یمن میں خانہ جنگینئے خطرات کا الارم
یہ ایک مشکل صورت حال ہے اور پاکستانی حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتی جس سے اس کے ملکی مفادات کو نقصان پہنچے
اگر یمن کی خانہ جنگی طوالت اختیار کرتی ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کی سلامتی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو جائے گا۔ فوٹو : فائل
یمن میں حوثی قبائل کے حکومت کے خلاف مسلح علم بغاوت بلند کرنے کے بعد وہاں خانہ جنگی شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حوثی قبائلی جنگجو عدن شہر پر قبضہ کرنے کے قریب ہیں اور اس وقت شہر کے مضافات میں جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
اس صورت حال کے تناظر میں یمنی صدر عبدالرب منصور ہادی صدارتی محل سے فرار ہو کر نا معلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئے ہیں بعض اطلاعات کے مطابق وہ سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ علاوہ ازیں یمنی صدر منصور ہادی کی درخواست پر سعودی عرب نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں جس سے 13 افراد ہلاک ہوئے اور باغیوں کے کئی جنگی طیارے مار گرا دیے گئے جب کہ صدر ہادی کے حامیوں اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکا میں سعودی سفیر نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ حوثی باغی یمن کے لیے خطرہ ہیں جس سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے فوجی آپریشن شروع کیا ہے، آپریشن کا مقصد یمن کی قانونی حکومت کا دفاع کرنا اور انتہا پسند حوثی تحریک کو ملک پر قبضہ کرنے سے روکنا ہے، حوثی باغیوں کو یمن پر قبضے سے روکنے کے لیے 9 دیگر ممالک نے ایک اتحاد بنایا ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور چیف آف ایئر اسٹاف نے شرکت کی۔
اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔ علاوہ ازیں جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے خلاف جنگ میں شامل ہونے اور اپنے فوجی بھیجنے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا، سعودی عرب کے ساتھ ہمارا مقدس رشتہ ہے، کسی بھی فوجی اقدام سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورت حال ایک عرصے سے چلی آ رہی ہے، عراق، شام اور لیبیا میں ہونے والی خانہ جنگی نے ان ممالک کی سالمیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اب یمن خانہ جنگی کا شکار ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت مسلم ممالک خاص طور پر مشرق وسطیٰ کو نشانہ بنا کر انھیں تباہی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ یمن میں جنم لینے والی اس خانہ جنگی سے سعودی عرب کی سالمیت کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں لہٰذا اپنی خود مختاری کو برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب کو اس جنگ میں کودنا پڑا ہے۔
سعودی سیکیورٹی ایڈوائزر نواف عبید کے مطابق سعودی عرب نے ایک لاکھ پچاس ہزار فوج اور ایک سو لڑاکا طیاروں کو روانہ کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن کا مکمل فضائی کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ صورت حال اس امر کی غمازی کر رہی ہے کہ آیندہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں حالات شدید کشیدہ ہو جائیں گے اور یہ خطہ میدان جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ صورت حال پوری مسلم دنیا کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
ایران اور عراق نے یمن پر سعودی فضائی حملوں کی مخالفت کی ہے جب کہ مصری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگر یمن کی صورت حال اس بات کی متقاضی ہوئی تو عرب اتحادیوں کی مربوط کارروائی کے حصے کے طور پر مصری فضائیہ اور بحریہ بھی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ اس اتحادی فورس میں شامل ہو جائیں گے دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکا، اردن، سوڈان اور مراکش نے بھی یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی قیادت میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر دی ہے۔ اس طرح اس خطے میں مسلم ممالک کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر سکتے ہیں جو مسلم امہ کے اتحاد کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ٹیلی فون پر بھی رابطہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان کے مطابق سعودی عرب نے ہنگامی رابطہ کیا ہے لہٰذا یمنی باغیوں کے خلاف اتحاد کا حصہ بننے کی سعودی درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کے سعودی عرب سے گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور وہ سعودی عرب کی سلامتی کو بہت اہمیت دیتا ہے لہٰذا اس صورت حال سے پاکستان بھی اپنے آپ کو الگ تھلگ نہیں رکھ سکتا۔
