پاکستان جی ایس پی پلس سے فائدہ اٹھائے برطانوی ہائی کمشنر

ٹی ڈی اے پی کی جانب سے پہلی مرتبہ لندن میں 7 جون2015 سے عالیشان پاکستان نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے.

مزید کمپنیاں توانائی ودیگرشعبوں میں دلچسپی لے رہی ہیں، کاٹی کے عشائیے سے خطاب۔ فوٹو: فائل

کراچی میں تعینات برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر اور ڈائریکٹر ٹریڈ وسرمایہ کاری جون اے ٹک نوٹ نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کو برطانیہ میں بھارتی اوربنگلہ دیشی ٹیکسٹائل مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے، پاکستان اور برطانیہ کے مابین سال 2014 کے دوران تجارتی حجم میں 18فیصد اضافہ ہوا ہے .


کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کی جانب سے دیے گئے عشائیے کے موقع پر انھوں نے کہا کہ پاکستانی کی خوشحالی برطانیہ کے لیے خوش آئند ہے، پاکستانی برآمدکنندگان کو چاہیے کہ وہ برطانیہ کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ڈیزائن اورجدت کو متعارف کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 110 برطانوی کمپنیاں موجودہیں جبکہ توانائی، انفرااسٹرکچر، مائننگ، آئل اینڈگیس،تانبے، منرل اور اسٹون پر مزید کمپنیوں نے اپنی توجہ مرکوز کررکھی ہے جس کی بڑی وجہ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے 100 فیصد منافع اورمثبت پالیسیاں موجود ہیں۔

اس موقع پر ٹی ڈی اے پی کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیرنے کہا کہ ٹی ڈی اے پی کی جانب سے پہلی مرتبہ لندن میں 7 جون2015 سے عالیشان پاکستان نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو برطانوی تاجروسرمایہ کاروں اور عوام کوبھی قریب سے دیکھنے کا موقع میسر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں یورپی ممالک کے درآمدکنندگان کو بھی مدعو کیا جارہا ہے جبکہ امید ہے کہ برطانوی شہزادے اور دیگر اہم ترین برطانوی عہدیداران بھی نمائش میں شرکت کریں گے۔
Load Next Story