دہشت گرد…پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمن

پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے باقاعدہ آپریشن کر رہا ہے اور اس میں اس نے بڑے پیمانے پر کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں

دہشت گردی جیسے مشترکہ دشمن سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کو مل کر آپریشن کرنا چاہیے تاکہ خطے میں حقیقی معنوں میں امن قائم ہو سکے۔ فوٹو: فائل

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے جمعرات کو کابل میں پاکستانی سفارتخانے میں منعقدہ یوم پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور انھیں مستحکم کرنے کا خواہاں ہے، دہشت گردی دونوں ممالک کی مشترکہ دشمن ہے اور اس لعنت کے خاتمہ کے لیے ان کی جانب سے اقدامات ضروری ہیں' افغانستان کی قومی اتفاق رائے کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

افغانستان کی نئی حکومت آنے کے بعد اس کی سوچ اور ہمسایہ ممالک کے بارے میں پالیسی کے بارے میں خوشگوار تبدیلی آئی ہے۔موجودہ افغان حکومت پاکستان سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان کا دورہ کیا اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اختلافات ختم کر کے دوستانہ تعلقات کی بنیاد ڈالی' دورہ پاکستان کے موقع پر انھوں نے واضح طور پر یقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ پاکستان نے بھی ان کے اس بیان کا خیرمقدم کیا۔

اس سے قبل کرزئی حکومت پاکستان کے بارے میں مخاصمانہ رویہ رکھتی تھی اور حامد کرزئی پاکستان کے خلاف بات کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جب کہ پاکستان نے اس وقت بھی افغان حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی ۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک دہشت گردی کا شکار اور امن و امان کی خراب صورت حال سے ان کے عوام پریشان ہیں۔

پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے باقاعدہ آپریشن کر رہا ہے اور اس میں اس نے بڑے پیمانے پر کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں مگر افغان حکومت جو مسلسل دہشت گردی کو دونوں ممالک کی مشترکہ دشمن قرار دے رہی ہے اس کی جانب سے جنوبی علاقوں میں ایسا کوئی آپریشن سامنے نہیں آیا اور دہشت گرد ابھی تک وہاں موجود ہیں۔

پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان میں جا ملتے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق منگل باغ اور فضل اللہ افغانستان میں مفرور ہیں اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے ان کا ہاتھ ہونے کے شواہد سامنے آ چکے ہیں' پشاور اسکول میں ہونے والے سانحے کے پیچھے بھی فضل اللہ کا ہاتھ تھا۔


اگر افغان حکومت واقعی یہ سمجھتی ہے کہ دہشت گردی دونوں ممالک کی مشترکہ دشمن ہے تو ہونا یہ چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ پالیسی اپنائے تاکہ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا سکے۔

دہشت گردی نے افغانستان کی سلامتی اور ترقی کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور موجودہ افغان حکومت کو بھی اس امر کا ادراک ہے کہ جب تک اس ناسور کو ختم نہیں کیا جائے گا افغانستان میں شروع ہونے والا ترقی کے سفر کا ڈھانچہ کمزور بنیادوں پر کھڑا رہے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت نے افغانستان میں دہشت گردوں کی تربیت کے لیے کیمپ قائم کر رکھے ہیں اور وہ ان دہشت گردوں کو پاکستان بھیج کر گڑ بڑ کر رہا ہے۔

بلوچستان میں ہونے والی شورش کے پیچھے بھارتی ہاتھ ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانا ہر ملک کا حق ہے لہٰذا افغانستان کو بھی بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کا بھرپور حق حاصل ہے مگر اسے بھارت کو ایسی کسی کارروائی کی اجازت نہیں دینی چاہیے جس سے دہشت گردی کو فروغ ملے اور خطے کے ممالک کو سلامتی کے مسائل درپیش ہوں۔ جب تک دہشت گرد پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان میں پناہ لیتے رہیں گے دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی کارروائی مستقل بنیادوں پر کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

دہشت گردی جیسے مشترکہ دشمن سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کو مل کر آپریشن کرنا چاہیے تاکہ خطے میں حقیقی معنوں میں امن قائم ہو سکے۔ پاکستان کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو کیونکہ ایک پرامن' مستحکم اور خوشحال افغانستان اس کے بہترین مفاد میں ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کی ضرورت ہے، دونوں ممالک زراعت' سائنس و ٹیکنالوجی اور تجارت کی ترقی کے لیے مشترکہ پالیسیاں اپنائیں تو وہ ایک دوسرے کے اور زیادہ قریب آ سکتے ہیں' دونوں ممالک کے درمیان تجارت تو ہو رہی ہے مگر اس میں ابھی اضافے کی بہت گنجائش باقی ہے۔

اس جانب توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے جس سے یہاں نہ صرف بیروزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز ہو گا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان افغان چیف ایگزیکٹو عبداﷲ عبداﷲ کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہے مگر بیان بازی سے مسائل حل نہیں ہو سکتے اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک بلا تاخیر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ پالیسی تشکیل دیں۔
Load Next Story