صوبائی حکومتیں اور نئی تعلیمی پالیسی کے تقاضے
اس وقت ملک کو تعلیم و تدریس کے فروغ اور ناخواندگی کے خلاف جہاد کی ضرورت ہے۔
آزادانہ تحقیق کا ماحول پید ا کیا جائے تاکہ طالب علموں میں نئی سوچ بیدار ہو، فکری بالیدگی ، رواداری اور علم و تفکر کا دائرہ وسیع کرنے والا تعلیمی ماحول اجاگر ہو۔ فوٹو : فائل
لاہور:
صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ ایٹمی توانائی کے حصول کے بعد عالمی تعلیمی اداروں میں پاکستانی طلبہ کے داخلے کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے، تعلیمی ادارے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی تیاری کریں، منگل کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائڈ سائنسز کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کو ترقی کا زینہ بنانے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت کا خطاب وقت کے تعلیمی تقاضوں کے عین مطابق ہے، اس وقت ملک کو تعلیم و تدریس کے فروغ اور ناخواندگی کے خلاف جہاد کی ضرورت ہے۔ ادھر وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت انجینئرمحمد بلیغ الرحمن نے یقین دلایا ہے کہ آیندہ سال سے تعلیمی پالیسی کے تحت ملک بھر میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ہائی اسکولز شروع کیے جائیں گے۔
تعلیمی پالیسی میں فنی تعلیم کو شامل کیا جائے گا ، ان کا انداز نظر درست ہے ، طلباء و طالبات کو تعلیم برائے تعلیم کے بجائے فکری شعور ، عالمی سوچ اور فنی تربیت دینا حکومت کی ذمے داری ہے جب کہ ملک گیر پیمانہ پر تعلیمی اصلاحات اور تعلیمی اداروں میں بہتری لانے کے لیے شرح خواندگی بڑھانے کے اقدامات ناگزیر ہیں ۔تمام صوبائی حکومتوں کو جدید سائنسی اور تکنیکی تعلیم کے لیے ایسی پالیسی تشکیل دینی چاہیے کہ طبقاتی تعلیم کی جگہ ایک مربوط قومی تعلیمی میکنزم ہو جس کی روشنی میں نصاب کو قومی امنگوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
اسکولز، کالجز اور جامعات میں تعلیم و تدریس سے اساتذہ کی کمٹمنٹ کو مربوط شکل دی جائے۔ آزادانہ تحقیق کا ماحول پید ا کیا جائے تاکہ طالب علموں میں نئی سوچ بیدار ہو، فکری بالیدگی ، رواداری اور علم و تفکر کا دائرہ وسیع کرنے والا تعلیمی ماحول اجاگر ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے طلبہ و طالبات کو جدید سائنسی علوم اور دیگر موضوعات پر آزادانہ طریقے سے علمی گفتگو اور بحث مباحثہ پر تیار کیا جائے ۔
صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ ایٹمی توانائی کے حصول کے بعد عالمی تعلیمی اداروں میں پاکستانی طلبہ کے داخلے کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے، تعلیمی ادارے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی تیاری کریں، منگل کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائڈ سائنسز کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کو ترقی کا زینہ بنانے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت کا خطاب وقت کے تعلیمی تقاضوں کے عین مطابق ہے، اس وقت ملک کو تعلیم و تدریس کے فروغ اور ناخواندگی کے خلاف جہاد کی ضرورت ہے۔ ادھر وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت انجینئرمحمد بلیغ الرحمن نے یقین دلایا ہے کہ آیندہ سال سے تعلیمی پالیسی کے تحت ملک بھر میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ہائی اسکولز شروع کیے جائیں گے۔
تعلیمی پالیسی میں فنی تعلیم کو شامل کیا جائے گا ، ان کا انداز نظر درست ہے ، طلباء و طالبات کو تعلیم برائے تعلیم کے بجائے فکری شعور ، عالمی سوچ اور فنی تربیت دینا حکومت کی ذمے داری ہے جب کہ ملک گیر پیمانہ پر تعلیمی اصلاحات اور تعلیمی اداروں میں بہتری لانے کے لیے شرح خواندگی بڑھانے کے اقدامات ناگزیر ہیں ۔تمام صوبائی حکومتوں کو جدید سائنسی اور تکنیکی تعلیم کے لیے ایسی پالیسی تشکیل دینی چاہیے کہ طبقاتی تعلیم کی جگہ ایک مربوط قومی تعلیمی میکنزم ہو جس کی روشنی میں نصاب کو قومی امنگوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
اسکولز، کالجز اور جامعات میں تعلیم و تدریس سے اساتذہ کی کمٹمنٹ کو مربوط شکل دی جائے۔ آزادانہ تحقیق کا ماحول پید ا کیا جائے تاکہ طالب علموں میں نئی سوچ بیدار ہو، فکری بالیدگی ، رواداری اور علم و تفکر کا دائرہ وسیع کرنے والا تعلیمی ماحول اجاگر ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے طلبہ و طالبات کو جدید سائنسی علوم اور دیگر موضوعات پر آزادانہ طریقے سے علمی گفتگو اور بحث مباحثہ پر تیار کیا جائے ۔