گندم کی امدادی قیمت 1250 روپے من مقررکرنے کامطالبہ

بوائی رواں ماہ شروع ہوجائے گی، پیداواری لاگت 10 فیصدبڑھنے کاخدشہ ہے، ذرائع

بوائی رواں ماہ شروع ہوجائے گی، پیداواری لاگت 10 فیصدبڑھنے کاخدشہ ہے، ذرائع فوٹو فائل

زرعی شعبے نے بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کو پورا کرنے اورمقامی ضروریات کے مطابق گندم کی پیداوار بڑھانے کیلیے کم ازکم امدادی قیمت 1250 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کردیا۔

وفاقی حکومت کو تجویز دی ہے کہ گزشتہ سال کی پیدواری لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ سال ربیع سیزن کیلیے گندم کی امدادی قیمت1250 روپے من مقرر کرنے کا میکنزم مرتب کرے۔ زرعی شعبے کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کاشتکاروں کی جانب سے رواں ماہ سے ہی ملک بھر میں گندم کی بوائی کا عمل شروع ہوجائے گا جس کیلیے کاشتکاروں کو آبپاشی، زمین کی تیاری، پیداواری بیج، لیبر اور نقل وحمل کی مد میں اضافی اخراجات کے بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاورٹیرف اور ڈیزل کی قیمتوں میں مستقبل بنیادوں پر ہونے والا اضافہ گندم کے کاشتکاروں کیلیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔


پاکستان میں گندم کی پیدوار جمود کاشکار ہے تاہم ماضی میں جب بھی حکومتی سطح پر بوائی کے موسم سے قبل امدادی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا تو کاشتکاروں نے اس کے جواب میںگندم کی بمپر پیداوار کی ہے لہٰذا وفاقی حکومت کے متعلقہ پالیسی سازوں کوچاہیے کہ وہ گندم کی بوائی سے قبل کاشتکاروں کی توقعات کے مطابق اس کی امدادی قیمت کا تعین کرے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اکتوبرسے گندم کی بین الاقوامی مارکیٹ میں فی ٹن گندم کی قیمت60 ڈالر بڑھ چکی جسے مدنظر رکھتے ہوئے مقامی پالیسی سازوں کو ہر40 کلوگرام گندم کی کم ازکم قیمت میں200 روپے کے اضافے کی ضرورت ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کسانوں کی پیداواری لاگت میں کم ازکم10 فیصد اضافہ ہوگا اور اس اضافے کی بنیادی وجہ ڈیزل کی قیمتوں میںہونے والا 22 فیصد اضافہ ہے جس کے اثرات فصل کیلیے پانی کی ترسیل، مشین سے زمین کی تیاری اور پیداواری نقل وحمل کے اخراجات پر مرتب ہوں گے، اسی طرح فارم لیبر اور گندم کے بیجوں کی قیمت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں10 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، ان زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت کو مقامی گندم کی قیمت کے استحکام اور پیداوار بڑھانے کیلیے گندم کی پیداواری قیمت میں کم ازکم 10 فیصد اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story