آئی ڈی پیزکی واپسیخوش آیند پیش رفت

پاک فوج ملکی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اندرون ملک ہونے والی دہشتگردی اور شورش کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے

وفاقی اورصوبائی حکومتوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے، وہ متاثرین شمالی وزیرستان کی ہرممکن مددکریں تاکہ وہ دوبارہ اپنے گھروں میں شاد وآباد ہوسکیں۔فوٹو : فائل

پاک فوج ملکی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اندرون ملک ہونے والی دہشتگردی اور شورش کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے ۔اس ضمن میں پہلے توسوات اورگرد ونواح کے علاقوں کو دہشتگردوں کے چنگل سے رہائی دلوا کر عوام کو امن اور تحفظ فراہم کیا گیا،جب کہ اگلے مرحلے میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کرکے نہ صرف دہشتگردوں کا خاتمہ کیا بلکہ ان کے فرار کی راہیں بھی مسدودکیں ۔کیونکہ ملک بھر میں جتنے بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے،چاہے وہ پبلک مقامات پر ہوں یا فوجی تنصیبات پر ان کی منصوبہ بندی شمالی اور جنوبی وزیرستان ہی میں کی گئی ۔

ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں نے ان علاقوں کو اپنی آماجگاہ بنا کر ریاست کے خلاف ایک شورش کو جنم دیا، محب وطن عوام کو یرغمال بنائے رکھا اور علاقے کے دشوارگزار پہاڑی دروں اور راستوں کو افغانستان فرار ہونے کی سہولت کو ریاست کے خلاف استعمال کیا ۔ان دہشتگردوں نے ملک کے طول وعرض میں بم دھماکے اورخودکش حملوں کے ذریعے ساٹھ ہزار قیمتی جانوں کا ضیاع کیا ۔ لہذا شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تاکہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے ۔

اس سلسلے میں جہاں ایک طرف پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کی کامیابیاں جاری رہی ہیں ، وہیں آپریشن کے نتیجے میں تقریبا دس لاکھ افراد کو اپنا گھر بار بھی چھوڑنا پڑا ۔اپنے ہی وطن میں ہجرت اور غریب الوطنی کا کرب وہی جانتے ہیں،جن پر یہ آزمائش کی گھڑیاں بیتی ہیں، لیکن مادر وطن کی بقا کی خاطر شمالی وزیرستان کے غیور عوام نے یہ تکالیف اور مصائب صبروتحمل سے برداشت کیے ۔


پناہ گزین کیمپوں میں سرد وگرم موسم کی سختیاں برداشت کیں،کیونکہ جتنے بھی دکھ جھیلنے پڑیں وہ وطن کی مٹی سے محبت کا عملی ثبوت ہیں۔ متاثرین شمالی وزیرستان کو صبرکا پھل ملا اور اب ان کی اپنے گھروں کو واپسی کا عمل بتدریج شروع ہوگیا ہے،اس موقعے پر انھیں ڈھول کی تھاپ پر رخصت کیا گیا، ان کے چہروں کی خوشی دیدنی تھی، واپس جانے والے ہرخاندان کو 35 ہزار روپے اورایک ماہ کا راشن بھی دیا جا رہا ہے۔

آئی ڈی پیزکی دوبارہ اپنے گھروں میں آبادکاری ایک مشکل مرحلہ ہے، وفاقی اورصوبائی حکومتوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے، وہ متاثرین شمالی وزیرستان کی ہرممکن مددکریں تاکہ وہ دوبارہ اپنے گھروں میں شاد وآباد ہوسکیں۔

دوسری جانب نیشنل ایکشن پلان کے تحت خیبرپختونخوا پولیس نے سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران مختلف کارروائیوں میں غیرقانونی طور پرمقیم 72افغان باشندوں سمیت601 مشتبہ افرادکوگرفتارکر کے ان سے بھاری مقدارمیں اسلحہ وہتھیاربرآمدکرلیا۔ بلاشبہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہنا چاہیے تاکہ عوام میں تحفظ کا احساس جنم لے سکے ۔
Load Next Story