یمن سے 502 پاکستانیوں کی بخیریت واپسی

یمن کے حالات میں ابھی تک بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے بلکہ روز بروز ابتری میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

یمن کے مسئلے پر حکومت کو فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا چاہیے تاکہ اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ فوٹو: محمد نعمان/ ایکسپریس نیوز

لاہور:
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جنگ زدہ یمن سے پی آئی اے کا طیارہ 502 پاکستانیوں کو لے کر بخیریت وطن واپس پہنچ گیا۔ اتوار کو طیارہ کراچی ایئر پورٹ اترا تو مسافروں کا پرتپاک استقبال کیا گیا اس موقع پر انتہائی رقت آمیز اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، مسافر سجدہ ریز ہو گئے اور فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق یمن میں پھنسے ہوئے دیگر پاکستانیوں کو لانے کے لیے کراچی ایئر پورٹ سے مزید پروازیں یمن روانہ کی جائیں گی، جنگ زدہ علاقوں میں رات کے اوقات میں پرواز نہیں کی جاتی اس لیے حکومت نے دن کے اوقات میں فضائی آپریشن کی ہدایت دی ہے۔ مسافروں نے ہنگامی اقدامات کرنے پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور ایکسپریس ٹی وی چینل کی کاوشوں کو سراہا جس نے یمن میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو وطن پہنچانے میں قومی فریضہ بخوبی انجام دیا۔

یمن کے حالات میں ابھی تک بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے بلکہ روز بروز ابتری میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی ممالک کے فضائی حملے چوتھے روز بھی جاری رہے جس میں مزید 45 ہلاکتیں ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سعودی فوج کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق حوثی باغیوں کو یمن کے تمام فوجی اڈوں سے پیچھے دھکیل دیا گیا جب کہ بمباری سے صنعا کا بین الاقوامی ایئر پورٹ تباہ ہو گیا ہے۔

سعودی فوج کے ترجمان کے مطابق یمن میں زمینی کارروائی کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے۔ عراق اور افغانستان پر امریکی حملوں میں ایک نئی جنگی حکمت عملی سامنے آئی کہ دشمن پر پہلے فضائی حملے کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا جائے اور پھر زمینی کارروائی کر کے وہاں پر قبضہ کر لیا جائے۔ یہی جنگی پالیسی اب یمن میں بھی اختیار کی جا رہی ہے۔ عرب اتحادی ممالک فضائی کارروائیوں کے ذریعے سے حوثی باغیوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور مطلوبہ ٹارگٹ پورا ہونے کے بعد زمینی حملہ کیا جا سکتا ہے۔ عرب لیگ کے سربراہ نبیل العرابی کا کہنا ہے کہ سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی باغیوں کے ہتھیار ڈالنے تک جاری رہے گی۔

علاوہ ازیں مصر میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے دوران خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ فوج تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا۔ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کے مطابق مشترکہ فوج چالیس ہزار ایلیٹ فوجیوں پر مشتمل ہو گی جس کی تشکیل اعلیٰ سطح کا پینل کرے گا جو عرب ممالک کے فوجی سربراہان کی نگرانی میں کام کرے گا۔ یمن میں شروع ہونے والی جنگ مسلمان گروہوں کے درمیان لڑی جا رہی ہے جو مسلم اتحاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر اس جنگ پر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو خدشہ ہے کہ یہ پھیل کر مختلف مسلم ممالک خاص طور پر مشرقی وسطیٰ کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

یہ امر مسلمان حکومتوں کے لیے پریشان کن ہے مسلم ممالک جو پہلے ہی مختلف مسائل میں گھرے ہوئے ہیں مزید مشکلات کا شکار ہو کر کمزور ہو جائیں گے۔ یمن میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کسی گہری سازش کا حصہ بھی ہو سکتی ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو باہم برسرپیکار کر کے کمزور کرنا اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلیمان بن عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ بعض عرب ممالک میں اٹھنے والی شورش اور بدنظمی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے درمیان اتحاد کا نتیجہ ہے۔ دہشت گردی اس قدر پھیل اور مضبوط ہو چکی ہے کہ مسلم ممالک کی افواج کو اس کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔


اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے عفریت کے خلاف تنہا لڑنے کے بجائے تمام مسلم ممالک متحد ہو کر مشترکہ طور پر کوئی لائحہ عمل طے کریں۔ اگر اب بھی اس مسئلے پر غور نہ کیا گیا تو مستقبل میں دہشت گرد مزید مضبوط ہو کر تمام مسلم ممالک کی سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے یمن کے مسئلے پر پاکستان سمیت مختلف عرب ممالک سے مدد مانگی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورت حال بہت پیچیدہ اور گمبھیر ہے سعودی عرب کے ساتھ اس کے گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی خطرہ سامنے آیا تو ہر سطح پر اس کا ساتھ دیا جائے گا۔

بعض ذرایع کے مطابق یمن کے مسئلے پر سرکاری پالیسی کے تعین کے لیے حکومت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے پر غور کر رہی ہے تاکہ اتفاق رائے سے اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔ بعض حلقے سعودی عرب میں فوج بھیجنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ایسا کرنے سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک پہلے ہی افغان جنگ میں حصہ لینے کے اثرات بھگت رہا ہے اس لیے حکومت اب کوئی ایسی غلطی نہ دہرائے۔ دوسری جانب بعض حلقے سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا مطالبہ شد و مد سے کر رہے ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ ایسے مشکل حالات میں سعودی عرب کی مدد نہ کرنا بھی ایک بڑی غلطی ہو گی، فوج نہ بھیج کر پاکستان مستقبل میں سعودی عرب جیسے بہترین دوست کی حمایت کھو بیٹھے گا جس کا پاکستان کسی بھی طور پر متحمل نہیں ہو سکتا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا پیغام اتوار کو پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما رحمان ملک کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور یمن میں باغیوں کے خلاف سعودی آپریشن کی مکمل حمایت کرتی ہے، کوئی بھی مسلمان سعودی عرب میں واقع مقدس مقامات پر آنچ نہیں آنے دے گا، مشکل وقت میں امت مسلمہ کو یک جہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوج بھیجنے سے قبل حکومت فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کرے تاکہ سیاست دان مل کر ملکی مفاد کے حوالے سے کوئی حل تلاش کر سکیں۔ یمن کے مسئلے پر حکومت کو فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا چاہیے تاکہ اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ دوسری جانب یمن میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے خبروں کے مطابق عدن میں پھنسے 150 سے 200 پاکستانی اب بھی تشویش میں مبتلا ہیں، کئی خاندان گھروں میں قید ہیں، خوراک اور پانی کی قلت ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ عدن میں شدید لڑائی کی وجہ سے ایئر پورٹ تک رسائی ممکن نہیں، پاک بحریہ کا جہاز عدن کی جانب روانہ ہو چکا ہے اور اس سلسلے میں چینی حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ پی آئی اے کے عملے نے جس طرح جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یمن میں پھنسے ہوئے 502 پاکستانیوں کو نکالا ہے وہ جذبہ قابل ستائش ہے۔ امید ہے کہ وہاں رہ جانے والے مشکل میں گرفتار پاکستانیوں کو بھی جلد از جلد وطن واپس لایا جائے گا۔ جب یمن میں حالات خراب ہونے کی خبریں آنا شروع ہوئی تھیں تو حکومت پاکستان کو اسی وقت وہاں مقیم پاکستانیوں کو نکال لینا چاہیے تھا۔ اس طرح وہ سنگین صورت حال پیدا نہ ہوتی جو اب ہو چکی ہے۔

بعض حلقے یمن میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال کو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں،اگر ابھی سے پیش بندی نہ کی گئی تو پورا عرب خطہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے امریکا اور اتحادی ممالک نے منصوبہ بندی کے تحت عراق، افغانستان، لیبیا اور شام کو نشانہ بنایا ہے، اب براہ راست حملہ کرنے کے بجائے مسلمانوں کے گروہوں کو آپس میں لڑوا کر انھیں تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔مسلم حکمرانوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے باہمی اختلافات کو لڑ جھگڑ کر حل کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ورنہ نقصان انھی کا ہوگا۔
Load Next Story