دہشت گردی کی جنگ جیتنے کا عزم

پاک فوج نے اب ڈرون طیارہ براق بھی تیار کرلیا ہے جس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت معاونت ملے گی۔

دہشت گرد ملک کے مختلف علاقوں میں چھپے بیٹھے ہیں اب انھیں تلاش کر کے نشانہ بنانا حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ فوٹو : فائل

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں خوشحالی اور امن کے لیے شہری اور دیہی علاقوں سے ہر قیمت پر دہشتگردی کا مکمل صفایا کیا اور جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ اور پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹویٹس میں کہا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے اتوار کو کور ہیڈکوارٹرز پشاور کا دورہ کیا جہاں انھیں خیبرپختونخوا اور فاٹا میں سیکیورٹی کی صورتحال، آپریشن ضرب عضب خصوصاً خیبرایجنسی میں جاری آپریشن میں ہونے والی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

چیف آف آرمی اسٹاف کو بتایاگیا کہ آپریشنز تسلی بخش انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ آرمی چیف نے مسلح افواج کے اس عزم کو دہرایا کہ حالیہ فوجی آپریشنز دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے تک جاری رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ دہشتگرد جو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں چھپے بیٹھے ہیں، انھیں تلاش کر کے نشانہ بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں یوم پاکستان کے پیغامات میں صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی وانتہا پسندی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے باہمی اختلافات کو پس پشت رکھتے ہوئے ہمیں ملک دشمن عناصر کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے، ملک دشمن عناصر پاکستان کی بقاء اور سالمیت کے خلاف برسر پیکار ہیں، تمام سیاسی جماعتیں اور قوم افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں، پاکستان کو بیرونی خطرات بھی لاحق ہیں جن کا جوانمردی سے مقابلہ کرنا ہو گا۔

ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور اسے دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے پوری قوم حکومت اور فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ پاکستان کے وجود کو لاحق خطرہ جس تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اس سے برسرپیکار ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا، اس جنگ میں ہماری بہادر افواج جو قربانیاں دے رہی ہے عزم صمیم کی دولت سے مالا مال پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔ فوج دہشت گردوں کے خلاف کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے، اتوار کو وادی تیراہ میں آپریشن خیبر ٹو کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فضائی اور بھاری توپ خانوں سے کارروائیوں کے نتیجے میں 21دہشت گرد ہلاک جب کہ ان کے پانچ ٹھکانے اور بارود کے ذخیرے تباہ ہو گئے۔

شدت پسندوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر بھی حملے کیے گئے جن کو ناکام بنا دیا گیا۔ 15 جون 2014 ء کو شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والا آپریشن ضرب عضب پاک فوج کی بہترین حکمت عملی، جرات اور قربانیوں کے باعث بڑی تیزی سے اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں جاری آپریشنز میں پاک فوج اور پاک فضائیہ کے درمیان اشتراک عمل سے دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیابیاں مل رہی ہیں آئے دن دہشت گردوں کی ہلاکت کی خبریں آ رہی ہیں۔


آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق 13مارچ جمعہ کو بھی خیبرایجنسی میں جیٹ طیاروں کی بمباری سے 48 دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے۔ شمالی وزیرستان میں چھپے ہوئے غیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد آپریشن ضرب عضب میں ماری جا چکی یا فرار ہو چکی ہے۔ اس طرح اندازہ ہے کہ اب اس علاقے میں دہشت گرد بہت کم تعداد میں رہ گئے ہیں اور انشاء اللہ پاک فوج کی کارروائیوں کے باعث ان کا بھی خاتمہ جلد ہو جائے گا اور وہ دن دور نہیں جب پوری قوم یہ خوش خبری سنے گی کہ پاک فوج نے اس علاقے میں دہشت گردوں کا مکمل طور پر صفایا کر دیا ہے۔پاک فوج نے اب ڈرون طیارہ براق بھی تیار کرلیا ہے جس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت معاونت ملے گی۔

دہشت گرد ملک کے مختلف علاقوں میں چھپے بیٹھے ہیں اب انھیں تلاش کر کے نشانہ بنانا حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اب تک کی کارروائیوں میں اندرون ملک بہت سے دہشت گرد گرفتار ہو چکے ہیں مگر جس انداز سے دہشت گرد وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائیاں کرکے ملکی سلامتی سے کھیل رہے ہیں اس سے نمٹنے کے لیے جامع اور بہتر منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔دہشت گرد شکست کھا چکے اور ان کا خوف اب پوری قوم کے دل سے نکل چکا ہے،جس طرح شمع بجھنے سے قبل ایک بار پھڑکتی ہے اسی طرح دہشت گرد بھی اپنی اس ناپاک جنگ کے اختتام پر اپنے وجود کا احساس دلانے کے لیے اکا دکا کارروائیاں کر رہے ہیں مگر اب پوری قوم یہ عزم کر چکی ہے کہ وہ یہ جنگ ضرور جیتے اور کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔

پوری قوم کا یہ عزم حکومت اور فوج کی سب سے بڑی قوت ہے۔ ملک میں امن و امان یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم میاں محمد نواز شرف نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اپنی غیور مسلح افواج کی قابل قدر معاونت اور تمام سیاسی مکتبہ ہائے فکر کی غیر مشروط حمایت کے ساتھ خطرے کا باعث بننے والی قوتوں پر قابو پا لیا جائے گا۔


Load Next Story