نیتن یاہو کی جیت

اسرائیل کی تمام سیاسی جماعتیں ایک جیسی ہیں اور اس سے فلسطین یا اسلامی دنیا پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 65 فیصد رہی تھی اور لیکود نے اسرائیلی پارلیمان کی کل 120 نشستوں میں سے 30 جب کہ صیہونی یونین نے 24 نشستیں حاصل کرلیں۔ فوٹو : فائل

نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ ظلم و ستم کی انتہا کرنے والی اسرائیلی حکومت کے سربراہ بنیامین نیتن یاہو کی لیکود پارٹی نے اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں غیر متوقع طور پر کامیابی حاصل کر لی ہے اور ان کے مسلسل تیسری مرتبہ حکومت بنانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، حالانکہ پولنگ کے بعد ابتدائی انتخابی جائزوں میں کہا گیا تھا کہ نہ تو حکمران جماعت لیکود پارٹی اور نہ ہی اس کا مخالف صیہونی اتحاد واضح کامیابی حاصل کر پائے گا۔ منگل کو ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 65 فیصد رہی تھی اور لیکود نے اسرائیلی پارلیمان کی کل 120 نشستوں میں سے 30 جب کہ صیہونی یونین نے 24 نشستیں حاصل کرلیں۔


نیتن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ انھیں اپنی پارٹی کی جیت کی کوئی امید نہیں تھی تاہم اب انھیں دائیں بازو کی دیگر چھوٹی پارٹیوں کو الحاق کر کے حکومت سازی کرنا پڑے گی اس طرح وہ اسرائیل میں طویل ترین عرصے تک حکومت کرنے والے وزیرِ اعظم بن جائیں گے۔ ادھر ایران نے نیتن یاہو کی انتخابات میں جیت کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کی تمام سیاسی جماعتیں ایک جیسی ہیں اور اس سے فلسطین یا اسلامی دنیا پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ادھر نیتن یاہو نے کامیابی کی اطلاع ملتے ہی شہر کے مغرب میں واقع ''دیوار گریہ'' پر حاضری دی جو یہودیوں کی سب سے مقدس عبادت گاہ ہے۔

اس دیوار سے لپٹ کر یہودی روتے ہیں۔ نیتن یاہو کی انتخابی جیت سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ اسرائیلی عوام نیتن یاہو کی فلسطینیوں کے خلاف ظلم و استبداد اور مزید فلسطینی اراضی پر قبضے کر کے نئی نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کی پالیسیوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ادھر فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ انھیں خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد میں مزید تیزی لانی پڑے گی۔ یہ بات بالائے فہم ہے کہ آخر عالمی عدالت انصاف تک پہنچنے میں اس قدر تاخیر کیوں روا رکھی جا رہی ہے۔ ادھر فلسطینی صدر محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی ایسی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں جو فلسطینی ریاست کی حمایت کرے۔
Load Next Story