دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی عالمی لہر
حصول علم کی راہ میں نکلنے والے طالب علموں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنانا انتہائی ظلم اور سفاکی ہے۔
دہشتگردوں کے خلاف ایک فعال عالمی اتحادکی ضرورت ہے۔ تاکہ بدامنی ختم ہو اور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔ فوٹو : اے ایف پی
QUETTA:
دنیا اس وقت دہشتگرد ی کی لپیٹ میں بری طرح آچکی ہے، متعدد ممالک میں ایسی شدت پسند تنظیمیں اورگروہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کررہے،انسانیت دم توڑ چکی ہے، بے شمار قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات اتنے تسلسل سے رونما ہورہے ہیں کہ اس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جنگجو تنظیم الشباب نے کینیاکے شمال مشرقی شہرگیریسا کی ایک یونیورسٹی میں داخل ہوکر فائرنگ کے ذریعے 147طلبا کو ہلاک اور79زخمی کردیا،یہ سانحہ گزشتہ برس سولہ دسمبر کو پاکستان کے شہر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے سے مماثلت رکھتا ہے ۔
حصول علم کی راہ میں نکلنے والے طالب علموں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنانا انتہائی ظلم اور سفاکی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس حملے کی مذمت کی ہے ، لیکن سوال پھر وہی ہے،کیا اقوام متحدہ کوئی ایسا لائحہ عمل تشکیل دے سکتی ہے جس سے دہشت گردی کے ان واقعات کا تدارک ہوسکے۔ ادھرپاکستان کے پڑوسی اسلامی ملک افغانستان میں خودکش حملے میں20 افراد جاں بحق اور اہم رکن پارلیمنٹ ہمایوں ہمایوں سمیت پچاس زخمی ہوگئے، ہلمند میں ضلعی پولیس چیف مارے گئے جب کہ فورسز سے جھڑپوں میں 21 شدت پسند ہلاک اور 6 اہلکار بھی مارے گئے۔
افغانستان کئی دہائیوں سے خانہ جنگی اور بیرونی حملوں کا شکار ہے۔پہلے القاعدہ عالمی امن کے لیے خطرہ تھی اور اب داعش ۔ اس ضمن میں خبر آئی ہے کہ مصرکے صحرائے سینائی میں شدت پسندوں نے پانچ چیک پوسٹوں پر حملہ کر کے پندرہ فوجیوں اور دو شہریوں کو ہلاک کر دیا، سیکیورٹی حکام کے مطابق داعش کی مصری شاخ سے وابستہ شدت پسندوں نے پنسولیا کے شمال میں واقع دو قصبوں شیخ زوید اور رفاہ میں دستی بموں اور دیگر ہتھیاروں سے چیک پوائنٹس پر حملہ کیا، یمن اور سعودی عرب میں جاری جنگ بھی مسلم امہ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔
عدن کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حوثی باغیوں اور صدر ہادی کی فوجوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس میں چوالیس افراد ہلاک ہوگئے، پاکستان خود ایک دہشت گردی مخالف جنگ لڑ رہا ہے، طالبان کی سرکوبی کے لیے پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب کو کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے ۔ دیکھا جائے تو ایران اور 6بڑی طاقتوں میں ایٹمی معاہدہ کے فریم ورک پر اتفاق بھی عالمی تنازع کے حل کی طرف پیش قدمی ہے، کراچی میں نامعلوم افراد اور گروہ قتل وغارت گری میں مصروف ہیں ۔یوں دہشتگردوں کے خلاف ایک فعال عالمی اتحادکی ضرورت ہے۔ تاکہ بدامنی ختم ہو اور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے ۔
دنیا اس وقت دہشتگرد ی کی لپیٹ میں بری طرح آچکی ہے، متعدد ممالک میں ایسی شدت پسند تنظیمیں اورگروہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کررہے،انسانیت دم توڑ چکی ہے، بے شمار قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات اتنے تسلسل سے رونما ہورہے ہیں کہ اس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جنگجو تنظیم الشباب نے کینیاکے شمال مشرقی شہرگیریسا کی ایک یونیورسٹی میں داخل ہوکر فائرنگ کے ذریعے 147طلبا کو ہلاک اور79زخمی کردیا،یہ سانحہ گزشتہ برس سولہ دسمبر کو پاکستان کے شہر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے سے مماثلت رکھتا ہے ۔
حصول علم کی راہ میں نکلنے والے طالب علموں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنانا انتہائی ظلم اور سفاکی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس حملے کی مذمت کی ہے ، لیکن سوال پھر وہی ہے،کیا اقوام متحدہ کوئی ایسا لائحہ عمل تشکیل دے سکتی ہے جس سے دہشت گردی کے ان واقعات کا تدارک ہوسکے۔ ادھرپاکستان کے پڑوسی اسلامی ملک افغانستان میں خودکش حملے میں20 افراد جاں بحق اور اہم رکن پارلیمنٹ ہمایوں ہمایوں سمیت پچاس زخمی ہوگئے، ہلمند میں ضلعی پولیس چیف مارے گئے جب کہ فورسز سے جھڑپوں میں 21 شدت پسند ہلاک اور 6 اہلکار بھی مارے گئے۔
افغانستان کئی دہائیوں سے خانہ جنگی اور بیرونی حملوں کا شکار ہے۔پہلے القاعدہ عالمی امن کے لیے خطرہ تھی اور اب داعش ۔ اس ضمن میں خبر آئی ہے کہ مصرکے صحرائے سینائی میں شدت پسندوں نے پانچ چیک پوسٹوں پر حملہ کر کے پندرہ فوجیوں اور دو شہریوں کو ہلاک کر دیا، سیکیورٹی حکام کے مطابق داعش کی مصری شاخ سے وابستہ شدت پسندوں نے پنسولیا کے شمال میں واقع دو قصبوں شیخ زوید اور رفاہ میں دستی بموں اور دیگر ہتھیاروں سے چیک پوائنٹس پر حملہ کیا، یمن اور سعودی عرب میں جاری جنگ بھی مسلم امہ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔
عدن کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حوثی باغیوں اور صدر ہادی کی فوجوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس میں چوالیس افراد ہلاک ہوگئے، پاکستان خود ایک دہشت گردی مخالف جنگ لڑ رہا ہے، طالبان کی سرکوبی کے لیے پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب کو کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے ۔ دیکھا جائے تو ایران اور 6بڑی طاقتوں میں ایٹمی معاہدہ کے فریم ورک پر اتفاق بھی عالمی تنازع کے حل کی طرف پیش قدمی ہے، کراچی میں نامعلوم افراد اور گروہ قتل وغارت گری میں مصروف ہیں ۔یوں دہشتگردوں کے خلاف ایک فعال عالمی اتحادکی ضرورت ہے۔ تاکہ بدامنی ختم ہو اور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے ۔