تنازعہ کشمیر اور بھارتی رویہ

وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملک آگے بڑھیں اور باہمی مذاکرات کے ذریعے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل حل کریں۔

بھارت کو کشمیریوں کی حیثیت تسلیم کرنی چاہیے کیونکہ ایسا کیے بغیر تنازعہ کشمیر کا کوئی حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہے، فوٹو : فائل

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو یوم پاکستان پر مبارکباد دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں نریندر مودی نے کہا کہ انھوں نے خط کے ذریعے مبارکباد دی ہے۔

انھوں نے کہا دونوں ممالک میں تمام تصفیہ طلب معاملات مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں لیکن مذاکرات کے لیے دہشت گردی اور خوف سے پاک ماحول کا ہونا بہت ضروری ہے۔

ادھر بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ براہ راست مذاکرات ہوں گے تاہم وہ غیر مشروط نہیں ہوں گے کیونکہ ان مذاکرات میں حریت کانفرنس کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے حریت مقبوضہ وادی کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم ہے۔

بھارتی ترجمان نے کہا ہے کہ پاک، بھارت مذاکرات میں کسی تیسری پارٹی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، تمام تصفیہ طلب مسائل پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ شملہ معاہدے اور لاہور ڈیکلریشن کے فریم ورک کے اندر پرامن دو طرفہ بات چیت ہے۔ قبل ازیں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کی ملاقات ہوئی جس کے بعد عبدالباسط کا کہنا تھا کہ بھارت کو پاکستان سے مذاکرات میں حریت رہنماؤں کی شمولیت اور یوم پاکستان کی تقریب میں حریت رہنماوں کو بلانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

پاکستانی ہائی کمیشن میں یوم پاکستان کی تقریب سے خطاب میں عبد الباسط نے کہا کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے پاکستان اور بھارت اپنے مسائل حل نہیں کر سکتے کیونکہ مسائل کا حل صرف پرامن مذاکرات میں ہے۔

امید ہے پاک بھارت مذاکرات کا سلسلہ جلد دوبارہ شروع ہو گا۔ وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملک آگے بڑھیں اور باہمی مذاکرات کے ذریعے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل حل کریں۔ حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی وزارت خارجہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے کہ کشمیری پاک، بھارت مذاکرات میں شریک نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے کہا مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک نے کہا بھارت ایک طرف پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رہا ہے۔


اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تنازعہ کشمیر کے کسی منصفانہ حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں اور یہ مسئلہ اس وقت ہی حل ہو سکتا ہے جب پاکستان اور بھارت کی قیادت اس حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ کشمیری بھی اس تنازعہ کے مرکزی فریق ہیں۔ کشمیری عوام نصف صدی سے زائد کے عرصے سے آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں جب کہ پاکستان روز اول سے کشمیریوں کی اس جدوجہد کی حمایت کر رہا ہے اور یہ حمایت عالمی سطح پر ہر فورم میں کی گئی ہے۔

کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد ابھی تک جاری ہے۔ لہٰذا کشمیریوں کو نظر انداز کرنا درست پالیسی نہیں ہے۔ واضح رہے بابائے قوم، قائد اعظم محمد علی جناح نے روز اول ہی یہ اعلان کیا تھا کہ کشمیر پاکستان کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ہمارے تقریباً تمام بڑے دریا اسی جنت نظیر وادی سے نکل کر یہاں آتے ہیں جن پر کہ بھارت ڈیم پر ڈیم تعمیر کرتے ہوئے اس مملکت خدا داد کو بنجر کر کے لق و دق صحرا میں تبدیل کر دینے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

جہاں تک کشمیر کے مسئلہ پر بھارت کے ساتھ متوقع مذاکرات کا تعلق ہے تو یہ مذاکرات سابق صدر ایوب خان کے طویل دور حکومت میں اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اپنے بھارتی ہم منصب سردار سورن سنگھ کے ساتھ میراتھن انداز سے کرتے رہے لیکن کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہ ہو سکا حالانکہ جناب بھٹو کی مذاکراتی مہارت میں کوئی کلام نہیں۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان مذاکرات کے لیے صرف علم منطق پر انحصار نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس مقصد کے لیے بھارت پر عالمی طاقتوں کا دباو ڈلوانا ناگزیر ہے جب کہ بھارت کے ہاتھ میں ترپ کا پتہ ہی یہ ہے کہ بات چیت صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ہو جس میں اور کوئی نہ دخل دے کیونکہ پاکستان نے شملہ معاہدے کی یہ شرط قبول کر رکھی ہے۔

یہ معاہدہ پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بھارتی ہم منصب مسز اندرا گاندھی کے ساتھ کیا تھا۔ اس وقت چونکہ سقوط ڈھاکا کے بعد اندرا کا پلڑا بھاری تھا لہذا بھٹو صاحب کو یہ تلخ شرط قبول کرنا پڑی۔ بہر حال سب سے پہلے پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کا عمل بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو اگر یوم پاکستان کی مبارک باد دی ہے اور یہ کہا ہے کہ تمام تصفیہ طلب معاملات مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے لیکن یہ مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں، بھارت کو کشمیریوں کی حیثیت تسلیم کرنی چاہیے کیونکہ ایسا کیے بغیر تنازعہ کشمیر کا کوئی حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہے البتہ ایسا ہو سکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو جائے۔

اس سلسلے میں سیاچن، سرکریک یا پانی کا مسئلہ حل کر لیا جائے اور جب کشمیر کے تنازعہ پر بات شروع ہو تو اس میں کشمیریوں کو شامل کر لیا جائے۔ بھارت کو اس حوالے سے پیش قدمی کرنا ہو گی کیونکہ تنازعہ کشمیر کے حل کی کنجی اس کے پاس ہے۔ اگر بھارت حقیقی معنوں میں کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہے تو اس کا کوئی نہ کوئی راستہ بھی نکل آئے گا۔
Load Next Story