محکمہ صحت کی غفلت سے 53 ڈائیلسس مشینوں میں سے 43 غیر فعال
بیشتر سرکاری اسپتالوں میں ڈائیلسس کرنے کا تکنیکی عملہ دستیاب نہیں جس کی وجہ سے مشینیں غیر فعال پڑی ہیں۔
محکمے کی عدم توجہی کی وجہ سے مشینوں کو چلانےکیلیے کہیں عملہ نہیں توکئی اسپتالوں میں بجلی کی عدم فراہمی جیسےمسائل کاسامنا ہے۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
محکمہ صحت کی عدم توجہی سے مریضوں کو حصول علاج میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
لیاری جنرل اسپتال سمیت صوبے کے مختلف اسپتالوں میں نصب 53 ڈائیلسس مشینوں میں سے 43 غیر فعال پڑی ہیں جس کی وجہ سے امراض گردہ کے مریض حصول علاج سے محروم ہوگئے جن اسپتالوں میں مشینیں نصب ہیں ان میں سے بیشتر اسپتالوں میں مشینیں چلانے کیلیے عملہ میسر نہیں جبکہ دیگر اسپتالوں میں بجلی اورفنڈزکی عدم دستیابی وجہ بتائی گئی ہے، تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے کراچی کے لیاری اسپتال سمیت سندھ کے بیشتراسپتالوں میں جہاں دیگر مسائل کا سامنا ہے، گردوں کے مریضوں کو ڈائیلسس کی سہولتیں ناپید ہوتی جارہی ہیں،محکمے کی عدم توجہی کی وجہ سے ڈائیلسس کی مشینیں یا توخراب ہیں یا پھران مشینوں کو چلانے کیلیے کہیں عملہ نہیں توکئی اسپتالوں میں بجلی کی عدم فراہمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق لیاری جنرل اسپتال میں 5 ڈائیلسس مشینوں میں سے 3 خراب ہیں سول اسپتال سکھر میں 10ڈائیلسس مشینیں نصب ہیں لیکن اسپتال میں ان مشینوں کو چلانے والا عملہ میسر نہیں جس کی وجہ سے مشینیں غیر فعال ہیں، سول اسپتال خیرپور میں 18مشینیں نصب ہیں ان میں سے 12مشینیں خراب جبکہ4مشینوں کو ایک غیر سرکاری تنظیم کے ماتحت کردیا گیا جبکہ2مشینوں کے پرزے میسر نہیں ،سول اسپتال جیکب آباد میں 6مشینیں غیر فعال پڑی ہیں، شہداد پور اسپتال میں بجلی کی فراہمی جیسے سنگین مسائل کی وجہ سے مشینیں غیر فعال ہیں، گھوٹکی اسپتال میں3 مشینوں میں سے 2 خراب پڑی ہیں جبکہ شکارپور اسپتال میں ایک ڈائیلسس مشین غیرفعال ہے، اس طرح صوبے کے 8اضلاع کے ان سرکاری اسپتالوں میں مجموعی طورپر 53 ڈائیلسس مشینوں میں سے43غیر فعال ہیں یا عملہ دستیاب نہیں جس کی وجہ سے امراض گردہ کے مریضوں کو ڈائیلسس جیسے حساس نوعیت کا علاج میسر نہیں۔
ماہرین کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں ڈائیلسس کی مشینیں خراب ہونے سے مریضوں کی اکثریت کو نجی اسپتالوں میں ڈائیلسس کرانا پڑ رہا ہے جہاں غریب مریضوں کو ایک بار ڈائیلسس کرانے 5 ہزار روپے ادا کرنے پڑرہے ہیں، ماہرین نے کہاکہ بیشتر سرکاری اسپتالوں میں ڈائیلسس کرنے کا تکنیکی عملہ دستیاب نہیں جس کی وجہ سے مشینیں غیر فعال پڑی ہیں۔
محکمہ صحت کی عدم توجہی سے مریضوں کو حصول علاج میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
لیاری جنرل اسپتال سمیت صوبے کے مختلف اسپتالوں میں نصب 53 ڈائیلسس مشینوں میں سے 43 غیر فعال پڑی ہیں جس کی وجہ سے امراض گردہ کے مریض حصول علاج سے محروم ہوگئے جن اسپتالوں میں مشینیں نصب ہیں ان میں سے بیشتر اسپتالوں میں مشینیں چلانے کیلیے عملہ میسر نہیں جبکہ دیگر اسپتالوں میں بجلی اورفنڈزکی عدم دستیابی وجہ بتائی گئی ہے، تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے کراچی کے لیاری اسپتال سمیت سندھ کے بیشتراسپتالوں میں جہاں دیگر مسائل کا سامنا ہے، گردوں کے مریضوں کو ڈائیلسس کی سہولتیں ناپید ہوتی جارہی ہیں،محکمے کی عدم توجہی کی وجہ سے ڈائیلسس کی مشینیں یا توخراب ہیں یا پھران مشینوں کو چلانے کیلیے کہیں عملہ نہیں توکئی اسپتالوں میں بجلی کی عدم فراہمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق لیاری جنرل اسپتال میں 5 ڈائیلسس مشینوں میں سے 3 خراب ہیں سول اسپتال سکھر میں 10ڈائیلسس مشینیں نصب ہیں لیکن اسپتال میں ان مشینوں کو چلانے والا عملہ میسر نہیں جس کی وجہ سے مشینیں غیر فعال ہیں، سول اسپتال خیرپور میں 18مشینیں نصب ہیں ان میں سے 12مشینیں خراب جبکہ4مشینوں کو ایک غیر سرکاری تنظیم کے ماتحت کردیا گیا جبکہ2مشینوں کے پرزے میسر نہیں ،سول اسپتال جیکب آباد میں 6مشینیں غیر فعال پڑی ہیں، شہداد پور اسپتال میں بجلی کی فراہمی جیسے سنگین مسائل کی وجہ سے مشینیں غیر فعال ہیں، گھوٹکی اسپتال میں3 مشینوں میں سے 2 خراب پڑی ہیں جبکہ شکارپور اسپتال میں ایک ڈائیلسس مشین غیرفعال ہے، اس طرح صوبے کے 8اضلاع کے ان سرکاری اسپتالوں میں مجموعی طورپر 53 ڈائیلسس مشینوں میں سے43غیر فعال ہیں یا عملہ دستیاب نہیں جس کی وجہ سے امراض گردہ کے مریضوں کو ڈائیلسس جیسے حساس نوعیت کا علاج میسر نہیں۔
ماہرین کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں ڈائیلسس کی مشینیں خراب ہونے سے مریضوں کی اکثریت کو نجی اسپتالوں میں ڈائیلسس کرانا پڑ رہا ہے جہاں غریب مریضوں کو ایک بار ڈائیلسس کرانے 5 ہزار روپے ادا کرنے پڑرہے ہیں، ماہرین نے کہاکہ بیشتر سرکاری اسپتالوں میں ڈائیلسس کرنے کا تکنیکی عملہ دستیاب نہیں جس کی وجہ سے مشینیں غیر فعال پڑی ہیں۔