بھارت سے سیمی فائنل آسٹریلیا نے لفظی گولے برسانا شروع کردیے
دھونی الیون ورلڈ کپ سے پہلے ہمارے ہاتھوں ملنے والی شکستوں کو یاد رکھے، میکسویل
دھونی الیون ورلڈ کپ سے پہلے ہمارے ہاتھوں ملنے والی شکستوں کو یاد رکھے، میکسویل، فوٹو : فائل
ورلڈ کپ میں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرا سیمی فائنل اگرچہ جمعرات کو شیڈول ہے لیکن میزبان پلیئرز نے دھونی الیون پر لفظی گولے برسانا شروع کردیے۔
آسٹریلوی آل راؤنڈر گلین میکسویل نے اس سلسلے کی شروعات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ورلڈ کپ سے قبل باہمی سیریزمیں ہمارے ہاتھوں ملنے والی شکستوں کو یاد رکھے، وہ ایک بھی میچ نہیں جیت پائے تھے، امید ہے کہ یہ بات ان کے دل و دماغ میں واضح ہوگی، میکسویل نے مزید کہا کہ جمعرات کو ہونے والے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھی آسٹریلیا کی ٹیم اپنی جیت کا یہ سلسلہ جاری رکھے گی، بھارتی ٹیم لیگ کے تمام مراحل جیت کر ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچی ہے، وہ ابھی تک حریفوں کیلیے ناقابل تسخیر رہی ہے۔
اس بابت میکسویل نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں دھونی الیون کو اپنا شکار بنایا تھا، ہمارے خلاف باہمی سیریز میں وہ ایک بھی میچ نہیں جیت پائے تھے، مجھے پورا یقین ہے یہ بات ان کے دل و دماغ میں موجود ہوگی،میکسویل نے مزید کہا کہ جس حکمت عملی کے ساتھ ہم نے اس سے قبل بھارتی ٹیم کا سامنا کیا تھا ، جمعرات کو سیمی فائنل میں بھی اسی منصوبہ بندی کے ساتھ میدان میں اتریں گے، دھونی الیون کے بہترین ہونے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اگروہ اچھی ٹیم نہیں ہوتے تو سیمی فائنل تک کیسے پہنچ پاتے۔
آسٹریلوی آل راؤنڈر گلین میکسویل نے اس سلسلے کی شروعات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ورلڈ کپ سے قبل باہمی سیریزمیں ہمارے ہاتھوں ملنے والی شکستوں کو یاد رکھے، وہ ایک بھی میچ نہیں جیت پائے تھے، امید ہے کہ یہ بات ان کے دل و دماغ میں واضح ہوگی، میکسویل نے مزید کہا کہ جمعرات کو ہونے والے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھی آسٹریلیا کی ٹیم اپنی جیت کا یہ سلسلہ جاری رکھے گی، بھارتی ٹیم لیگ کے تمام مراحل جیت کر ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچی ہے، وہ ابھی تک حریفوں کیلیے ناقابل تسخیر رہی ہے۔
اس بابت میکسویل نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں دھونی الیون کو اپنا شکار بنایا تھا، ہمارے خلاف باہمی سیریز میں وہ ایک بھی میچ نہیں جیت پائے تھے، مجھے پورا یقین ہے یہ بات ان کے دل و دماغ میں موجود ہوگی،میکسویل نے مزید کہا کہ جس حکمت عملی کے ساتھ ہم نے اس سے قبل بھارتی ٹیم کا سامنا کیا تھا ، جمعرات کو سیمی فائنل میں بھی اسی منصوبہ بندی کے ساتھ میدان میں اتریں گے، دھونی الیون کے بہترین ہونے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اگروہ اچھی ٹیم نہیں ہوتے تو سیمی فائنل تک کیسے پہنچ پاتے۔