تحریک کا حاصل جوڈیشل کمیشن

کپتان بہت خوش ہیں کہ حکومت نے ان کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ مان لیا۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

کپتان بہت خوش ہیں کہ حکومت نے ان کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ مان لیا۔ کپتان صاحب اسے بہت بڑی کامیابی کہہ رہے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن بفرض محال انتخابی دھاندلیوں کی ایماندارانہ تحقیقات کرتا ہے اور بفرض محال تحقیق میں دھاندلیاں ثابت بھی ہوجاتی ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دھاندلیاں پورے پنجاب میں ثابت ہوں گی یا چند سیٹوں پر دھاندلی ثابت ہوگی۔ ہم اس بحث میں پڑے بغیر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ کمیشن پنجاب میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی رپورٹ دیتا ہے تو ہوگا کیا؟

یعنی دھاندلیاں ثابت ہونے پر جو زیادہ سے زیادہ اقدام ہوگا وہ دوبارہ الیکشن کا ہوگا۔ اور لاکھ سر پٹخیں 67 سال سے جو انتخابی نظام ہمارے ملک میں رائج ہے اس میں اگر ایک نہیں ایک سو ایک الیکشن ہوں گے تو نتیجہ وہی نکلے گا جو آج تک نکلتا آرہا ہے یعنی وہی لوگ دوبارہ انتخابات جیت کر قانون ساز اداروں اور کابیناؤں میں آجائیں گے۔ اور تحریک انصاف اس سسٹم کا ایک حصہ بن جائے گی۔

14 اگست 2014 سے جس تحریک کا آغاز کیا گیا تھا اس میں دو پارٹیاں شامل تھیں، ایک پاکستان عوامی تحریک دوسرے تحریک انصاف۔ پاکستان عوامی تحریک کے رہنما طاہر القادری انقلاب کے نعرے کے ساتھ میدان میں آئے تھے اور عمران خان نئے پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہوئے عوام میں آئے تھے۔ یہ دونوں نعرے 67 سال کے انتخابی نظام میں بھٹو کے علاوہ کسی نے نہیں لگائے تھے بھٹو نے ان نعروں کو روٹی کپڑا اور مکان مزدور کسان راج کا لباس پہنایا تھا، اسی وجہ سے لاکھوں عوام بھٹو کے گرد جمع ہوگئے تھے لیکن جب بھٹو اپنے لباس مجاز میں آگئے تو روٹی کپڑا مکان اور مزدور کسان راج وقت کی بلکہ موقع پرستی کی دھول میں گم ہوگئے، اس کے ساتھ بھٹو کی مقبولیت بھی موقع پرستی کی دھول میں گم ہوگئی۔

عوام بھٹو سے اس قدر دور ہوگئے کہ بھٹو کو جیل میں جاتے دیکھ کر بھی ان میں کوئی جوش یا ہمدردی پیدا نہ ہوئی اور نہ بھٹو کو پھانسی کے تختے پر لٹکتا دیکھ کر ان میں کوئی حرارت آئی، وہ برف کی طرح بلکہ برف کے انسان بن گئے، اس کی وجہ یہ تھی کہ بھٹو نے انھیں مایوس کیا تھا۔اب لگ بھگ چالیس سال بعد طاہر القادری اور عمران خان نے جب ایک بار پھر انقلاب اور نئے پاکستان کے ساتھ Status Quo توڑنے کا نعرہ لگایا تو اشرافیائی جمہوریتوں سے تنگ آئے ہوئے عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آگئے۔ قادری اور عمران نے پہلی غلطی یہ کی کہ اسلام آباد میں دھرنا دیا، ہماری سیاست میں دھرنوں کے ذریعے انقلاب نہیں لایا جاسکتا پھر بھی 20 ہزار مرد خواتین اور چھوٹے چھوٹے بچے دو ماہ تک سخت سردی کے عالم میں ڈی چوک پر بیٹھے رہے۔

خود قادری اور عمران غالباً اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ دو ماہ تو کیا دو سال تک 20 کیا 40 ہزار لوگ بھی ڈی چوک پر بیٹھے رہیں تو حکومت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ جلد یا بدیر دھرنا دینے والے تھک جائیں گے اور دھرنا ٹوٹ جائے گا۔ سو یہی ہوا، قادری کے ورکرز تو آخر وقت تک چوبیس گھنٹے دھرنے میں شریک رہتے تھے لیکن عمران خان کے چاہنے والے شام میں چند گھنٹوں کے لیے زندہ باد، مردہ باد یا گو نواز گو کے نعرے لگاتے اور گھروں کو چلے جاتے تھے۔

