مستقبل کیلیے ابھی سے منصوبہ بنانا ہوگا حنیف محمد
کوارٹر فائنل میں رسائی خوش نصیبی تھی، مصباح اور آفریدی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، سابق قائد
کوارٹر فائنل میں رسائی خوش نصیبی تھی، مصباح اور آفریدی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، سابق قائد۔ فوٹو: فائل
سابق ٹیسٹ کپتان حنیف محمد نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ کوارٹر فائنل تک رسائی پاکستان کی خوش نصیبی تھی لیکن اس مرحلے میں بیٹسمینوں نے بہت مایوس کن کھیل پیش کیا، مستقبل کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
نمائندہ ''ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے دورکے عظیم بیٹسمین نے کہا کہ ابتدائی مقابلوں میں ناکامیوں کے بعد پاکستان ورلڈ کپ میں دوبارہ واپس آگیا تھا لیکن کوارٹر فائنل میں بیٹسمینوں نے بہت مایوس کیا، یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ہمارے کھلاڑیوں کو کس بات کی جلدی تھی، انھوں نے صورتحال کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے وکٹ پر رکنے اور سنگلز لینے کے بجائے غیر معقول انداز میں اسٹروک کھیل کر اپنی وکٹیں گنوائیں،انھوں نے کہا کہ سعید اجمل، محمد حفیظ اور جنید خان کے بعد طویل القامت فاسٹ بولرعرفان کی عدم موجودگی قومی ٹیم کے لیے دھچکا رہی۔
وہاب ریاض نے بحرانی حالات میں اپنا کردار اچھی طرح نبھایا تاہم مایوس کن بیٹنگ اور ناقص فیلڈنگ شکست کے عوامل میں شامل ہیں، انھوں نے ون ڈے کرکٹ کو خیر باد کہنے والے کپتان مصباح الحق اور شاہد آفریدی کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا،ایک اور سابق قومی کپتان راشد لطیف نے کہا کہ دستیاب کھلاڑیوں کی موجودگی میں عالمی کپ میں پاکستان کی بحیثیت مجموعی کارکردگی مناسب رہی لیکن سارا ملبہ کرکٹرز پرنہ ڈالا جائے۔
اب وقت آگیا کہ نظام میں تبدیلی لانے کی کو شش کی جائے، اسکے بغیرقومی کرکٹ کوبہتربنانا ممکن نہیں، انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آسٹریلیا کیخلاف ہماری بیٹنگ لائن کلک نہ کرسکی، وہاب ریاض نے مشکل حالات میں مرد آہن کا کردار ادا کیا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، راشد لطیف نے کہا کہ آل راؤنڈر شاہد آفریدی جیسے کرکٹرز مدتوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں جبکہ کپتان مصباح الحق نے اپنے دھیمے پن اور ٹھنڈے مزاج کی بدولت خودکو منوالیا۔
نمائندہ ''ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے دورکے عظیم بیٹسمین نے کہا کہ ابتدائی مقابلوں میں ناکامیوں کے بعد پاکستان ورلڈ کپ میں دوبارہ واپس آگیا تھا لیکن کوارٹر فائنل میں بیٹسمینوں نے بہت مایوس کیا، یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ہمارے کھلاڑیوں کو کس بات کی جلدی تھی، انھوں نے صورتحال کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے وکٹ پر رکنے اور سنگلز لینے کے بجائے غیر معقول انداز میں اسٹروک کھیل کر اپنی وکٹیں گنوائیں،انھوں نے کہا کہ سعید اجمل، محمد حفیظ اور جنید خان کے بعد طویل القامت فاسٹ بولرعرفان کی عدم موجودگی قومی ٹیم کے لیے دھچکا رہی۔
وہاب ریاض نے بحرانی حالات میں اپنا کردار اچھی طرح نبھایا تاہم مایوس کن بیٹنگ اور ناقص فیلڈنگ شکست کے عوامل میں شامل ہیں، انھوں نے ون ڈے کرکٹ کو خیر باد کہنے والے کپتان مصباح الحق اور شاہد آفریدی کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا،ایک اور سابق قومی کپتان راشد لطیف نے کہا کہ دستیاب کھلاڑیوں کی موجودگی میں عالمی کپ میں پاکستان کی بحیثیت مجموعی کارکردگی مناسب رہی لیکن سارا ملبہ کرکٹرز پرنہ ڈالا جائے۔
اب وقت آگیا کہ نظام میں تبدیلی لانے کی کو شش کی جائے، اسکے بغیرقومی کرکٹ کوبہتربنانا ممکن نہیں، انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آسٹریلیا کیخلاف ہماری بیٹنگ لائن کلک نہ کرسکی، وہاب ریاض نے مشکل حالات میں مرد آہن کا کردار ادا کیا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، راشد لطیف نے کہا کہ آل راؤنڈر شاہد آفریدی جیسے کرکٹرز مدتوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں جبکہ کپتان مصباح الحق نے اپنے دھیمے پن اور ٹھنڈے مزاج کی بدولت خودکو منوالیا۔