اسٹیٹ بینک اور فاریکس فرمز میں آج مذاکرات ہونگے
فاریکس کمپنیوں کو بھی پی آر آئی میں شامل کرنے اور دیگر امور پر بات ہوگی، ملک بوستان
فاریکس کمپنیوں کو بھی پی آر آئی میں شامل کرنے اور دیگر امور پر بات ہوگی، ملک بوستان۔ فوٹو: فائل
مقامی ایکس چینج کمپنیوں کو غیرملکی منی ٹرانسفر کمپنیوں اورکمرشل بینکوں کی طرز پرپی آر آئی میں شمولیت اور وہ کمرشل ٹی ٹیز جو کمرشل بینکس نہیں کرتے کی ایکس چینج کمپنیوں کو اجازت دینے سمیت دیگر ایجنڈے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ہفتہ کو گورنر اسٹیٹ بینک اورایکس چینج کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔
اس ضمن میں فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گورنراسٹیٹ بینک کی جانب سے ایکس چینج کمپنیوں کے 5 دیرینہ مطالبے پورے کردیے گئے ہیں جس سے مسقبل میں اچھے نتائج برآمد ہوں گے تاہم ہفتہ کو اجلاس میں اگر مرکزی بینک کی جانب سے مقامی فارن ایکس چینج کمپنیوں کو بھی پی آر آئی میں شامل کرلیا جائے تو ورکرز ریمیٹنسز میں100 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2012 سے اب تک پی آر آئی میں عدم شمولیت کے باوجود مقامی ایکس چینج کمپنیوں کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ میں مجموعی طور پر9 ارب ڈالر سرینڈر کیے گئے جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو54 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی کیونکہ یہی رقم اگر کمرشل بینک یا غیرملکی منی ٹرانسفر کمپنیاں ملک میں لاتیں تو ری بیٹ کی مد میں حکومت کو 54 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنی پڑتیں، اگراسٹیٹ بینک کی جانب سے مقامی ایکس چینج کمپنیوں کوبھی پی آرآئی میں شامل کرلیا جاتا تو زیر تبصرہ عرصے میں ایکس چینج کمپنیاں ورکرز ریمیٹنسز کے حجم کو18 ارب ڈالر تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔
انہوں نے گورنراسٹیٹ بینک کے حالیہ اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب ایکس چینج کمپنیوں میں اعتماد کی فضا بحال ہوئی ہے جو ملکی معیشت میں اپنے کردار کو توسیع دینے کی خواہشمند ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہفتہ کے اجلاس میں گورنراسٹیٹ بینک سے یہ بھی مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ ان ٹی ٹیز کی خدمات کی اجازت بھی مقامی ایکس چینج کمپنیوں کو دیں جو کمرشل بینک نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس اقدام کے نتیجے میں ہنڈی اور حوالہ کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور بیرون ملک بڑے کاروباری معاہدوں کی رقم کی قانونی چینل سے منتقلی یقینی ہوسکے گی۔
اس ضمن میں فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گورنراسٹیٹ بینک کی جانب سے ایکس چینج کمپنیوں کے 5 دیرینہ مطالبے پورے کردیے گئے ہیں جس سے مسقبل میں اچھے نتائج برآمد ہوں گے تاہم ہفتہ کو اجلاس میں اگر مرکزی بینک کی جانب سے مقامی فارن ایکس چینج کمپنیوں کو بھی پی آر آئی میں شامل کرلیا جائے تو ورکرز ریمیٹنسز میں100 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2012 سے اب تک پی آر آئی میں عدم شمولیت کے باوجود مقامی ایکس چینج کمپنیوں کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ میں مجموعی طور پر9 ارب ڈالر سرینڈر کیے گئے جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو54 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی کیونکہ یہی رقم اگر کمرشل بینک یا غیرملکی منی ٹرانسفر کمپنیاں ملک میں لاتیں تو ری بیٹ کی مد میں حکومت کو 54 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنی پڑتیں، اگراسٹیٹ بینک کی جانب سے مقامی ایکس چینج کمپنیوں کوبھی پی آرآئی میں شامل کرلیا جاتا تو زیر تبصرہ عرصے میں ایکس چینج کمپنیاں ورکرز ریمیٹنسز کے حجم کو18 ارب ڈالر تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔
انہوں نے گورنراسٹیٹ بینک کے حالیہ اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب ایکس چینج کمپنیوں میں اعتماد کی فضا بحال ہوئی ہے جو ملکی معیشت میں اپنے کردار کو توسیع دینے کی خواہشمند ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہفتہ کے اجلاس میں گورنراسٹیٹ بینک سے یہ بھی مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ ان ٹی ٹیز کی خدمات کی اجازت بھی مقامی ایکس چینج کمپنیوں کو دیں جو کمرشل بینک نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس اقدام کے نتیجے میں ہنڈی اور حوالہ کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور بیرون ملک بڑے کاروباری معاہدوں کی رقم کی قانونی چینل سے منتقلی یقینی ہوسکے گی۔