201415 میں اب تک 199 دہشت گرد مارے گئے آئی جی سندھ
ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا، 74 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا، غلام حیدر جمالی
ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا، 74 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا، غلام حیدر جمالی۔ فوٹو: فائل
آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے کہا کہ ہے کہ سال 2014اور 2015 میں اب تک کالعدم تنظیموں کے 199دہشت گرد پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے جبکہ 74 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔
سینٹرل پولیس آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق گزشتہ روز نیشنل مینجمنٹ کالج اسلام آباد کے 102 ویں کورس کے شرکا کے ایک وفد نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سے ملاقات کی اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو، ایڈیشنل آئی جی کرائم برانچ خادم حسین بھٹی ، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز سندھ عبدالعلیم جعفری ، ڈی آئی جی ریپڈ ریسپانس فورس ڈاکٹر آفتاب پٹھان، ڈی آئی جی ایسٹ منیر احمد شیخ، اے آئی جی آپریشنز سندھ عامر فاروقی و دیگر سینئر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
آئی جی سندھ نے زیر تربیت شرکاء پر مشتمل وفد کو بتایا کہ 1961پولیس ایکٹ میں اصلاحات متعارف کرانے کے ضمن میں سفارشات کو تربیت دے کر حکومت سندھ کو قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے مسودہ ارسال کیا جا رہا ہے۔ پولیس ماڈرن خطوط پر منظم کیا جا رہا ہے جس میں کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ، اسپیشل برانچ کے تنظیمی ڈھانچے میں بہتری سمیت فارنسک ڈویژن کی اپ گریڈیشن اور ڈی این اے لیب کے قیام کے حوالے ہونے والی پیش رفت قابل ذکر ہے۔
سینٹرل پولیس آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق گزشتہ روز نیشنل مینجمنٹ کالج اسلام آباد کے 102 ویں کورس کے شرکا کے ایک وفد نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سے ملاقات کی اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو، ایڈیشنل آئی جی کرائم برانچ خادم حسین بھٹی ، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز سندھ عبدالعلیم جعفری ، ڈی آئی جی ریپڈ ریسپانس فورس ڈاکٹر آفتاب پٹھان، ڈی آئی جی ایسٹ منیر احمد شیخ، اے آئی جی آپریشنز سندھ عامر فاروقی و دیگر سینئر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
آئی جی سندھ نے زیر تربیت شرکاء پر مشتمل وفد کو بتایا کہ 1961پولیس ایکٹ میں اصلاحات متعارف کرانے کے ضمن میں سفارشات کو تربیت دے کر حکومت سندھ کو قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے مسودہ ارسال کیا جا رہا ہے۔ پولیس ماڈرن خطوط پر منظم کیا جا رہا ہے جس میں کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ، اسپیشل برانچ کے تنظیمی ڈھانچے میں بہتری سمیت فارنسک ڈویژن کی اپ گریڈیشن اور ڈی این اے لیب کے قیام کے حوالے ہونے والی پیش رفت قابل ذکر ہے۔