فتح کی چوکھٹ پرآکرچکرا جانا سری لنکن عادت بن گئی
پریشرمیچ میںٹیم سے پھرچوک ہوگئی(کپتان)ہار پراخبارات نے بھی خوب بھڑاس نکالی
پریشرمیچ میںٹیم سے پھرچوک ہوگئی(کپتان)ہار پراخبارات نے بھی خوب بھڑاس نکالی فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
فتح کی چوکھٹ پر پہنچ کر چکرا جانا سری لنکا کی عادت بن گئی۔
کپتان مہیلا جے وردنے نے تسلیم کیا کہ پریشر میچ میں پھر ان کی ٹیم سے چوک ہوگئی، سری لنکن اخبارات نے بھی فائنل میں شکست کے بعدخوب بھڑاس نکالی۔ تفصیلات کے مطابق بڑے ٹورنامنٹس کے ناک آئوٹ میچز میں ناکام رہنے کی وجہ سے پہلے جنوبی افریقی ٹیم کو چوکرز کہا جاتا تھا مگراب اس لیبل پر سری لنکا نے قبضہ کرلیا ہے، اس منفی ریکارڈ میں آئی لینڈرز پروٹیز سے کہیں آگے نکل گئے ہیں، پانچ برس کے دوران 4 ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کے فائنل میں سری لنکا ٹیم کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، اس کا آغاز ون ڈے ورلڈ کپ 2007 کے فائنل سے ہوا جب آسٹریلیا نے سری لنکا کو شکست سے دوچار کیا، ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ 2009 میں پاکستان نے فیصلہ کن مرحلے میں آئی لینڈرز کو پچھاڑا۔
گذشتہ برس ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت نے سری لنکا پر فتح پائی اور اب ویسٹ انڈیز نے اسے اس کے ہوم گرائونڈ پر ٹرافی تک پہنچنے سے باز رکھا۔ مہیلا جے وردنے نے بھی تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم ہائی وولٹیج میچز کا دبائو جھیل نہیں پاتی، انھوں نے کہا کہ جب بھی ہر کسی پریشر صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں تو بہتر انداز میں ردعمل پیش نہیں کرپاتے، ایک ٹیم ہونے کے ناطے ہم نے اپنے شائقین کو خوشی دینے کیلیے سب کچھ کیا مگر ان کو وہ چیز نہیں دے پائے جو وہ چاہتے تھے۔
اس سے بڑی مایوسی اور کیا ہوگی، ہمیں اب تمام معاملات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی اس خامی پر قابو پانا ہوگا۔ ادھر سری لنکا کے ایک اخبار سیلون ٹوڈے نے لکھا کہ 'شیر کی خاموشی' ویسٹ انڈیز خطرہ ثابت ہوا اور اس نے سری لنکن قبرستان پر رقص کیا'۔ ڈیلی مرر نے مارلون سموئلز کی میچ وننگ پرفارمنس کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ' سموئلز نے چوکرز کی چٹنی بنادی' سری لنکا چوکرز کا لیبل برقرار رکھتے ہوئے ہار گیا ۔
فتح کی چوکھٹ پر پہنچ کر چکرا جانا سری لنکا کی عادت بن گئی۔
کپتان مہیلا جے وردنے نے تسلیم کیا کہ پریشر میچ میں پھر ان کی ٹیم سے چوک ہوگئی، سری لنکن اخبارات نے بھی فائنل میں شکست کے بعدخوب بھڑاس نکالی۔ تفصیلات کے مطابق بڑے ٹورنامنٹس کے ناک آئوٹ میچز میں ناکام رہنے کی وجہ سے پہلے جنوبی افریقی ٹیم کو چوکرز کہا جاتا تھا مگراب اس لیبل پر سری لنکا نے قبضہ کرلیا ہے، اس منفی ریکارڈ میں آئی لینڈرز پروٹیز سے کہیں آگے نکل گئے ہیں، پانچ برس کے دوران 4 ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کے فائنل میں سری لنکا ٹیم کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، اس کا آغاز ون ڈے ورلڈ کپ 2007 کے فائنل سے ہوا جب آسٹریلیا نے سری لنکا کو شکست سے دوچار کیا، ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ 2009 میں پاکستان نے فیصلہ کن مرحلے میں آئی لینڈرز کو پچھاڑا۔
گذشتہ برس ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت نے سری لنکا پر فتح پائی اور اب ویسٹ انڈیز نے اسے اس کے ہوم گرائونڈ پر ٹرافی تک پہنچنے سے باز رکھا۔ مہیلا جے وردنے نے بھی تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم ہائی وولٹیج میچز کا دبائو جھیل نہیں پاتی، انھوں نے کہا کہ جب بھی ہر کسی پریشر صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں تو بہتر انداز میں ردعمل پیش نہیں کرپاتے، ایک ٹیم ہونے کے ناطے ہم نے اپنے شائقین کو خوشی دینے کیلیے سب کچھ کیا مگر ان کو وہ چیز نہیں دے پائے جو وہ چاہتے تھے۔
اس سے بڑی مایوسی اور کیا ہوگی، ہمیں اب تمام معاملات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی اس خامی پر قابو پانا ہوگا۔ ادھر سری لنکا کے ایک اخبار سیلون ٹوڈے نے لکھا کہ 'شیر کی خاموشی' ویسٹ انڈیز خطرہ ثابت ہوا اور اس نے سری لنکن قبرستان پر رقص کیا'۔ ڈیلی مرر نے مارلون سموئلز کی میچ وننگ پرفارمنس کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ' سموئلز نے چوکرز کی چٹنی بنادی' سری لنکا چوکرز کا لیبل برقرار رکھتے ہوئے ہار گیا ۔