مشرق وسطیٰ میں جنم لینے والے اس نئے بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت میں صلاح مشورے جاری ہیں، یہ ایک مشکل صورت حال ہے اور پاکستانی حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتی جس سے اس کے ملکی مفادات کو نقصان پہنچے اور مستقبل میں اس کے لیے مسائل پیدا ہوں۔ عرب لیگ اور او آئی سی کو مشرق وسطیٰ کو کسی نئے بحران سے بچانے کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ اگر یمن کی خانہ جنگی طوالت اختیار کرتی ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کی سلامتی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو جائے گا۔
اس صورت حال کے تناظر میں یمنی صدر عبدالرب منصور ہادی صدارتی محل سے فرار ہو کر نا معلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئے ہیں بعض اطلاعات کے مطابق وہ سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ علاوہ ازیں یمنی صدر منصور ہادی کی درخواست پر سعودی عرب نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں جس سے 13 افراد ہلاک ہوئے اور باغیوں کے کئی جنگی طیارے مار گرا دیے گئے جب کہ صدر ہادی کے حامیوں اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکا میں سعودی سفیر نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ حوثی باغی یمن کے لیے خطرہ ہیں جس سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے فوجی آپریشن شروع کیا ہے، آپریشن کا مقصد یمن کی قانونی حکومت کا دفاع کرنا اور انتہا پسند حوثی تحریک کو ملک پر قبضہ کرنے سے روکنا ہے، حوثی باغیوں کو یمن پر قبضے سے روکنے کے لیے 9 دیگر ممالک نے ایک اتحاد بنایا ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور چیف آف ایئر اسٹاف نے شرکت کی۔
اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔ علاوہ ازیں جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے خلاف جنگ میں شامل ہونے اور اپنے فوجی بھیجنے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا، سعودی عرب کے ساتھ ہمارا مقدس رشتہ ہے، کسی بھی فوجی اقدام سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورت حال ایک عرصے سے چلی آ رہی ہے، عراق، شام اور لیبیا میں ہونے والی خانہ جنگی نے ان ممالک کی سالمیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اب یمن خانہ جنگی کا شکار ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت مسلم ممالک خاص طور پر مشرق وسطیٰ کو نشانہ بنا کر انھیں تباہی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ یمن میں جنم لینے والی اس خانہ جنگی سے سعودی عرب کی سالمیت کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں لہٰذا اپنی خود مختاری کو برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب کو اس جنگ میں کودنا پڑا ہے۔
سعودی سیکیورٹی ایڈوائزر نواف عبید کے مطابق سعودی عرب نے ایک لاکھ پچاس ہزار فوج اور ایک سو لڑاکا طیاروں کو روانہ کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن کا مکمل فضائی کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ صورت حال اس امر کی غمازی کر رہی ہے کہ آیندہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں حالات شدید کشیدہ ہو جائیں گے اور یہ خطہ میدان جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ صورت حال پوری مسلم دنیا کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
ایران اور عراق نے یمن پر سعودی فضائی حملوں کی مخالفت کی ہے جب کہ مصری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگر یمن کی صورت حال اس بات کی متقاضی ہوئی تو عرب اتحادیوں کی مربوط کارروائی کے حصے کے طور پر مصری فضائیہ اور بحریہ بھی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ اس اتحادی فورس میں شامل ہو جائیں گے دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکا، اردن، سوڈان اور مراکش نے بھی یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی قیادت میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر دی ہے۔ اس طرح اس خطے میں مسلم ممالک کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر سکتے ہیں جو مسلم امہ کے اتحاد کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ٹیلی فون پر بھی رابطہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان کے مطابق سعودی عرب نے ہنگامی رابطہ کیا ہے لہٰذا یمنی باغیوں کے خلاف اتحاد کا حصہ بننے کی سعودی درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کے سعودی عرب سے گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور وہ سعودی عرب کی سلامتی کو بہت اہمیت دیتا ہے لہٰذا اس صورت حال سے پاکستان بھی اپنے آپ کو الگ تھلگ نہیں رکھ سکتا۔
مشرق وسطیٰ میں جنم لینے والے اس نئے بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت میں صلاح مشورے جاری ہیں، یہ ایک مشکل صورت حال ہے اور پاکستانی حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتی جس سے اس کے ملکی مفادات کو نقصان پہنچے اور مستقبل میں اس کے لیے مسائل پیدا ہوں۔ عرب لیگ اور او آئی سی کو مشرق وسطیٰ کو کسی نئے بحران سے بچانے کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ اگر یمن کی خانہ جنگی طوالت اختیار کرتی ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کی سلامتی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو جائے گا۔