افغانستان سے متعلق اندیشہ ہائے دور دراز

امریکا کو پاکستان کے کردار کے مثبت اور عملی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

افغانستان کو امن واستحکام کے علاوہ ایک مکمل ریاستی انفرااسٹرکچر کی بھی ضرورت ہے ، فوٹو : فائل

امریکی صدر بارک اوباما نے واشنگٹن میں اپنے افغان ہم منصب اشرف غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں 9800 امریکی فوجی اس سال کے آخر تک رہیں گے جو افغان فورسز کی تربیت اور معاونت جاری رکھیں گے۔ امریکا نے رواں سال افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کم نہ کرنے کا اعلان کر کے واقعتاً اس حقیقت کا اظہارکر دیا ہے کہ افغانستان کو ابھی عسکری،انتظامی اور سیاسی طور پر داخلی مزاحمت اور طالبانی شورش سے نمٹنے میں وقت درکار ہے ۔

ادھر افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ افغان شہری ملک سے امریکی فوجیوں کا انخلا نہیں چاہتے، افغانستان کو بھی خطے کے دیگر ممالک کی طرح داعش کا مبینہ خطرہ لاحق ہے تاہم ان کا استدلال ہے کہ افغانستان میں عراق، شام، لیبیا اور یمن جیسی صورتحال پیش نہیں آئے گی۔ امریکا کے ایک قومی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ روابط کا مقصد خطے کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے باہمی تعاون اور رابطے بڑھانا ہے ۔

افغانستان کی پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اس ملک کو مسلم فاتحین اور غیر ملکی استعماری اور جارح قوتوں نے برس ہا برس تک تشدد ،محکومیت اور تزویراتی شکنجہ میں جکڑنے کی ناکام کوششوں میں گنوا دیے ،جب کہ افغان عوام اسٹریٹجیکل مزاحمت میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے ، مگرنائن الیون کے بعد سے اب تک افغان معاشرہ اور اس کے عوام کی جو حالت ہوئی ہے اس کا اندازہ ان پناہ گزینوں سے لگایا جاسکتا ہے جو پاکستان سمیت دیگر ملکوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ دنیا کے جن ملکوں نے محکومی ، اور تشدد کے عذاب سہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ غلامی اور محکومیت کیا خرابیاں ساتھ لاتی ہے۔

افغانستان کو اپنی تاریخ کی سخت امتحانی صورتحال درپیش ہے ، پہلے اسے روسی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، دوسری طرف عالمی واقعات و حالات نے بھی افغانستان کو مستحکم نہیں ہونے دیا ، سرد جنگ کے خاتمہ اور روس کی شکست و ریخت کے بعد اسامہ بن لادن کے نظریاتی حامیوں نے امریکی مداخلت اور جارحیت کی راہ ہموار کرائی ، وارلارڈز اور اسلامی تنظیموں کی چپقلش خانہ جنگی کا سبب بنی ، اور طالبانی انتہاپسند عناصر نے پوری افغان معاشرت کو یرغمال بنا کر اس تحت الثریٰ میں گرا دیا کہ اب اسے امریکا اور یورپی ممالک کی مالی معاونت بھی درکار ہے اور خطے میں ان کے مفادات کی خوراک بھی بننا ہے۔


صدر اشرف غنی کو ایک بڑے امتحان نے گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مثبت پیشرفت ہے لیکن پاکستان کو شدت پسندی کے خلاف مکمل عدم برداشت کی پالیسی پر عمل کرنے میں ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔

بی بی سی کو انٹرویو میں افغانستان اور پاکستان کے معاملات پر امریکا کی نائب نمایندہ لوریل ملر نے اس امر کا اعتراف کیا کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن کچھ معاملات پر خاص طور پر حقّانی نیٹ ورک کے بارے میں سوالیہ نشان برقرار ہیں۔ حقانی نیٹ ورک امریکا اور افغانستان دونوں ہی کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ امریکا کو پاکستان کے کردار کے مثبت اور عملی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنا چاہیے، اس کی فرنٹ لائن پوزیشن ابھی تک برقرار ہے۔ وہ کسی گروپ کے ساتھ نہیں ہے ۔

پاک فوج دہشت گردوں سے برسر پیکار ہے، پاکستان مستحکم افغانستان پر یقین رکھتا ہے ۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں میں بلاشبہ امریکا صدر غنی کے ساتھ ہے، اس لیے طالبان کو بھی طے کردہ شرائط کی پابندی کرنی چاہیے، مثلاً پہلی یہ کہ طالبان بین الاقوامی دہشتگردی سے ناطہ توڑ لیں، دوم افغانستان میں تشدد پھیلانا بند کر دیں اور تیسری یہ کہ افغان آئین میں خواتین اور اقلیت کے حقوق کے لیے جو قانون ہیں ان پر عمل کریں۔ افغانستان کو امن واستحکام کے علاوہ ایک مکمل ریاستی انفرااسٹرکچر کی بھی ضرورت ہے ، جب کہ امریکا افغانستان کے مستقبل یا اس کی داخلی شورش اور بدامنی پر کیا سوچ رکھتا ہے اسے ممتاز امریکی صحافی باب وڈورڈ نے اپنی کتاب میں اچھی طرح بیان کیا ہے ۔

ان کے خیال میں پوری امریکی انتظامیہ اسی سائیکی کا شکار ہے کہ اگر افغانستان میں امریکی مشن کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو دہشت گرد تنظیمیں شیر ہوجائیں گی ، ان کا شور گلوبل ہوگا، اور ہر جگہ امریکا مخالف قوتوں کو سر اٹھانے کا موقع ملے گا ۔ تاہم وہ استعماری قوتیں اس امر کا ادراک نہیں کرتیں کہ افغانستان سمیت مشرق وسطیٰ ،افریقہ اور ایشیاء کے جن ممالک کو غیر ملکی جارحیت اور مسلط کردہ جنگوں کے ذریعے محکوم بنانے، سبق سکھانے یا انھیں آزادی ، جمہوریت اور ترقی کے سہانے خواب دکھلانے کا جشن منایا گیا وہاں تعمیرنو اور استحکام کا کوئی روڈ میپ لاگو نہیں ہوا۔

بلاشبہ عالمی برادری کو افغانستان کے استحکام اور سیاسی و سماجی تبدیلی کے اقدامات سے دلچسپی ہے اور یورپی ممالک افغانستان کی معاونت کے لیے جنیوا میں کئی اجلاس منعقد کرچکے ہیں، اور جرمنی اس ضمن میں پیش پیش ہے تاہم افغانستان کو کسی ملک کی نوآبادی بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونی چاہیے، جب کہ پاکستان ایک مستحکم افغانستان کو خطے کے مفاد میں سمجھتا ہے۔ خطے میں امن کے لیے اس کا کردار واضح اور قابل تحسین ہے۔
Load Next Story