امریکی امداد کیلئے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سمیت دیگر شرائط ختم
پاکستان کو امدادکا اجرا امریکا کے مفاد میں ہے،وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کیا
ہلیری کلنٹن نے13ستمبرکوکانگریس کوپیغام میں تصدیق کی کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ کی کئی شرائط پوری کردی ہیں. فوٹو رائٹرز
امریکانے پاکستان پرعائدوہ ضروری قانونی شرائط ختم کردیں جو رواں سال دو ارب ڈالر کی امریکی امداد سے مشروط کی گئی تھیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے نے امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ مالی سال 2012ء کے دوران پاکستان کو سویلین اور سیکیورٹی تعاون کی مد میں ملنے والی دو ارب ڈالر کی امداد سے مشروط وہ قانونی تقاضے اور لوازمات ختم کیے جائیں،ان شرائط میں حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی بھی شامل ہے،عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ سمجھتی ہے کہ یہ امداد خود امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔
ان شرائط کے حوالے سے ایک سرٹیفکیٹ دینا ہوگا کہ پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے امریکا کے ساتھ بھرپور تعاون کررہا ہے،جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو، جمہوریت اور دیگر مختلف شعبوں میں پیش رفت،جمہوریت اور دیگر معاملات میں پاکستانی حکومت کے تعاون کے حوالے سے رائے شامل ہوگی، یہ پہلی بار ہے کہ اوباما حکومت نے پاکستان کو امداد پرعائد شرائط ختم کی ہیں۔
این این آئی کے مطابق ہلیری کلنٹن نے13 ستمبر کو کانگریس کو بھجوائے جانے والے پیغام میں تصدیق کی کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کئی شرائط پوری کردی ہیں،ہلیری کلنٹن کی سفارشات کے بعد پاکستان کو امداد کے اجرا میں حائل رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی۔ امریکی شرائط کے مطابق دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ، پاکستان کی سرزمین پر تربیتی کیمپوں کا خاتمہ، سرحد پار حملوں کو روکنے کیلیے اقدامات کرنا اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے کانگریس کو پیغام میں اصرار کیا ہے کہ پاکستان کو امداد کا اجرا امریکا کے مفاد میں ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے نے امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ مالی سال 2012ء کے دوران پاکستان کو سویلین اور سیکیورٹی تعاون کی مد میں ملنے والی دو ارب ڈالر کی امداد سے مشروط وہ قانونی تقاضے اور لوازمات ختم کیے جائیں،ان شرائط میں حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی بھی شامل ہے،عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ سمجھتی ہے کہ یہ امداد خود امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔
ان شرائط کے حوالے سے ایک سرٹیفکیٹ دینا ہوگا کہ پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے امریکا کے ساتھ بھرپور تعاون کررہا ہے،جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو، جمہوریت اور دیگر مختلف شعبوں میں پیش رفت،جمہوریت اور دیگر معاملات میں پاکستانی حکومت کے تعاون کے حوالے سے رائے شامل ہوگی، یہ پہلی بار ہے کہ اوباما حکومت نے پاکستان کو امداد پرعائد شرائط ختم کی ہیں۔
این این آئی کے مطابق ہلیری کلنٹن نے13 ستمبر کو کانگریس کو بھجوائے جانے والے پیغام میں تصدیق کی کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کئی شرائط پوری کردی ہیں،ہلیری کلنٹن کی سفارشات کے بعد پاکستان کو امداد کے اجرا میں حائل رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی۔ امریکی شرائط کے مطابق دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ، پاکستان کی سرزمین پر تربیتی کیمپوں کا خاتمہ، سرحد پار حملوں کو روکنے کیلیے اقدامات کرنا اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے کانگریس کو پیغام میں اصرار کیا ہے کہ پاکستان کو امداد کا اجرا امریکا کے مفاد میں ہے۔