پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ ہر صورت روکی جائے آئی جی
منشیات کے اڈے بند نہ کرانے پر ڈی ایس پی اور تھانیدار کو فارغ کردیا جائے گا، آئی جی سندھ
منشیات کے اڈے بند نہ کرانے پر ڈی ایس پی اور تھانیدار کو فارغ کردیا جائے گا، آئی جی سندھ ۔ فوٹو: فائل
سینٹرل پولیس آفس میں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں امن وامان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
آئی جی نے ایڈیشنل آئی جی کو ہدایت کی کہ پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے موثر حکمت عملی تیار کی جائے اورایسے واقعات سے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی کے تمام پہلوؤں کاجائزہ لے کر اہلکاروں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں،شہر میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو کامیاب بناتے ہوئے مجرمان کی سرکوبی کو یقینی بنایا جائے، اجلاس میں بتایا گیا کہ منشیات اورجوئے کے81اڈے ختم کردیے گئے ہیں،اسپیشل برانچ نے باقی اڈوں کی فہرستیں زونل ڈی آئی جیزکوفراہم کردی ہیں۔
منشیات اور جوئے کے اڈے بندنہ کرانے پر متعلقہ علاقے کے ڈی ایس پی اورایس ایچ اوکوملازمت سے فارغ کردیاجائے گا، آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے گاجس میں منشیات اور جوئے کے اڈوں کے خاتمے سے متعلق تفصیلی جائزہ لیاجائے گا،اس موقع پر انھوں نے کاؤنٹرٹیرارزم ڈپارٹمنٹ کوہدایات دیں کہ پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے انویسٹی گیشن سے متعلق تمام ضروری امورمیں کراچی پولیس کی معاونت کی جائے۔
آئی جی نے ایڈیشنل آئی جی کو ہدایت کی کہ پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے موثر حکمت عملی تیار کی جائے اورایسے واقعات سے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی کے تمام پہلوؤں کاجائزہ لے کر اہلکاروں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں،شہر میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو کامیاب بناتے ہوئے مجرمان کی سرکوبی کو یقینی بنایا جائے، اجلاس میں بتایا گیا کہ منشیات اورجوئے کے81اڈے ختم کردیے گئے ہیں،اسپیشل برانچ نے باقی اڈوں کی فہرستیں زونل ڈی آئی جیزکوفراہم کردی ہیں۔
منشیات اور جوئے کے اڈے بندنہ کرانے پر متعلقہ علاقے کے ڈی ایس پی اورایس ایچ اوکوملازمت سے فارغ کردیاجائے گا، آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے گاجس میں منشیات اور جوئے کے اڈوں کے خاتمے سے متعلق تفصیلی جائزہ لیاجائے گا،اس موقع پر انھوں نے کاؤنٹرٹیرارزم ڈپارٹمنٹ کوہدایات دیں کہ پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے انویسٹی گیشن سے متعلق تمام ضروری امورمیں کراچی پولیس کی معاونت کی جائے۔