پاکستان کی سعودی عرب کو حمایت کی پھر یقین دہانی

من کا جنم لینے والا بحران سعودی عرب کے لیے مستقبل میں کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے

عرب لیگ کے سربراہوں کو یمن کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں یہ خطہ کسی بڑے طوفان سے بچ سکے۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سعودی فرمانروا کو ایک بار پھر سعودی عرب کی سالمیت کو خطرے کی صورت میں بھرپور دفاع کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ہفتے کو سعودی فرمانروا شاہ سلیمان بن عبدالعزیز نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ٹیلی فون پر مدد کی درخواست کی جس پر وزیراعظم نے انھیں اپنی حمایت کا مکمل یقین دلایا۔ سعودی شاہ نے پاکستان کے علاوہ اردن' مصر' بحرین' کویت' قطر اور سوڈان کے سربراہوں سے بھی فون پر مدد کی درخواست کی جس پر ان تمام ممالک نے حوثی باغیوں کے خلاف ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اس کے علاوہ امریکی صدر اوباما اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی سعودی فرمانروا کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یمن کا بحران شروع ہونے کے بعد پاکستان میں اس حوالے سے متضاد رائے سامنے آ رہی ہیں کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر اپنی افواج سعودی عرب روانہ کر دینا چاہیے کیونکہ دونوں ممالک کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات ہیں، سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے ایسے میں پاکستان کو بھی اسے تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے اور اس کی ہر ممکن مدد کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ دوسری جانب بعض حلقے اس کے برعکس اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کیونکہ سعودی عرب کی مدد کرنے پر وہ نئی مشکلات اور مسائل میں پھنس سکتا ہے۔ پہلے ہی افغانستان کی جنگ میں مدد کرنے کا خمیازہ پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ یمن کی صورتحال پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل حکومت کو آل پارٹیز کانفرنس بلانی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس میں یمن کے مسئلے پر کوئی فیصلہ کرنے سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔ ان مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان صلاح مشوروں کا سلسلہ جاری ہے۔اب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف اسٹارم آپریشن میں سعودی عرب کی مکمل حمایت کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔


وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا موقف ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک سے قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور وہ ان کی سلامتی کو بہت اہمیت دیتا ہے' سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ عرب ممالک' امریکا اور برطانیہ کی جانب سے حمایت کے اعلان کے بعد سعودی عرب دفاعی لحاظ سے مضبوط پوزیشن میں آ گیا ہے اور اس کے حوثی باغیوں پر فضائی حملے جاری ہیں' ہفتے کو تازہ فضائی کارروائی میں مزید 21 حوثی باغی ہلاک ہو گئے جب کہ یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ باغیوں نے ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقے کے علاوہ بحیرہ عرب کی ساحلی پٹی کی جانب مزید پیشقدمی کی ہے۔

بعض ذرایع یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ یمن میں باغیوں کے ساتھ پانچ ہزار ایرانی جنگجو بھی لڑائی میں شریک ہو چکے ہیں' کشیدہ صورت حال کے باعث یمن کو نو فلائنگ زون قرار دے دیا گیا ہے۔ اس طرح یمن کا بڑھتا ہوا بحران اس خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مختلف ممالک کی جانب سے حمایت ملنے کے بعد سعودی عرب کی پوزیشن مضبوط ہونے کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر حوثی باغیوں نے اپنی مسلح بغاوت جاری رکھی اور حکومت سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا تو ان کا بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر ان باغیوں سے سعودی عرب کی جغرافیائی سالمیت کو خطرہ ہوا تو سعودی عرب اور اتحادی باغیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر سکتے ہیں اور اس طرح خطے میں حالات مزید کشیدہ ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

یمن کی تازہ ترین صورت حال پر غور کے لیے مصر میں عرب لیگ کے سربراہوں کا سالانہ اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ یمنی صدر منصور ہادی نے کہا ہے کہ باغیوں کی شکست تک اتحادی فوج کے فضائی حملے جاری رہنے چاہئیں۔ یمن کے بحران کے حل کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔ دوسری طرف یمن میں ہزاروں پاکستانی محصور ہو کر رہ گئے ہیں ان محصورین کو نکالنے کے لیے پاکستان سے بحری اور ہوائی جہاز روانہ ہو گئے ہیں۔ جب یمن میں شورش نے جنم ہی لیا تھا تو پاکستانی حکومت کو پاکستانیوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے فوری طور پر انتظامات کرنے چاہیے تھے اب تاخیر ہونے کے باعث یہ پاکستانی وہاں مشکلات میں گرگئے ہیں اور ان کی جانیں خطرے میں ہیں۔

یمن کا جنم لینے والا بحران سعودی عرب کے لیے مستقبل میں کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے۔ سعودی حکام کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہو گی۔معاشی طور پر خوشحال ہونے کے باوجود یہ ملک ابھی تک اپنے دفاع کے لیے کوئی بڑی فوج تیار نہیں کر سکا اور کسی مشکل مرحلے میں دوسرے ممالک سے مدد مانگنے پر مجبور ہے۔عرب لیگ کے سربراہوں کو یمن کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں یہ خطہ کسی بڑے طوفان سے بچ سکے۔
Load Next Story