یمن کی صورتحال مسلم یکجہتی کی منتظر

یمن میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال ایک بڑے مصالحتی اور دوراندیشانہ فیصلہ کی منتظر ہے

پاکستان مسلم دنیا میں انتشارکا خاتمہ چاہتا ہے۔ دنیا کو یہ بتانا ضروری ہے کہ سعودی عرب کی سالمیت کو خطرہ ہوا تو تمام وسائل فراہم کرینگے۔ فوٹو : فائل

QUETTA:
یمن میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال ایک بڑے مصالحتی اور دوراندیشانہ فیصلہ کی منتظر ہے اور ہمہ گیر عالمی اقدام کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے عظیم اتحاد و یک جہتی کا تقاضہ کرتی ہے۔

اس لیے کہ سعودی فورسز اورباغی گروپوں میں یمنی سرحد پر خوفناک جھڑپیں جاری ہیں، فریقین راکٹوں ، توپخانے سے ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں، عدن میں بھی کشت و خون کا سلسلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عندیہ دے چکا ہے جب کہ ایران نے اپیل کی ہے کہ آپریشن فوری روکا جائے، تاہم عالمی سطح پر یمن کے بحران کو حل کرنے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے جس مشترکہ عالمی عزم و اقدام کی توقع کی جارہی تھی اس کا کوئی شائبہ بھی دکھائی نہیں دیا، بادی النظر میں صدر اوباما سمیت دیگر عالمی رہنما یمن کی صورتحال کو تشویش ناک قرار دے چکے ہیں اور برطانیہ نے یمن کے باغیوں کی کارروائی کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان جنگجوؤں کی نظر میں بین الاقوامی قوانین اور یمن میں جمہوری اور سیاسی عمل کی کوئی وقعت نہیں ۔

اس نازک مرحلہ میں پاکستان نے اصولی سعودی موقف اور اس کے اقدام کی بھرپور حمایت کی ہے جو وقت کا تقاضہ بھی ہے جب کہ سعودی عرب کی سرزمین سے پاکستان کے عوام اور عالم اسلام کے تاریخی ، مذہبی اور روحانی رشتوں اور تقدس کے حوالہ سے کسی ملک کو شک وشبہ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی پر پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آئے گا ۔

یہ پیغام اپنے متن کے اعتبار سے عالمی ضمیر اور مسلم دنیا کے تمام ممالک کے لیے ایک انتباہ ہے اور باغیوں کے لیے لمحہ فکریہ بھی۔ سب کو سوچنا چاہیے کہ با اثر ہمسایہ ممالک اور عالمی طاقتوں نے حوثیوں کو لا حاصل تباہ کاریوں اور جنگ آزمائی سے اجتناب کرتے ہوئے بات چیت کی میز پر نہ بٹھایا تو یمن کی صورتحال خطے کے امن کے لیے تباہ کن ہوسکتی ہے ، اس جنگ کے خطرناک مضمرات سے صرف نظر کی کوئی گنجائش نہیں۔

یہ بات خوش آیند ہے کہ دفترخارجہ کی طرف سے وزیراعظم کو یمن میں پھنسے پاکستانیوں سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ محصور پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے چینی بحری جہاز عدن پہنچ چکا ہوگا جب کہ پاکستانی بحری جہاز کل یمن پہنچ جائے گا۔ یہ ریسکیو کارروائی لائق تحسین ہے۔ عدن میں پھنسے 200 پاکستانیوں کو چینی بحری جہاز کے ذریعے جب کہ صنعا میں موجود پاکستانیوں کو المکلا سے ہوائی جہاز کے ذریعے جلد لایا جائے ۔


ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں وفد بھی ریاض گیا اور سیاسی اور عسکری حکام پر مشتمل7 رکنی وفد کو اہم ٹاسک دیا گیا ہے ، وہ شاہ سلمان سمیت سعودی قیادت سے ملاقاتیں کریگا ، نیز مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور سعودی عرب کے دفاع سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریگا۔ سعودی عرب روانگی سے قبل خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا بڑا بھائی ہے جس نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی حفاظت کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

پاکستان مسلم دنیا میں انتشارکا خاتمہ چاہتا ہے۔ دنیا کو یہ بتانا ضروری ہے کہ سعودی عرب کی سالمیت کو خطرہ ہوا تو تمام وسائل فراہم کرینگے۔ پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں پہلے سے موجودگی پر بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ800 سے 900 فوجی سعودی عرب میں بطور مشیراور تربیت کار کے موجود ہیں۔ وزیر دفاع نے بروقت وضاحت کی ہے کہ اگرچہ سعودی عرب پاکستان سے توقعات رکھتا ہے لیکن اس کی طرف سے اب تک کوئی خصوصی درخواست موصول نہیں ہوئی ۔

ضرورت اب اس امر کی ہے کہ یمن کی مخدوش صورتحال پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہ کی جائے، یمن میں عرصہ دراز سے سول اور ملٹری کشمکش اور قبائلی تقسیم عروج پر تھی ، صالح عبداللہ کی حکومت سخت دباؤ کا شکار تھی، عوامی اضطراب روز بروز بڑھتا جا رہا تھا، یہ آگے جاکر مشرق وسطیٰ سمیت پورے عالمی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کرنے والا بحران بن سکتا ہے جسے انتہائی دانش مندی اور سیاسی و سفارتی مہارت و وژن کے ساتھ حل کرنے پر عالمی قوتوں کو کوئی امن ایکشن لینا چاہیے۔

ایک اطلاع کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 11اپریل کو بلائے جانے کا امکان ہے جب کہ اسی روز یمن کی موجودہ صورتحال پر بحث بھی متوقع ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ جن سیاسی جماعتوں اور ملک کے حکمرانوں کو مشرق وسطیٰ سمیت عرب و عجم کی تاریخی کشمکش، قبائلی چپقلش ، القاعدہ کی مداخلت ، جارحیت و دہشت گردی ، فکری و مسلکی تضادات اور داخلی خلفشار و عرب اسپرنگ سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کا کماحقہ ادراک ہے تو انھیں پاک سعودی تعلقات اور یمن میں ہونے والے واقعات کے حوالہ سے اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں پاکستان کی اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی معاونت کرنے کے لیے کسی قسم کی پس و پیش نہیں کرنی چاہیے، پاکستانی پارلیمنٹ کو اپنا قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ جب کہ ملکی میڈیا سے بھی یہی تاثر عالمی سطح پر جانا چاہیے کہ یمن کے بحران کا حل پاکستان سمیت پوری دنیا کے امن سے مشروط ہے۔

 
Load Next Story