ایسا محسوس ہوتا کہ خود قادری اور عمران کو یہ علم نہیں تھا کہ دھرنے کا انجام کیا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان جماعتوں کی سیاسی اور نظریاتی رہنمائی کرنے کے لیے نہ دانش ور تھے نہ تھنک ٹینک، یہ کام یا تو عقل سے پیدل مصاحبین کر رہے تھے یا خود یہ دونوں حضرات وہ کام کر رہے تھے، جو ان کے کرنے کا تھا نہ ان کے بس کا تھا، اس کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا۔ لیکن اس ناکامی کے بعد جب عمران نے جلسوں کا آغاز کیا تو ایک بار پھر عوام لاکھوں کی تعداد میں عمران اور قادری کے گرد جمع ہوگئے، عوام کی اس دلچسپی کی ایک ہی وجہ تھی اور وہ تھی انقلاب اور نئے پاکستان کے نعرے۔


67 سال سے کرپٹ اشرافیہ سے تنگ آئے ہوئے عوام اس نظام کی تبدیلی چاہتے تھے اگر عمران خان صرف انتخابی دھاندلی کی تحقیق کے لیے جوڈیشل کمیشن کا نعرہ لگاتے تو عوام ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتے کیونکہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس مکروہ نظام میں نہ کوئی ایماندارانہ تحقیق ممکن ہے نہ ایسے ایماندارانہ انتخابات ممکن ہیں جن میں مزدور کسان اور غریب طبقات کے اہل لوگ حصہ لے سکیں۔

عمران خان جوڈیشل کمیشن کے قیام کو اپنی ہی نہیں عوام کی بہت بڑی کامیابی کہہ رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔ اگر بفرض محال کمیشن انتخابی دھاندلی کو تلاش بھی کرلیتا ہے تو اس کا آخری نتیجہ مڈٹرم انتخابات کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا اور ہماری انتخابی سیاست میں اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں آسکتی جب تک ایسی بامعنی انتخابی اصلاحات نہ کی جائیں، جس کے ذریعے انتخابی نظام میں مزدوروں، کسانوں، ڈاکٹروں، وکیلوں، ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، دانشوروں کے نمایندوں کے لیے راستہ نہ کھلے۔

حیرت کی بات ہے کہ عمران خان اب نئے پاکستان کی بات ہی نہیں کر رہے ہیں، اگرچہ نئے پاکستان کی اصلاح بھی بڑی مبہم تھی لیکن اس سے بہرحال یہ تاثر ابھرتا تھا کہ یہ پرانے نظام کی جگہ کوئی ایسا نظام ہے جس میں عوام کی بالادستی ہوگی۔ نئے پاکستان کی بات کرنے سے پہلے پرانے پاکستان کو سمجھنا پڑے گا۔ پاکستان کے حصے میں جو خطے آئے بدقسمتی سے وہ انتہائی پسماندہ تھے، پنجاب اور سندھ میں جاگیردارانہ نظام بہت مضبوط تھا، خیبرپختونخوا میں جاگیرداروں کی بالادستی تھی اور ساتھ میں کٹر قبائلی نظام تھا۔ بلوچستان میں سرداری نظام اپنی گہری جڑیں رکھتا تھا، عوام کا حال بادشاہوں کے دور کی رعایا سے بدتر تھا۔

1971تک پاکستان کا حصہ رہنے والے مشرقی پاکستان میں بھی جاگیرداری کو ختم کردیا گیا۔ لیکن پاکستان میں اب بھی سندھ اور جنوبی پنجاب میں جاگیردار موجود ہیں، پختونخوا میں قبائلی نظام کی فرسودگی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں اب مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی پھوٹ پڑی ہے۔ سندھ کا دیہی علاقہ اب بھی وڈیروں کی میراث بنا ہوا ہے۔ یہ پرانا پاکستان ہے، جب تک اس پرانے پاکستان کو ختم نہیں کیا جائے گا نیا پاکستان برآمد نہیں ہوگا۔ عمران خان کے دائیں بائیں پرانے پاکستان کے عمائدین بیٹھے ہیں کیا یہ پیر تسمہ پا عمران کو نیا پاکستان بنانے دیں گے؟

ہمارے قادری صاحب بڑے اچھے خطیب ہیں اپنی بات اس قدر مدلل انداز میں کرتے ہیں کہ سننے والوں کے دل میں اترجاتی ہے لیکن نہ وہ پاکستانی سیاست کے اسرار و رموز سے جانکاری رکھتے ہیں نہ انھیں اندازہ ہے کہ یہاں کس قسم کی منصوبہ بندی کس قسم کی حکمت عملی سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ ان دونوں حضرات کو اپنے ذہنوں سے یہ خیال نکال دینا چاہیے کہ وہ تنہا اس ملک میں 67 سالہ Status Quo کو توڑ سکتے ہیں، اس کے لیے ایک وسیع تر اتحاد کی ضرورت ہے۔


Load Next Story