کراچی کیلیے 500 ارب کے پیکیج کااعلان کیاجائے سراج الحق
جوڈیشل کمیشن کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں، امیر جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس
ملک کے دیگرحلقوں کی طرح کراچی میں ہونے والے جعلی الیکشن کا بھی ازسرنوجائزہ لیاجائے، سراج الحق فوٹو: فائل
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جوڈیشینل کمیشن کے قیام کاخیرمقدم کرتے ہیں،کراچی آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں، ڈاکوئوں اور بھتہ خوروں کیخلاف ہونا چاہیے، مرکزی حکومت کراچی کی ترقی کیلیے 500 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کرے ۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتے کو ادارہ نورحق میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر امیرجماعت اسلامی بلوچستان عبدالمتین اخونزادہ ، کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، نائب امرا اسامہ رضی، برجیس احمد، مسلم پرویز، عبدالوہاب و دیگربھی موجود تھے۔سراج الحق نے کہا کہ چند بیریئر کے ہٹانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا کراچی میں مستقل امن کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے، کراچی کو پرامن بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے ۔
جعلی مینڈیٹ کی وجہ سے ہی اہل کراچی کے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ملک کے دیگرحلقوں کی طرح کراچی میں ہونے والے جعلی الیکشن کا بھی ازسرنوجائزہ لیاجائے تاکہ عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی ترجمانی ہوسکے، ،اسلام آبادکے منفی اور متعصبانہ رویے نے ہی بلوچستان کوآتش فشاں بنایا ہے،جوڈیشل کمیشن کا قیام ہمارے سیاسی جرگے اور پوری سیاسی قیادت کی کامیابی ہے اوراس کو یقینی بنانے میںکرداراداکرنے والے تما م لوگ قابل مبارکباد ہیں۔
سراج الحق نے کہاکہ ایک اسلامی،خوشحال اور ترقی یافتہ کراچی ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے،آج سے ادارہ نورحق صرف جماعت اسلامی کے تنظیمی دفترکے بجائے یوتھ سینٹر ہوگا، کراچی آپریشن کے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں ٹارگٹڈ آپریشن میں نیٹوکااسلحہ برآمد ہوا ہے یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہونا چاہیے،عدالت کے بغیرکسی کو بھی سزا دینے کے ہم خلاف ہیں لیکن عدالتوں کوبھی مکمل آزاد ہونا چاہیے ۔انھوں نے کہا کہ کراچی کے بنیادی مسائل حل کیے بغیر حالات بہتر نہیں ہو ں گے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتے کو ادارہ نورحق میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر امیرجماعت اسلامی بلوچستان عبدالمتین اخونزادہ ، کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، نائب امرا اسامہ رضی، برجیس احمد، مسلم پرویز، عبدالوہاب و دیگربھی موجود تھے۔سراج الحق نے کہا کہ چند بیریئر کے ہٹانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا کراچی میں مستقل امن کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے، کراچی کو پرامن بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے ۔
جعلی مینڈیٹ کی وجہ سے ہی اہل کراچی کے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ملک کے دیگرحلقوں کی طرح کراچی میں ہونے والے جعلی الیکشن کا بھی ازسرنوجائزہ لیاجائے تاکہ عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی ترجمانی ہوسکے، ،اسلام آبادکے منفی اور متعصبانہ رویے نے ہی بلوچستان کوآتش فشاں بنایا ہے،جوڈیشل کمیشن کا قیام ہمارے سیاسی جرگے اور پوری سیاسی قیادت کی کامیابی ہے اوراس کو یقینی بنانے میںکرداراداکرنے والے تما م لوگ قابل مبارکباد ہیں۔
سراج الحق نے کہاکہ ایک اسلامی،خوشحال اور ترقی یافتہ کراچی ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے،آج سے ادارہ نورحق صرف جماعت اسلامی کے تنظیمی دفترکے بجائے یوتھ سینٹر ہوگا، کراچی آپریشن کے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں ٹارگٹڈ آپریشن میں نیٹوکااسلحہ برآمد ہوا ہے یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہونا چاہیے،عدالت کے بغیرکسی کو بھی سزا دینے کے ہم خلاف ہیں لیکن عدالتوں کوبھی مکمل آزاد ہونا چاہیے ۔انھوں نے کہا کہ کراچی کے بنیادی مسائل حل کیے بغیر حالات بہتر نہیں ہو ں گے۔