توانائی کے 2 منصوبوں کو 30 کروڑ 70 لاکھ کی سبسڈی دی جائیگی

حکومت نے اقدام سندھ میں لوڈشیڈنگ کے طویل دورانیے کو کم کرنے کے لیے کیاہے

یہ سبسڈی حکومت سندھ کی جانب سے پاورپلانٹس کو دی جائیگی کیونکہ انھیں ٹیرف ریٹ کم ہونے کے باعث نقصانات کا سامنا ہے۔ فوٹو: فائل

سندھ میں لوڈشیڈنگ کے طویل دورانیے کو کم کرنے کے لیے سندھ حکومت نے صوبے میں گیس سے چلنے والے 2 پاور پروجیکٹس کو فعال بنانے کیلیے 30 کروڑ70 لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

یہ سبسڈی حکومت سندھ کی جانب سے پاورپلانٹس کو دی جائیگی کیونکہ انھیں ٹیرف ریٹ کم ہونے کے باعث نقصانات کا سامنا ہے، سندھ حکومت پاور پروجیکٹس کی انتظامیہ کو پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے ادائیگیوں کے حوالے سے گارنٹی بھی فراہم کریگی، سندھ حکومت کی جانب سے یہ تجویز صوبائی وزیر توانائی و خزانہ مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (پی پی پی) پالیسی بورڈکے14ویں اجلاس میں پیش کی گئی جس پر بحث کے بعد اس پر اتفاق کیا گیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ تجویز وفاق سے منظور کرا کر اس پر عمل کیا جائے۔


پی پی پی پالیسی بورڈ نے دیگر ترقیاتی منصوبوں باالخصوص کراچی میں بی آر ٹی ، ٹرانسپورٹ اور نیشنل ہائی وے این ۔5اور سپر ہائی وے ایم 9کے درمیان 13 کلو میٹر سڑک کوڈبل روڈ میں تبدیل کرنے کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت سرمایہ کاری پر بھی غور کیا گیا، صوبے میں موجود 2 بڑے گیس سے چلنے والے پاورپروجیکٹس کی بحالی کے منصوبے کے حوالے سے بتاتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ و انرجی مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر داد و اور نو ڈیرو میں موجود گیس پر چلنے والے 2غیر فعال پاور پروجیکٹس جو کہ نیو کیپٹیو پاور پروجیکٹس کے تحت قائم ہیں ان کو سندھ حکومت سبسڈی کی مدد سے فعال کرنے کی تجویز واپڈ کی پیش کر رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دادو میں موجود پاور پروجیکٹس 16میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے جس کے لیے اسے 140ملین سبسڈی کی ضرورت ہے جبکہ نوڈیروپاورپروجیکٹ کو 26میگا واٹ بجلی پیدا کریگا لیکن اسے چلانے کے لیے اندازاً 230ملین روپے کی سبسڈی درکار ہے،انھوں نے بتایا کہ زیرغورتجویز کے تحت دونوں پاور پروجیکٹس کی بجلی مقامی 132KVلائن کو منتقل کی جائیگی۔

اجلاس کے دوران نیشنل اور سپر ہائی وے کے درمیان 13کلو میٹر لینک روڈ کو ڈبل کرنے کے منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ چونکہ یہ سڑک ایجوکیشن سٹی کراچی کو مختص کیے گئے علاقے سے گذرے گی اس لیے اس منصوبے پر عملدرآمد بھی ایجوکیشن سٹی بورڈ کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا جائیگا، انھوں نے اس حوالے سے وزیراطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن، وزیرخزانہ و توانائی سیدمراد علی شاہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی عمر ملک اورایجوکیشن سٹی بورڈ کے دونمائندوں پر مشتمل 5رکنی کمیٹی تشکیل دی۔
Load Next Story