عبداللہ شاہ غازی ؒمزار پر شہید زائرین کی یاد میں اجتماع
شہدا کے پیاروں اور دیگر کی مزار پر حاضری،جائے حادثہ پر پھول رکھے،شمعیں روشن کیں.
عبد اللہ شاہ غازیؒ کے مزار پر دوسال قبل دھماکے میںشہید ہونیوالے زائرین کی برسی پر لواحقین ان کی یاد میں شمعیں روشن کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی بزرگ سید عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار پر بم دھماکے کے دو سال مکمل ہونے پرعبداللہ شاہ غازی کے مزار پر اجتماع منعقد ہوا۔
اس موقع پر سماجی شخصیات اور شہدا کے پیاروں نے مزار پر حاضری دی،جائے حادثہ پر پھول رکھے اور شہدا کی یاد میں شمعیں روشن کیں، مزار کے احاطے میں اتوار کو منعقدہ اجتماع میں شہدا کے درجات کی بلندی کیلیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی،واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2010ء کو مزار پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک خاتون سمیت 9 زائرین شہید جبکہ دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے خودکش حملہ آور منصوبہ بندی کے تحت مزار کے احاطے کے اندر دھماکہ کرنا چاہتے تھے مگر سخت سیکیورٹی کے باعث انھوں نے مزار کے گیٹ پر ہی خود کو اڑا لیا تھا جس کے باعث ان کی سازش ناکام ہوگئی تھی۔
دہشت گرد عبداللہ شاہ غازیؒ کے عقیدت مندوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ مزار کا رخ نہ کریں مگر بم دھماکے کے بعد مزار پر آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بم دھماکے سے قبل مزار پر آنے والے زائرین کی سالانہ تعداد 25 لاکھ کے لگ بھگ تھی جو بم دھماکے کے بعد بڑھ کر ایک اندازے کے مطابق 75 لاکھ سالانہ ہوچکی ہے۔
اس موقع پر سماجی شخصیات اور شہدا کے پیاروں نے مزار پر حاضری دی،جائے حادثہ پر پھول رکھے اور شہدا کی یاد میں شمعیں روشن کیں، مزار کے احاطے میں اتوار کو منعقدہ اجتماع میں شہدا کے درجات کی بلندی کیلیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی،واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2010ء کو مزار پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک خاتون سمیت 9 زائرین شہید جبکہ دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے خودکش حملہ آور منصوبہ بندی کے تحت مزار کے احاطے کے اندر دھماکہ کرنا چاہتے تھے مگر سخت سیکیورٹی کے باعث انھوں نے مزار کے گیٹ پر ہی خود کو اڑا لیا تھا جس کے باعث ان کی سازش ناکام ہوگئی تھی۔
دہشت گرد عبداللہ شاہ غازیؒ کے عقیدت مندوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ مزار کا رخ نہ کریں مگر بم دھماکے کے بعد مزار پر آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بم دھماکے سے قبل مزار پر آنے والے زائرین کی سالانہ تعداد 25 لاکھ کے لگ بھگ تھی جو بم دھماکے کے بعد بڑھ کر ایک اندازے کے مطابق 75 لاکھ سالانہ ہوچکی ہے۔