سانحہ بلدیہ ٹاؤن معاوضوں کی تفصیلات طلب 2 گواہوں کے بیان آج قلمبند ہونگے

سانحہ بلدیہ ٹائون میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد سے متعلق مختلف سرکاری حکام کے بیانات میں تضاد ہے

70 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہیں، ڈی این اے کرانے میں تاخیر ہورہی ہے، درخواست گزار کا موقف۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے سانحہ بلدیہ ٹائون میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں اور ناقابل شناخت لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ سے متعلق 10دن میں رپورٹ طلب کرلی۔

جبکہ عدالت عالیہ نے متاثرین کو ادا کیے جانے والے معاوضوں کی بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے، علاوہ ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل احمد مشوری نے بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر جہاں زیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے جیل حکام کو جیل میں قید فیکٹری کے مالکان سمیت6ملزمان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہوئے ملزمان کو آج( منگل)کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ سانحے کے2شاہدین محمد زبیر اور عبدالمجید کا ضابطہ فوجداری کی ایکٹ164کے تحت بیان قلمبند کرانا ہے۔


جس پر فاضل عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے گواہوں کو بھی طلب کرلیا، تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے سانحہ بلدیہ ٹائون میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں اور ناقابل شناخت لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ سے متعلق 10دن میں رپورٹ طلب کرلی ہے، فاضل بینچ نے پائلر،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سمیت دیگر این جی اوز کے وسیم اقبال ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹائون میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد سے متعلق مختلف سرکاری حکام کے بیانات میں تضاد ہے۔

اس لیے اس حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے،70 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہیں اور ان لاشوں کے ڈی این اے کرانے میں بھی تاخیر ہورہی ہے،ڈی این اے کی تفصیلات طلب کی جائیں اور ہدایت کی جائے کہ ڈی این اے کے عمل کو تیز کیا جائے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ مختلف شخصیات اور اداروں نے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا ہے،اس حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے، عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10دن میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فیکٹری مالکان کے اثاثہ جات کی تفصیلات طلب کی جائیں۔

علاوہ ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل احمد مشوری نے بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر جہاں زیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے جیل حکام کوجیل میں قید فیکٹری کے مالکان ارشد بھائیلہ ، شاہد بھائیلہ ، جنرل منیجر منصور احمد ، سیکیورٹی گارڈز فضل احمد ، ارشد محمود ، علی محمد کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہوئے مذکورہ 6ملزمان کو آج( منگل) عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا ہے اور تفتیشی افسر کو ضمانت پررہا فیکٹری مالک عبدالعزیز سمیت دیگر کو نوٹس تعمیل کرانے کی ہدایت کی ہے قبل ازیں تفتیشی افسر نے عدالت میں پیش ہوکر تحریری طور پر عدالت کو بتایا کہ سانحہ کے دو شاہدین محمد زبیر اور عبدالمجید کا ضابطہ فوجداری کی ایکٹ164کے تحت بیان قلمبند کرانا ہے، فاضل عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے گواہوں کو بھی طلب کرلیا۔
Load Next Story