دہشت گردوں کی حتمی شکست تک…

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع کی گئی ہے اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے

حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے ، ملکی حالات کو بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے، وزیر اعظم نواز شریف

وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت بدھ کو پی اے ایف فیصل بیس پر امن و امان کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے شرکت کی، وزیر اعظم کو کراچی میں امن و امان اور آپریشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

دریں اثنا وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع کی گئی ہے اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، کراچی کی روشنیاں بحال کرنے اور قیام امن کے لیے آپریشن بے حد ضروری ہے، کراچی آپریشن تمام جماعتوں کی مشاورت سے شروع کیا جو کسی جماعت نہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے، وہ دن آنے والا ہے کہ جب شہر سے تمام جرائم کا خاتمہ ہو گا۔

وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو پی اے ایف آڈیٹوریم میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کی 25 ٹاپ لسٹ کمپنیوں کو ایوارڈز دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار ، چیئرمین نجکاری بورڈ ، چیئرمین سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور کراچی اسٹاک ایکسچینج کے دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم نے دہشت گردی سے دوچار ملکی صورتحال اور حکومتی و عسکری قیادت کے اقدامات کی جو تفصیل بیان کی ہے اس سے یقینی طور پر عوام کو انتہاپسندی، ٹارگٹ کلنگ، جرائم کے گراف میں کمی، ملکی سلامتی، معیشت اور سیاسی و جمہوری عمل میں استحکام کے کچھ مثبت اشارے ملیں گے۔

فی زمانہ اقتصادی ترقی کیے بغیر کوئی ملک خوشحالی اور جمہوری عمل کی صد فی صد کامیابی کا ہدف پورا نہیں کر سکتا،یوں بھی دہشت گردی مخالف جنگ جب سے اس قوم پر مسلط کی گئی ہے اس کے نقصانات ہمہ گیر ثابت ہوئے ہیں۔ ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق وار آن ٹیرر کی وجہ سے گزشتہ10 برسوں میں پاکستان، عراق اور افغانستان میں 13لاکھ ہلاکتیں ہوئیں۔

پاکستان میں 80 ہزار، عراق کے 10 لاکھ اور افغانستان میں2 لاکھ 20 ہزار لوگ لقمہ اجل بن گئے، ظاہرہے یہ عالم اسلام کا اندوہناک جانی نقصان ہے،کتنے خاندان اجڑ گئے، کتنی ماؤں کے جگر کے ٹکڑے آتشیں اور مہلک ہتھیاروں کی نذر ہوئے۔ اسلحہ کی دوڑ نے برصغیر کو بھی امن کے ہدف سے دور کر دیا اور کروڑوں انسان بھوک، بیماری، خانماں بربادی اور جرائم و دہشت گردی کے جہنم میں جل رہے ہیں۔

دہشت گردی کے عالمی عفریت سے لڑتے ہوئے پاک افواج کی اپنے داخلی ڈاکٹرائن کے تحت اندر کے دشمن پر گہری نظر ہے کیونکہ دو متحارب ملکوں کے درمیان علانیہ جنگ کچھ اور ہوتی ہے جب کہ دہشت گرد گوریلا وار کے ذریعے ملکی معیشت اور سماج کا ثقافتی و تاریخی شیرازہ بکھیرنے کے لیے ریاست و حکومت سے آنکھ مچولی کھیلتے ہیں۔ یہ کھیل کئی عشروں سے جاری رہا ہے مگر اب اس کا ''دی اینڈ'' ہونے لگا ہے کیونکہ سیاسی و عسکری قیادت اب کسی مصلحت میں پڑنے پر تیار نہیں۔


منی پاکستان اب سب سے اہم ایجنڈا ہے اور فاٹا، پنجاب، بلوچستان اور اندرون سندھ بدامنی میں ملوث کالعدم تنظیموں، سرحد پار کر کے مسلکی انتشار پھیلانے، ڈاکے ڈالنے اور ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں سے لڑائی فیصلہ کن بن چکی ہے۔ امن کی بحالی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

