مصباح الحق ورلڈکپ کے بعد ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر ڈٹ گئے
ورلڈ کپ کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی قیادت جاری رکھوں گا، پاکستانی کپتان
ورلڈ کپ کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی قیادت جاری رکھوں گا، پاکستانی کپتان۔ فوٹو:اے ایف پی/فائل
قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق ورلڈکپ کے بعد ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے فیصلے پر ڈٹ گئے۔
بھارتی خبر رساں ادارے کو انٹر ویو دیتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ارادہ اٹل ہے، ٹیسٹ ٹیم کی قیادت بدستور جاری رکھوں گا، ورلڈ کپ کے ابتدائی میچز میں شکست کے باوجود ہمت نہیں ہاری، فائٹر ہوں کبھی ہتھیار نہیں ڈالتا، یاسر شاہ کو میدان میں اتارنے کے امکان کو مسترد نہیں کرسکتے۔
مصباح الحق نے کہا کہ میں نے ورلڈ کپ سے قبل ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا تھا، میں یہ واضح کرچکا ہوں کہ اس ایونٹ میں پرفارمنس کیسی ہی کیوں نہ ہو اور کوئی بھی نتیجہ نکلے میں ٹورنامنٹ کے بعد ون ڈے کرکٹ کو خیرباد کہہ دوں گا،البتہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت جاری رکھوں گا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے پی سی بی کو مشورہ دیاکہ ٹیم کی باگ ڈور کسی نوجوان کپتان کے ہاتھوںمیں سونپنی چاہیے تاکہ وہ لمبے عرصے تک یہ ذمہ داری سنبھال سکے۔
ایک سوال پر مصباح نے کہا کہ اس وقت ٹیم میں بہترین پرفارمرز موجود اور ہم ان کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں لیکن صلاحیتوں کے اعتبار سے یہ بہترین اور اسی وجہ سے ٹیم میں شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ابتدائی میچز ہارنے کے باوجود کبھی میرے ذہن میں کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا خدشہ نہیں آیا، میں ایک فائٹر ہوں اور کبھی ہتھیار نہیں ڈالتا،اس وقت بھی جب میں ٹیم میں ان آئوٹ ہورہا تھا ہمت نہیں ہاری۔ یاسر شاہ کے حوالے سے مصباح نے کہا کہ ہمیں کسی بھی کھلاڑی کی کبھی بھی ضرورت پڑسکتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ 15 رکنی اسکواڈ سے کسی کو سائیڈ لائن نہیں کیا گیا۔
مصباح نے مزید کہا کہ میں ناقدین کی باتوں پر دھیان نہیں دیتا بلکہ اپنی پوری توجہ صرف کھیل پر مرکوز رکھتا ہوں، انھوں نے میڈیا کو بھی کھیل کے فروغ کیلیے مثبت کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا۔
بھارتی خبر رساں ادارے کو انٹر ویو دیتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ارادہ اٹل ہے، ٹیسٹ ٹیم کی قیادت بدستور جاری رکھوں گا، ورلڈ کپ کے ابتدائی میچز میں شکست کے باوجود ہمت نہیں ہاری، فائٹر ہوں کبھی ہتھیار نہیں ڈالتا، یاسر شاہ کو میدان میں اتارنے کے امکان کو مسترد نہیں کرسکتے۔
مصباح الحق نے کہا کہ میں نے ورلڈ کپ سے قبل ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا تھا، میں یہ واضح کرچکا ہوں کہ اس ایونٹ میں پرفارمنس کیسی ہی کیوں نہ ہو اور کوئی بھی نتیجہ نکلے میں ٹورنامنٹ کے بعد ون ڈے کرکٹ کو خیرباد کہہ دوں گا،البتہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت جاری رکھوں گا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے پی سی بی کو مشورہ دیاکہ ٹیم کی باگ ڈور کسی نوجوان کپتان کے ہاتھوںمیں سونپنی چاہیے تاکہ وہ لمبے عرصے تک یہ ذمہ داری سنبھال سکے۔
ایک سوال پر مصباح نے کہا کہ اس وقت ٹیم میں بہترین پرفارمرز موجود اور ہم ان کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں لیکن صلاحیتوں کے اعتبار سے یہ بہترین اور اسی وجہ سے ٹیم میں شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ابتدائی میچز ہارنے کے باوجود کبھی میرے ذہن میں کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا خدشہ نہیں آیا، میں ایک فائٹر ہوں اور کبھی ہتھیار نہیں ڈالتا،اس وقت بھی جب میں ٹیم میں ان آئوٹ ہورہا تھا ہمت نہیں ہاری۔ یاسر شاہ کے حوالے سے مصباح نے کہا کہ ہمیں کسی بھی کھلاڑی کی کبھی بھی ضرورت پڑسکتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ 15 رکنی اسکواڈ سے کسی کو سائیڈ لائن نہیں کیا گیا۔
مصباح نے مزید کہا کہ میں ناقدین کی باتوں پر دھیان نہیں دیتا بلکہ اپنی پوری توجہ صرف کھیل پر مرکوز رکھتا ہوں، انھوں نے میڈیا کو بھی کھیل کے فروغ کیلیے مثبت کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا۔