بینکنگ محتسب کا ادارہ سربراہ کی تعیناتی کا منتظر

اسٹیٹ بینک اورایوان صدر سربراہ کیلیے شخصیت کے انتخاب میں ناکام ہوگئے.

صارفین کو مسائل کے حل میں مشکلات کا سامنا،تنازعات کے معاملات زیر التوا

بینکنگ محتسب کا ادارہ گذشتہ پانچ ماہ سے محتسب کی تعیناتی کا منتظر ہے۔


محتسب کی عدم تقرری کی وجہ سے صارفین کو بینکوں سے درپیش مسائل کے حل میں مشکلات کا سامنا ہے اور زیرالتوا شکایات کی تعداد میں بھی نمایاں اضافے کا خدشہ ہے، صارفین کی بینکوں سے متعلق شکایات کے ازالے اور تنازعات و مصالحت کیلیے متعین بینکنگ محتسب منصور الرحمن خان کے عہدے کی مدت مئی 2012 میں مکمل ہوچکی ہے، تاہم ابھی تک نئے محتسب کی تقرری عمل میں نہیں لائی گئی، محتسب کی تقرری اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی سفارش سے صدر پاکستان کی جانب سے عمل میں لائی جاتی ہے ۔

تاہم 5 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسٹیٹ بینک اور ایوان صدر اس اہم ترین ادارے کے سربراہ کے لیے شخصیت کا انتخاب کرنے میں ناکام ہیںاور بینکنگ کمپنیز آرڈیننس کے تحت وجود میں آنے والا یہ ادارہ بغیرسربراہ کے کام کررہا ہے،بینکنگ محتسب کا ادارہ بینکنگ انڈسٹری اور صارفین کے درمیان پل کا کردار ادا کررہا ہے بالخصوص بینک فراڈ، جبری اور اضافی ریکوری اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ہونیوالے فراڈ اور بے قاعدگیوں سے پیدا ہونیو الے مسائل کے
Load Next Story