پوری دنیا کے مبصرین اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ معاشی نظام کا استحکام ہی در اصل جمہوریت کے استحکام سے مشروط ہے، اور ملکی ترقی و خوشحالی کا بیرومیٹر ملکی معیشت ہوتی ہے۔ چنانچہ مشاہدے میں آیا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری رکھتے ہوئے ملکی معیشت کو درپیش مسائل اور بحران کے امکانات و حقائق سے بھی لاتعلق نہیں ہے اور اس سمت میں کوششیں جاری ہیں۔ ادھر کراچی اجلاس کے ذرایع کا کہنا ہے کہ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ فاسٹ ٹریک پالیسی کے تحت انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کا دائرہ کراچی کے ساتھ صوبے کے دیگر علاقوں تک وسیع کیا جائے گا۔

جرائم پیشہ عناصر یا ان کی سرپرستی کرنے والوں کا تعلق کسی بھی جماعت یا گروہ سے ہو ان کو بلا تفریق ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا، کراچی اور صوبے کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ یہ احسن فیصلہ بھی کیا گیا کہ وفاقی حکومت کراچی آپریشن کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن سہولتیں فراہم کرے گی اور گرفتار ملزمان سے تفتیش کو مزید موثر بنایا جائے گا، ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے چالان جلد عدالتوں میں پیش کیے جائیں گے تا کہ انھیں جلد سزا دی جا سکے۔ قانون کی حکمرانی کے قیام کے لیے قانون شکنوں سے نمٹنا ناگزیر ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے ، ملکی حالات کو بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے، ہماری پالیسیوں کے مثبت اشارے سامنے آ رہے ہیں اور مختلف عالمی اداروں نے اس کو سراہا ہے، ملک میں اس وقت توانائی کا بحران ہے۔

ماضی میں توانائی اور پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی توجہ نہیں دی گئی، انھوں نے کہا کہ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے،پانی سے بجلی پیدا کرنے، کوئلے اور قدرتی مایع گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، ملک میں بڑے ڈیمز بنائے جا رہے ہیں جن میں دیا میر بھاشا، داسو اور پونجی ڈیمز شامل ہیں، ان پر کام جاری ہے، ان ڈیمز سے نہ صرف بجلی حاصل ہو گی اور پانی کو بھی ذخیرہ کیا جا سکے گا بلکہ بنجر زمینیں دوبارہ کاشت کے قابل ہو سکیں گے۔ ملک میں جلد ہی مختلف ذرایع سے15 سے17 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہو جائے گی۔

بجلی اور گیس ہو گی تو ملکی معیشت بہتر ہو گی اور روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ یہ خوش آیند اطلاع قومی اسمبلی میں قوم کو سنائی گئی ہے کہ موڈیز نے حکومت کے بد عنوانی ختم کرنے کے اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں کرپشن کی شرح کم ہوئی ہے اور اب اس کا 126 واں نمبر، جب کہ2013ء میں اس کا 127 واں نمبر تھا۔ کراچی کے حالات کا ذکر بھی وزیر اعظم نے اس اطلاع سے کیا کہ کراچی آپریشن کا آغاز ستمبر2013ء میں کیا گیا، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات میں کمی ہوئی ہے، کراچی کی روشنیوں کی بحالی کے لیے امن بہت ضروری ہے۔

کراچی میں آپریشن سے لوگوں کو اطمینان ہوا ہے، انھوں نے کہا کہ کراچی میں ترقی نہیں ہو گی تو پاکستان میں بھی ترقی نہیں ہو سکتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں ضایع ہوئیں اور اربوں ڈالر کا ملک کو نقصان ہوا، جن لوگوں نے ہم پر یہ جنگ مسلط کی ہے، ان کو شکست ہو گی۔ تاہم دہشت گردوں کی حتمی شکست تک آپریشن جاری رہنا چاہیے۔
Load Next Story