بجلی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کی ضرورت
گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی ملک بھر میں بجلی کی طویل اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ پھر سے سر اٹھانے لگا ہے
ملک کو توانائی بحران کا شدت سے سامنا ہے لیکن چیک اینڈ بیلنس اور بلاتفریق لوڈ کی منیجمنٹ کے ذریعے کسی حد تک عوام کی شکایات دور کی جاسکتی ہیں۔ فوٹو : فائل
گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی ملک بھر میں بجلی کی طویل اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ پھر سے سر اٹھانے لگا ہے جس سے نہ صرف شہریوں کی معاشی و روزمرہ زندگی کے امور میں خلل پڑ رہا ہے بلکہ چھوٹی گھریلو صنعتوں اور کارخانوں میں سپلائی کے آرڈرز مکمل ہونے میں دشواری کا سامنا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے تک جا پہنچا ہے، لاہور، کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور دیگر شہروں میں8سے10گھنٹے جب کہ دیہات میں 12سے 16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جارہے ہیں جب کہ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ پیداوار میں کمی کے باعث اپریل سے لوڈشیڈنگ میں مزید 2 سے4گھنٹے کا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ادوار کی طرح وی آئی پیز اور انڈسٹریل علاقے اور مخصوص حلقے اب بھی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں۔ مانا کہ ملک کو توانائی بحران کا شدت سے سامنا ہے لیکن چیک اینڈ بیلنس اور بلاتفریق لوڈ کی منیجمنٹ کے ذریعے کسی حد تک عوام کی شکایات دور کی جاسکتی ہیں۔
جن علاقوں میں بالکل بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی، عموماً دیکھا گیا ہے کہ وہاں بے دردی کے ساتھ بجلی کا ضیاع معمول ہے، ہزار، پانچ ہزار گز پر مشتمل گھروں میں نہ صرف ہر کمرے میں ایئرکنڈیشنز کھلے رہتے ہیں بلکہ دیگر آرائشی بجلی کی اشیا بھی بلاضرورت آن رکھی جاتی ہیں، جب کہ دیہی اور درمیانے اور متوسط طبقے کے علاقے بھی کچھ کم قصوروار نہیں، عوام اگر خود بجلی کا ضیاع کریں گے تو ہر شخص متاثر ہوگا۔ گنجان آباد علاقوں میں بے شک بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور بجلی کے میٹر باہر کھمبوں پر ٹرانسفر کردیے گئے ہیں لیکن کنڈا سسٹم کے ذریعے بجلی کی چوری کا کام اب بھی جاری ہے۔
یہاں اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ طلب و رسد کے پیرائے میں بجلی کی کمی کا بہرحال سامنا ہے، جیسا کہ لاہور میں بجلی کی پیداوار 8 ہزار میگاواٹ اور طلب 13000 میگاواٹ سے تجاوز کرگئی ہے۔
5000 میگاواٹ کی یہ کمی لامحالہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا باعث بنے گی لیکن عوام کی تسلی کی خاطر غیر علانیہ لوڈشیڈنگ سے پرہیز اور مستثنیٰ علاقوں میں بھی اس کمی کا اثر منتقل کرنے سے طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ سے بچا جاسکتا ہے۔ بجلی چوروں کی حوصلہ شکنی بھی ازحد ضروری ہے۔ لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر راست اقدامات اور باہمی اشتراک عمل سے ہی قابو پایا جاسکتا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے تک جا پہنچا ہے، لاہور، کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور دیگر شہروں میں8سے10گھنٹے جب کہ دیہات میں 12سے 16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جارہے ہیں جب کہ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ پیداوار میں کمی کے باعث اپریل سے لوڈشیڈنگ میں مزید 2 سے4گھنٹے کا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ادوار کی طرح وی آئی پیز اور انڈسٹریل علاقے اور مخصوص حلقے اب بھی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں۔ مانا کہ ملک کو توانائی بحران کا شدت سے سامنا ہے لیکن چیک اینڈ بیلنس اور بلاتفریق لوڈ کی منیجمنٹ کے ذریعے کسی حد تک عوام کی شکایات دور کی جاسکتی ہیں۔
جن علاقوں میں بالکل بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی، عموماً دیکھا گیا ہے کہ وہاں بے دردی کے ساتھ بجلی کا ضیاع معمول ہے، ہزار، پانچ ہزار گز پر مشتمل گھروں میں نہ صرف ہر کمرے میں ایئرکنڈیشنز کھلے رہتے ہیں بلکہ دیگر آرائشی بجلی کی اشیا بھی بلاضرورت آن رکھی جاتی ہیں، جب کہ دیہی اور درمیانے اور متوسط طبقے کے علاقے بھی کچھ کم قصوروار نہیں، عوام اگر خود بجلی کا ضیاع کریں گے تو ہر شخص متاثر ہوگا۔ گنجان آباد علاقوں میں بے شک بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور بجلی کے میٹر باہر کھمبوں پر ٹرانسفر کردیے گئے ہیں لیکن کنڈا سسٹم کے ذریعے بجلی کی چوری کا کام اب بھی جاری ہے۔
یہاں اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ طلب و رسد کے پیرائے میں بجلی کی کمی کا بہرحال سامنا ہے، جیسا کہ لاہور میں بجلی کی پیداوار 8 ہزار میگاواٹ اور طلب 13000 میگاواٹ سے تجاوز کرگئی ہے۔
5000 میگاواٹ کی یہ کمی لامحالہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا باعث بنے گی لیکن عوام کی تسلی کی خاطر غیر علانیہ لوڈشیڈنگ سے پرہیز اور مستثنیٰ علاقوں میں بھی اس کمی کا اثر منتقل کرنے سے طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ سے بچا جاسکتا ہے۔ بجلی چوروں کی حوصلہ شکنی بھی ازحد ضروری ہے۔ لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر راست اقدامات اور باہمی اشتراک عمل سے ہی قابو پایا جاسکتا ہے۔