جلد باز بیٹسمینوں نے سابق کرکٹرز کو آگ بگولا کر دیا
ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہر بیٹسمین اسکور بڑھانے کے بجائے وکٹ گنوانے ہی میدان میں آیا ہے، میانداد
ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہر بیٹسمین اسکور بڑھانے کے بجائے وکٹ گنوانے ہی میدان میں آیا ہے، میانداد۔ فوٹو: فائل
ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں پاکستانی بیٹسمینوں کی جلد بازی پر سابق کرکٹرز بھی آگ بگولا ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں قومی ٹیم کی کینگروز کیخلاف شکست پر شائقین کی طرح سابق ٹیسٹ کرکٹرز بھی سخت نالاں ہیں۔ سابق کپتان جاوید میانداد نے کہاکہ فیصلہ کن مقابلے میں بیٹسمینوں نے خود کشی کی، تمام کھلاڑی غلط شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہر بیٹسمین اسکور بڑھانے کے بجائے وکٹ گنوانے ہی میدان میں آیا ہے۔
سابق بیٹسمین محمد یوسف نے کہا کہ مصباح الحق کے خراب فیصلے شکست کی وجہ بنے، وہ5 سال سے قومی ٹیم کے کپتان ہیں لیکن اس سارے عرصے کے دوران قوت فیصلہ سے محروم نظر آئے، کئی مواقع پرانھوں نے سلیکشن کے معاملات پر کوئی موقف اپنانے کے بجائے جو ٹیم ملی اسی پراکتفا کیا۔
یوسف نے کہا کہ سرفراز احمد کو ابتدائی میچز میں نہیں کھلایاگیا اور مصباح نے اس پر بھی کوئی سوال نہ اٹھایا، جب اسے ٹیم میں شامل کیا گیا تو ثابت کر دیا کہ وہ اچھا کھلاڑی ہے، اگر وقار یونس کو یہ نہیں پتا تھا کہ سرفراز اوپنر بھی ہے تو کیا مصباح کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا؟ سابق اوپنر عامر سہیل نے کہا کہ کیچز ڈراپ ہونا سسٹم میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، فرسٹ کلاس مقابلے کے دوران کسی بھی کھلاڑی کا فیلڈنگ کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔
سابق اوپنر رمیز راجہ نے کہا کہ اسٹارک اور مچل جانسن سے پاکستانی بیٹسمین خوف زدہ نظر آئے۔ 11میں سے 8 کھلاڑی ڈبل فیگرز میں داخل ہوئے لیکن حیران کن حد تک کوئی بھی نصف سنچری مکمل نہ کر سکا۔ انھوں نے کہا کہ کسی پلیئر میں خود اعتمادی ہی اچھی کارکردگی کی ضمانت ہوتی ہے، میانداد کو خود پر اعتماد ہوتا تھا کہ وہ کریز پر موجود رہے تو ٹیم کو جتوا دیں گے، موجودہ کھلاڑیوں میں خود اعتمادی کی کمی ہے۔ اگر کوئی بیٹسمین 40 رنز بھی بنا لے تو سمجھتا ہے کہ ''تکا'' لگا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں قومی ٹیم کی کینگروز کیخلاف شکست پر شائقین کی طرح سابق ٹیسٹ کرکٹرز بھی سخت نالاں ہیں۔ سابق کپتان جاوید میانداد نے کہاکہ فیصلہ کن مقابلے میں بیٹسمینوں نے خود کشی کی، تمام کھلاڑی غلط شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہر بیٹسمین اسکور بڑھانے کے بجائے وکٹ گنوانے ہی میدان میں آیا ہے۔
سابق بیٹسمین محمد یوسف نے کہا کہ مصباح الحق کے خراب فیصلے شکست کی وجہ بنے، وہ5 سال سے قومی ٹیم کے کپتان ہیں لیکن اس سارے عرصے کے دوران قوت فیصلہ سے محروم نظر آئے، کئی مواقع پرانھوں نے سلیکشن کے معاملات پر کوئی موقف اپنانے کے بجائے جو ٹیم ملی اسی پراکتفا کیا۔
یوسف نے کہا کہ سرفراز احمد کو ابتدائی میچز میں نہیں کھلایاگیا اور مصباح نے اس پر بھی کوئی سوال نہ اٹھایا، جب اسے ٹیم میں شامل کیا گیا تو ثابت کر دیا کہ وہ اچھا کھلاڑی ہے، اگر وقار یونس کو یہ نہیں پتا تھا کہ سرفراز اوپنر بھی ہے تو کیا مصباح کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا؟ سابق اوپنر عامر سہیل نے کہا کہ کیچز ڈراپ ہونا سسٹم میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، فرسٹ کلاس مقابلے کے دوران کسی بھی کھلاڑی کا فیلڈنگ کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔
سابق اوپنر رمیز راجہ نے کہا کہ اسٹارک اور مچل جانسن سے پاکستانی بیٹسمین خوف زدہ نظر آئے۔ 11میں سے 8 کھلاڑی ڈبل فیگرز میں داخل ہوئے لیکن حیران کن حد تک کوئی بھی نصف سنچری مکمل نہ کر سکا۔ انھوں نے کہا کہ کسی پلیئر میں خود اعتمادی ہی اچھی کارکردگی کی ضمانت ہوتی ہے، میانداد کو خود پر اعتماد ہوتا تھا کہ وہ کریز پر موجود رہے تو ٹیم کو جتوا دیں گے، موجودہ کھلاڑیوں میں خود اعتمادی کی کمی ہے۔ اگر کوئی بیٹسمین 40 رنز بھی بنا لے تو سمجھتا ہے کہ ''تکا'' لگا ہے۔