکچرل منصوبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پید ا ہوں۔


اسے امریکا اور اس کے بعض مالیاتی پنڈت عالمی بینک، آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے مقابل ایک حریف چینی منصوبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ یہ قوتیں چین کو عالمی افق پر دنیا کی ایک بہت بڑی معیشت کے طور پر ابھرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتیں۔ امریکا اپنے حلیفوں کی مدد سے ایک معاشی حلقہ ہائے زنجیر چین کے گرد ڈالنا چاہتا ہے جسے یورپی اتحادیوں نے ناکام بنایا ہے۔

اس لیے کہ ہر ملک کو اپنی اقتصادیات اور نظام بینکاری کی ترویج اور توسیع کا حق حاصل ہے، امریکی تشویش اپنی جگہ مگر عالمی نظام میں مساوات اور انصاف کی بنیاد پر اقوام عالم کو میرٹ پر ایسے بین المملکتی منصوبوں میں اشتراک عمل کرنا پڑیگا جس سے دنیا میں غربت ، لا علاجی اور عدم مساوات کا خاتمہ ہو ۔ نسل آدم وحوا کو جینے کا حق ملے اور استحصال کی ہر مکروہ شکل مٹائی جاسکے۔ چینی بینک کا قیام دیکھا جائے تو کوئی گناہ نہیں ہے، دنیا کے ہر ملک کا حق ہے کہ وہ میرٹ پر عالمی اقتصادی نظام اور بین الاقوامی نظام بینکاری سے اپنے معاشی اہداف کے لیے ہر ممکن تعاون حاصل کرسکے۔

اس پر کسی سپر پاور کی بالادستی کسی ملک کو گورا نہیں ہوگی ۔ بعض ماہرین بینکاری نے رائے دی ہے کہ چینی عالمی بینک کے قیام سے ایشیائی جمہوریتوں کو بیک فٹ پر جانا پڑیگا جب کہ برطانیہ کو چینی ڈکٹیشن پر کام کرنا ہوگا جب کہ کرپشن اور مخدوش ماحولیاتی عالمی صورتحال میں اس چینی بینک کے معیار کے حوالہ سے شکوک موجود رہیں گے۔ بہر حال چینی بینک مستقبل کی ایک اہم مالیاتی پیش رفت ہے جسے عالمی نظام بینکاری میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے۔
Load Next Story