امریکا نے اسرائیل سے فلسطین پر 50 سالہ ناجائز قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

اب وقت آگیاہےکہ اسرائیل 50 سال سے فلسطین پرقبضہ ختم کرے اورفلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدام کرے، وائٹ ہاؤس

اب وقت آگیاہےکہ اسرائیل 50 سال سے فلسطین پرقبضہ ختم کرے اورفلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدام کرے، وائٹ ہاؤس۔ فوٹو : فائل

MARSEILLE:
امریکا نے پہلی بار باضابطہ طورپر اسرائیل سے فلسطین کے مقبوضہ عرب علاقوں پرناجائز قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم سے کہاگیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں پرقبضہ ختم کرتے ہوئے خودمختار فلسطینی ریاست کی تشکیل کے لیے فوری اورموثر اقدام کریں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت میں دیے گئے بیانات کی ایک بارپھر مذمت کی گئی۔ وائٹ ہاؤس کے سیکریٹری جنرل ڈنیس ماکیڈونو نے امریکی یہودیوں کے گروپ ''جے اسٹریٹ'' سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کے ایک حالیہ متنازعہ بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے لیے اس طرح کے بیانات سے نمٹنا زیادہ آسان نہیں ہے۔


اس طرح کی بیان بازی قیام امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ اب وقت آگیاہے کہ اسرائیل 50 سال سے فلسطین پرقبضہ ختم کرے اورفلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدام کرے۔ انھوں نے اپنی تقریرمیں یہودی کالونیوں کی تعمیر وتوسیع کی مخالفت کی اور کہاکہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی راہ میں اسرائیل کی یہودی بستیاں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ دریں اثنا اسرائیل نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات کی جاسوسی کی تھی اوران خفیہ معلومات کوامریکی قانون سازوں کے حوالے کیاتھا۔ اقوامِ متحدہ نے کہاہے کہ 2014کی جنگ کے دوران غزہ میں بڑے پیمانے پرفلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں نے اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کوشبے میں ڈال دیاہے۔

اپنی سالانہ رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی مندوب نے کہا کہ 50روزہ اس لڑائی کی وجہ سے بچے ذہنی طورپر بری طرح متاثرہوئے ہیں۔ اسرائیل کاکہنا ہے کہ غزہ کامحاصرہ اس کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس نے شہریوں کوبچانے کے لیے ہرممکن اقدام کیے ہیں اورفلسطینی جنگجوشہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے ذمے دارہیں۔ علاوہ ازیں اسرائیلی وزیراعظم نے اس بات پرافسوس کا اظہار کیاکہ گذشتہ ہفتے انتخابات کے دوران انھوںنے اسرائیل کے عرب ووٹروں کے بارے میں کہا تھاکہ وہ گروہ درگروہ ووٹ ڈال رہے ہیں۔ عرب جماعتوں کے اکثریتی مشترکہ اتحاد نے اسرائیلی وزیراعظم کی معذرت مسترد کردی ہے۔


Load Next Story