بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ تعلیم میں 1800 گھوسٹ ملازمین کا انکشاف
گھوسٹ ملازمین کی وجہ سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی
واٹر بورڈ میں 250گھوسٹ ملازمین ہیں جن کی تنخواہیں بند کردی ہیں اور مزید کارروائی جاری ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی۔ فوٹو : فائل
بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر ثاقب احمد سومرو نے کہا ہے کہ بلدیہ کے محکمہ تعلیم میں1800 گھوسٹ ملازمین کا پتہ چلاہے جو اہلکار مجرمانہ سرگرمیوں میں گرفتار ہوئے ان کوملازمت سے برطرف کردیا جائے گا۔
بلدیہ کی خراب گاڑیوں کی مرمت کیلیے حکومت نے15 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے،جون تک گاڑیاں سڑکوں پر آجائیں گی، ایف ٹی سی فلائی اوور کے اطراف میں پانی کی لائن سے رساؤ کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جارہاہے جو 10یوم میں مکمل ہوجائے گا جس پر مجموعی طور پر7 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو ایف ٹی سی فلائی اوور شاہراہ فیصل پر رساؤ کو روکنے کیلیے پانی کی پائپ لائن کی تبدیلی اور سیوریج نالے کی صفائی و مرمت کے کاموں کے آغاز پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے افسران کے علاوہ میٹروپولیٹن کمشنر مسعود عالم اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران بھی موجود تھے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ ایف ٹی سی فلائی اوور کے قریب پانی کے رساؤ سے سڑک خراب ہونے کے باعث شہریوں کو شدید تکلیف ہو رہی تھی ،جب کہ فلائی اوور کی بنیادوں کو بھی نقصان ہونے کا خطرہ تھا ،اس لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی، کنٹونمنٹ بورڈ اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے مشترکہ طور پر ہی مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن کی ہدایت ہے کہ اس مسئلے کو 10یوم کے اندر اندر حل کیا جائے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور کے ایم سی نے آج کام شروع کردیا ہے، پانی کی 805فٹ طویل 14 انچ قطر کے پائپ لائن کی تبدیلی اور لائنز ایریا شاہراہ قائدین نالے کی صفائی و مرمت کا کام آج سے شروع کردیا ہے اور 10یوم کے اندر اندر اس کام کو مکمل کرلیا جائے گا، جب کہ کنٹونمنٹ بورڈ اپنی حدود میں 400 فٹ نالے کی صفائی ومرمت کاکام مل کرکرے گا، لائنز ایریاسے ملحقہ کچی آبادی کا سیوریج جوبرساتی نالے میں چل رہاہے، اس کی وجہ سے یہاں بھی رساؤ پیدا ہورہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے جوملازمین و افسران مجرمانہ سرگرمیوں میں گرفتار ہوئے ہیں ،قانونی تقاضے پورے کرکے ان کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا ،اس پر کام ہورہا ہے جب کہ گھوسٹ ملازمین کا پتہ چلانے کیلیے ایف آئی اے سمیت دیگر ادارے اور بلدیہ خود محکمہ جاتی تحقیقات کررہی ہے محکمہ تعلیم میں تمام گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی ہورہی ہے ،جن پر حتمی رپورٹ جلد مرتب ہوجائے گی، ان ملازمین کی تنخواہیں بند اور ملازمتوں سے فارغ کیا جائے گا۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی وجہ سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے مگر اب یہ مسئلہ بھی مستقل حل ہوجائے گا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی خراب گاڑیوں کی مرمت کیلیے حکومت سندھ سے 30کروڑ روپے کی درخواست کی تھی ،جس میں سے 15کروڑ روپے کی منظوری ہوئی ہے، جام صادق پل کی تعمیر کا منصوبہ پر کام تیزی سے جاری ہے، اس کو وقت مقررہ پر مکمل کیا جائے گا ،ایم ڈی واٹر بورڈ قطب الدین شیخ نے کہا کہ واٹر بورڈ کی 14 انچ قطر پانی کی لائن کافی پرانی ہے، جس کی متعدد بار مرمت کی گئی مگر اس میں رساؤ بند نہیں ہوا تو اس پوری لائن کو ہی تبدیل کیا جارہا ہے، جو 805فٹ طویل ہے یہ کام 7یوم کے اندر اندر مکمل کریں گے، اس سے اب پانی کے رساؤ کا مسئلہ حل ہوجائے گا، انھوں نے کہا کہ پائپ لائن کی تبدیلی پر 4کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اسے مین لائن سے ملا دیا جائے گا۔
اس سے قبل اس لائن کے رساؤ کی متعدد بار مرمت کی لیکن یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا لہٰذا اب ازسرنو لائن ڈالی جا رہی ہے، انھوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ ایریا کا سیوریج واٹر یہاں پر آرہا ہے اور یہ علاقہ واٹر بورڈ کی حدود میں نہیں آتا لیکن اس کے باوجود واٹر بورڈ اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے، انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ رساؤ کی مرمت ،اوور فلوکی شکایت کا ازالہ اور مین ہولز کورز کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے اور واٹر بورڈ نے تمام ضلعی بلدیات کو بھی مین ہولز کور ز فراہم کردیے ہیں، انھوں نے کہا کہ واٹر بورڈ میں 250گھوسٹ ملازمین ہیں جن کی تنخواہیں بند کردی ہیں اور مزید کارروائی جاری ہے۔
