بزنس کمیونٹی نے بد امنی پر 2 روزہ ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دیدی

لاہورمیں جلد کنونشن بلاکرلائحہ عمل کافیصلہ کیا جائیگا، ایس ایم منیر

میاں زاہد، سینیٹر عبدالحسیب، چھایا کا استقبالیے سے خطاب فوٹو: پی پی آئی/ فائل

حکومت کی جانب سے بگڑتی صورتحال کوفوری درست نہ کرنے کی صورت میں کراچی کے تاجروںوصنعتکاروں نے اپنی سرگرمیوں کو بند کرکے دوروزہ ملک گیرہڑتال کی دھمکی دیدی ہے۔


کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے ڈی ایس آئی گروپ کی جانب سے کاٹی کے نومنتخب عہدیداروں کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کے دوران کہا کہ کراچی کے تاجر وصنعتکار امن وامان کی انتہائی مخدوش صورت حال سے دلبرداشہ ہوگئے ہیں، حالات کی بہتری کیلیے فوری اور موثر اقدامات بروئے کار نہیں لائے جاتے تو تاجرو صنعتکاروں کی جانب سے مکمل طور پر کاروبار کی بندش کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ ایس ایم منیر نے بتایا کہ لاہور میں جلد ہی ملک گیر کنونشن کے دوران مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا، تاجر برادری کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پولیس کو وی آئی پی اورپروٹوکول کی ذمے داریوں سے آزاد کیا جائے۔

سانحہ بلدیہ ٹائون کا ذکر کرتے ہوئے ایس ایم منیرنے کہا کہ 2 ارب روپے مالیت کی سالانہ برآمدات کرنیوالے فیکٹری مالکان ازخود کبھی بھی اپنی فیکٹری میں آگ نہیں لگواسکتے، ضرورت اس امر کی ہے کہ مذکورہ فیکٹری کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جائے تاکہ 1500افراد کو دوبارہ روز گارکے مواقع میسر آسکیں۔ اس موقع پرآل کراچی بزنس الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا کہ بھتے اور اغوا برائے تاوان کا مسئلہ بے قابو ہو گیا ہے، ایسی سنگین صورتحال اب تاجربرادری کی قوت برداشت سے باہر ہوگئی ہے،تاجر برادری جلد ہی کنونشن میں ہڑتال سے متعلق حتمی فیصلے کا اعلان کردے گی۔سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ کراچی کی صورتحال ناقابل برداشت ہوگئی ہے، تاجروں کو متحد ہوکر کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ کاٹی کے چیئرمین چھایا نے کہا کہ تمام انڈسٹریل ایسوسی ایشنز کوحقوق کے دفاع کیلیے مشترکہ پلیٹ فارم بنانا چاہیے۔ اس موقع پر ڈی ایس آئی گروپ کے چیئرمین شبیر ڈیسائی نے بھی خطاب کیا۔
Load Next Story