قیامت خیز زلزلہ7سال گزرنے کے بعد بھی تعمیر نو کا کام مکمل نہ ہوسکا

جاں بحق ہونے والے افرادکی برسی آج منائی جائیگی،ملک بھرمیں دعائیہ تقاریب ہونگی

متاثرین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبور،آج پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے احتجاج کا اعلان۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
ملک بھر میں 8اکتوبر 2005ء کے زلزلہ میں جاں بحق ہونے والوں کی ساتویں برسی آج منائی جارہی ہے ۔

جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں ملک بھر میں دعائیہ تقاریب منعقد کی گی ،جس میں سب بڑی تقریب مظفرآباد میں ہوئی ،جہاں وزیراعظم آزاد کشمیر اس دعائیہ تقریب میں شریک ہوئے ۔8 اکتوبر 2005ء کو آنیوالے زلزلہ میں آزاد کشمیر اور ہزارہ ڈویژن میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی ۔ سیکڑوں مکان اور اسکول تباہ جبکہ ہزاروں افرادجاں بحق ہو گئے تھے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق قیامت خیز زلزلہ کے سات سال بعد بھی متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیرنو کا کام مکمل نہ ہو سکا ۔ ہزارہ ڈویژن کے زلزلہ سے متاثرہ 4 اضلاع میں ایبٹ آباد ، مانسہرہ ، بٹگرام اورکوہستان شامل ہیں۔ بالاکوٹ ، جہاں زلزلے نے12یونین کونسلوں کو تہ و بالا کر دیا تھا ،کے باسیوں نے آج پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ بالاکوٹ سے سابق ایم پی اے مظہر علی قاسم شاہ نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ابھی تک سیکڑوں متاثرین کو زرتلافی نہیں مل سکا ۔ انہوں نے بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں تاخیر کا ذمے دار ایرا اور پیرا کی غیرتسلی بخش کارکردگی کو ٹھہرایا۔


انھوں نے انکشاف کیا کہ ریڈزون کے رہائشی50 ہزار افراد آج بھی عارضی گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں ۔ 12بلین روپے کی لاگت سے نیو بالاکوٹ سٹی پراجیکٹ 2007ء میں شروع کیا گیا تھا جہاں ایرا نے 5ہزار خاندانوں کیلیے گھر بنانا تھے لیکن یہ پراجیکٹ ابھی تک تشنہ تکمیل ہے ۔ نیو بالاکوٹ سٹی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر آفاق احمد نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ یہ منصوبہ 2010ء میں مکمل ہونا تھا تاہم فنڈز کی سوات کے آئی ڈی پیز کو منتقلی اور اراضی کے حصول میں مشکلات کے باعث یہ ابھی نامکمل ہے ۔ مانسہرہ میں ایرا آفس کے ذرائع کے مطابق ضلع مانسہرہ میں 106930 میں سے 97850 رہائشی یونٹ مکمل ہو چکے ہیں ۔

ایک اور ذرائع کے مطابق تعلیمی شعبہ میں 1221اسکیموں میں سے600 مکمل کی جا چکی ہیں جبکہ صحت کے شعبہ میں48 میں سے25اسکیمیں مکمل ہو سکیں ۔ آزاد کشمیر کے زلزلہ سے متاثرہ 5اضلاع میں مظفرآباد ، وادی نیلم ، باغ ، راولاکوٹ اور سدھانوتی شامل ہیں جہاں ذرائع کے مطابق تعمیرنو اور بحالی کا صرف60 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے ۔ سیرا کے انچارج سردار رحیم نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ 40 فیصد کام 2014کے آخر تک مکمل ہو جائے گا ۔ بحالی کا کام جاری رکھنے کیلیے انہیں اگلے ایک سال کیلیے16ارب روپے درکار ہیں ۔ ادھر ضلع باغ میں زلزلہ سے64فیصد اسکول تباہ ہوگئے تھے ۔

ڈی ای او راجہ روشن جوہر کے مطابق 770 اسکولوں میں سے ابتک 273کی تعمیر ہی مکمل ہوسکی ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مقامی اور غیرملکی ڈونرز کے تعاون سے پایہ تکمیل کو پہنچے ۔ ڈی جی ایرا پلاننگ ونگ بریگیڈئر ( ر ) پرویز نیازی نے ایکسپریس ٹریبیون کے رابطہ کرنے پر کہا کہ تعمیرنو اور بحالی کے کاموں میں تاخیر کا ذمے دار ایرا کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔ زلزلہ کے بعد تقریباً 2.5 ارب ڈالر کی امداد آئی جو ایرا کو براہ راست نہیں ملی۔ حکومت نے یہ رقم وصول کی اور ایرا کیلئے کوئی الگ فنڈ مختص نہیں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ایرا کو اس کی ضرورت کے مطابق سالانہ فنڈز فراہم کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت ساری رقم چاہئے ۔2011 میں ہم نے 50ارب روپے کی درخواست کی تھی لیکن ہمیں سالانہ بجٹ میں صرف 8ارب روپے دیے گئے ۔
Load Next Story