بلدیہ کی خراب گاڑیوں کی مرمت کیلیے حکومت نے15 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے،جون تک گاڑیاں سڑکوں پر آجائیں گی، ایف ٹی سی فلائی اوور کے اطراف میں پانی کی لائن سے رساؤ کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جارہاہے جو 10یوم میں مکمل ہوجائے گا جس پر مجموعی طور پر7 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو ایف ٹی سی فلائی اوور شاہراہ فیصل پر رساؤ کو روکنے کیلیے پانی کی پائپ لائن کی تبدیلی اور سیوریج نالے کی صفائی و مرمت کے کاموں کے آغاز پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے افسران کے علاوہ میٹروپولیٹن کمشنر مسعود عالم اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران بھی موجود تھے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ ایف ٹی سی فلائی اوور کے قریب پانی کے رساؤ سے سڑک خراب ہونے کے باعث شہریوں کو شدید تکلیف ہو رہی تھی ،جب کہ فلائی اوور کی بنیادوں کو بھی نقصان ہونے کا خطرہ تھا ،اس لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی، کنٹونمنٹ بورڈ اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے مشترکہ طور پر ہی مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن کی ہدایت ہے کہ اس مسئلے کو 10یوم کے اندر اندر حل کیا جائے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور کے ایم سی نے آج کام شروع کردیا ہے، پانی کی 805فٹ طویل 14 انچ قطر کے پائپ لائن کی تبدیلی اور لائنز ایریا شاہراہ قائدین نالے کی صفائی و مرمت کا کام آج سے شروع کردیا ہے اور 10یوم کے اندر اندر اس کام کو مکمل کرلیا جائے گا، جب کہ کنٹونمنٹ بورڈ اپنی حدود میں 400 فٹ نالے کی صفائی ومرمت کاکام مل کرکرے گا، لائنز ایریاسے ملحقہ کچی آبادی کا سیوریج جوبرساتی نالے میں چل رہاہے، اس کی وجہ سے یہاں بھی رساؤ پیدا ہورہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے جوملازمین و افسران مجرمانہ سرگرمیوں میں گرفتار ہوئے ہیں ،قانونی تقاضے پورے کرکے ان کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا ،اس پر کام ہورہا ہے جب کہ گھوسٹ ملازمین کا پتہ چلانے کیلیے ایف آئی اے سمیت دیگر ادارے اور بلدیہ خود محکمہ جاتی تحقیقات کررہی ہے محکمہ تعلیم میں تمام گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی ہورہی ہے ،جن پر حتمی رپورٹ جلد مرتب ہوجائے گی، ان ملازمین کی تنخواہیں بند اور ملازمتوں سے فارغ کیا جائے گا۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی وجہ سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے مگر اب یہ مسئلہ بھی مستقل حل ہوجائے گا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی خراب گاڑیوں کی مرمت کیلیے حکومت سندھ سے 30کروڑ روپے کی درخواست کی تھی ،جس میں سے 15کروڑ روپے کی منظوری ہوئی ہے، جام صادق پل کی تعمیر کا منصوبہ پر کام تیزی سے جاری ہے، اس کو وقت مقررہ پر مکمل کیا جائے گا ،ایم ڈی واٹر بورڈ قطب الدین شیخ نے کہا کہ واٹر بورڈ کی 14 انچ قطر پانی کی لائن کافی پرانی ہے، جس کی متعدد بار مرمت کی گئی مگر اس میں رساؤ بند نہیں ہوا تو اس پوری لائن کو ہی تبدیل کیا جارہا ہے، جو 805فٹ طویل ہے یہ کام 7یوم کے اندر اندر مکمل کریں گے، اس سے اب پانی کے رساؤ کا مسئلہ حل ہوجائے گا، انھوں نے کہا کہ پائپ لائن کی تبدیلی پر 4کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اسے مین لائن سے ملا دیا جائے گا۔
اس سے قبل اس لائن کے رساؤ کی متعدد بار مرمت کی لیکن یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا لہٰذا اب ازسرنو لائن ڈالی جا رہی ہے، انھوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ ایریا کا سیوریج واٹر یہاں پر آرہا ہے اور یہ علاقہ واٹر بورڈ کی حدود میں نہیں آتا لیکن اس کے باوجود واٹر بورڈ اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے، انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ رساؤ کی مرمت ،اوور فلوکی شکایت کا ازالہ اور مین ہولز کورز کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے اور واٹر بورڈ نے تمام ضلعی بلدیات کو بھی مین ہولز کور ز فراہم کردیے ہیں، انھوں نے کہا کہ واٹر بورڈ میں 250گھوسٹ ملازمین ہیں جن کی تنخواہیں بند کردی ہیں اور مزید کارروائی جاری ہے۔