گورنر نے شاہراہ پاکستان پر تیسرے فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھ دیا
369ملین لاگت آئیگی، لیاقت آباد ڈاکخانہ چورنگی پر زیر تعمیر فلائی اوور 6ماہ میں مکمل ہوگا.
تعمیراتی کام24گھنٹے بغیر کسی تعطل کے کیا جائے،ڈاکٹر عشرت العباد کی عملے کو ہدایت۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے شاہراہ پاکستان پر تعمیر ہونے والے تیسرے فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
ڈاکخانہ لیاقت آباد چورنگی پر369 ملین روپے کی لاگت سے بننے والے اس فلائی اوور کو چھ ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا جائیگا، تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العبادخان نے ڈاکخانہ چورنگی انٹرسیکشن پر فلائی اوور کا سنگ بنیاد آج رکھا، شاہراہ پاکستان کو سگنل فری کرنے کیلیے بیک وقت چار فلائی اوورز تعمیر کیے جارہے ہیں جن میں واٹر پمپ، عائشہ منزل، ڈاکخانہ اور تین ہٹی چورنگی شامل ہیں، اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد، صوبائی وزیر بیوروآف سپلائز اینڈ پرائس شعیب بخاری، ڈائریکٹر جنرل ٹیکنکل سروسزالطاف جی میمن ودیگر افسران بھی موجود تھے۔
اس موقع پر گورنر سندھ نے اپنے خطاب میں کہاکہ شاہراہ پاکستان انتہائی اہم شاہراہ ہے جو شہر کو سپرہائی وے سے ملاتی ہے جبکہ اس شاہراہ پر پبلک ٹرانسپورٹ کے15سے زائد روٹس چلتے ہیں، ان روٹس کی گاڑیوں بسوں اور منی بسوں کی مجموعی تعداد 6000کے قریب ہے، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیاکہ اس شاہراہ کو سپرہائی وے تک سگنل فری کیا جائے تاکہ ٹریفک آسانی سے گزرسکے، شاہراہ پاکستان کے دونوں اطراف انتہائی گنجان آبادی ہے اور اس مرکزی شاہراہ سے کئی اندرونی سڑکیں آکر ملتی ہیں جس کے باعث یہاں ان چاروں چورنگیوں پر ٹریفک جام رہنے کی وجہ سے شہریوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، گورنر نے ہدایت کی کہ فلائی اوور پر24گھنٹے بغیر کسی تعطل کے کام کیا جائے تاکہ شہریوں کو کم سے کم تکالیف کا سامنا کرنا پڑے۔
ڈاکخانہ لیاقت آباد چورنگی پر369 ملین روپے کی لاگت سے بننے والے اس فلائی اوور کو چھ ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا جائیگا، تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العبادخان نے ڈاکخانہ چورنگی انٹرسیکشن پر فلائی اوور کا سنگ بنیاد آج رکھا، شاہراہ پاکستان کو سگنل فری کرنے کیلیے بیک وقت چار فلائی اوورز تعمیر کیے جارہے ہیں جن میں واٹر پمپ، عائشہ منزل، ڈاکخانہ اور تین ہٹی چورنگی شامل ہیں، اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد، صوبائی وزیر بیوروآف سپلائز اینڈ پرائس شعیب بخاری، ڈائریکٹر جنرل ٹیکنکل سروسزالطاف جی میمن ودیگر افسران بھی موجود تھے۔
اس موقع پر گورنر سندھ نے اپنے خطاب میں کہاکہ شاہراہ پاکستان انتہائی اہم شاہراہ ہے جو شہر کو سپرہائی وے سے ملاتی ہے جبکہ اس شاہراہ پر پبلک ٹرانسپورٹ کے15سے زائد روٹس چلتے ہیں، ان روٹس کی گاڑیوں بسوں اور منی بسوں کی مجموعی تعداد 6000کے قریب ہے، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیاکہ اس شاہراہ کو سپرہائی وے تک سگنل فری کیا جائے تاکہ ٹریفک آسانی سے گزرسکے، شاہراہ پاکستان کے دونوں اطراف انتہائی گنجان آبادی ہے اور اس مرکزی شاہراہ سے کئی اندرونی سڑکیں آکر ملتی ہیں جس کے باعث یہاں ان چاروں چورنگیوں پر ٹریفک جام رہنے کی وجہ سے شہریوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، گورنر نے ہدایت کی کہ فلائی اوور پر24گھنٹے بغیر کسی تعطل کے کام کیا جائے تاکہ شہریوں کو کم سے کم تکالیف کا سامنا کرنا پڑے۔