شیریں جناح کالونی میں آئل کمپنیاں30دن بعد ٹینکرزکوتیل کی فراہمی روک دیں سپریم کورٹ

پروجیکٹ ڈائریکٹر ذوالفقارآباد میں ٹرمینل کاکام 30دن میں مکمل کرکے رپورٹ جمع کرائیں، عدالت

عدالت کی تمام فریقوں کوٹرمینل کی تعمیرمیں حصے کی رقوم ادا کرنے کی ہدایت ۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
سپریم کورٹ نے ذوالفقار آباد میں آئل ٹینکرٹرمینل کاکام 30دن میں مکمل کرنے کاحکم دے دیاہے۔

چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں جسٹس انورظہیر جمالی اورجسٹس مقبول باقرپر مشتمل 3رکنی بینچ نے جمعرات کوکراچی رجسٹری میں شیریں جناح کالونی سے آئل ٹینکرکی پارکنگ ختم کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے رپورٹ میں بتایاکہ ذوالفقارآباد میں ٹرمینل کے لیے 50فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، مسجداور واش روم بھی تیار حالت میں ہیں جبکہ کیفے ٹیریا اورفلور کارپیٹنگ کے لیے 8کروڑ 40لاکھ روپے کے ایم سی کے پاس موجود ہیں، ان کوہدایت کی جائے کہ اس رقم سے وہ باقی کام مکمل کریں۔


رپورٹ میں کہا گیاکہ جب تک شیریں جناح کالونی میں آئل ٹینکرز کوسہولتیں میسر رہیں گی وہ یہاں سے نہیں جائیں گے لہذاآئل کمپنیز کوپابند کیاجائے کہ وہ آئل ٹینکرزکو سپلائی معطل کریں۔ سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے عدالت کی توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ ذوالفقارآباد میں 70کروڑ روپے کی لاگت سے کیے جانے والے کام کی شفافیت اور معیارکے بارے میں بھی تحقیقات کرائی جائیں۔سماعت کے بعدعدالت نے اپنے آرڈرمیں ہدایت کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کیفے ٹیریا اورفلور کارپیٹنگ کاکام 30دن میں مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ عدالت نے کہاکہ آئل کمپنیز30دن کے بعد شیریں جناح کالونی میں آئل ٹینکرز کوتیل کی سپلائی بند کردیں ورنہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے گی

عدالت نے ایس ایس پی ٹریفک کو بھی ہدایت کی کہ وہ شیریں جناح کالونی میں ٹینکرز کی پارکنگ کے حوالے سے کیے گئے احکام پر عملدرآمد کرائیں 30 دن کے بعد اگر کوئی ٹینکر کی پارکنگ ہوئی تو ایس ایس پی ٹریفک سے بازپرس کی جائے گی جبکہ عدالت نے ہدایت کی کہ آئل کمپنیوں سمیت جن فریقوں نے تاحال ٹرمینل کی تعمیر میں اپنے حصے کی رقوم ادا نہیں کیں وہ اس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔واضح رہے کہ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے شیریں جناح کالونی کی رہائشی خاتون شگفتہ بی بی کی جانب سے شیریں جناح کالونی کلفٹن بلاک ون میں آئل ٹینکرزکی پارکنگ، ان کی مرمت اورنقل وحرکت سے پید اہونے والے مسائل کے بارے میں خط کو ازخودنوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی تھی۔
Load Next Story