الیکشن کمیشن ارکان سے براہ راست رابطہ کرے چیئرمین سینیٹ
دہری شہریت میں ملوث نہ کیا جائے، نیئربخاری ، ظفرعلی شاہ کے ریمارکس پر پی پی کا احتجاج
دہری شہریت میں ملوث نہ کیا جائے، نیئربخاری ، ظفرعلی شاہ کے ریمارکس پر پی پی کا احتجاج فوٹو: فائل
چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اگر دہری شہریت کے حوالے سے کوئی معلومات حاصل کرنا ہے تو براہ راست ارکان سے حاصل کرے۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کو اس معاملے میں ملوث نہ کیا جائے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران ارکان کی طرف سے اس معاملے پر اظہار خیال کے بعد چیئرمین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کا کام تھا کہ وہ ارکان سے انتخاب کے وقت فارم ون پر عملدرآمد کراتے، ان کی ذمے داری سینیٹ سیکریٹریٹ کو منتقل کیوں کی جا رہی ہے؟ قبل ازیں (ن) لیگ کے رکن سید ظفر علی شاہ نے دہری شہریت پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر سے کچھ باتیں منسوب کیں جس پر پیپلزپارٹی کے ارکان نے احتجاج کیا اور کہا کہ ہمیں بھی اس معاملے پر بات کرنے دی جائے لیکن چیئرمین نے کہا کہ میں نے دو ایشوز پر رولنگ دینی ہے اس معاملے کو سمیٹنے دیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جن ارکان نے دہری شہریت کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لیا ہے ان کو سزا مل گئی ہے ۔
قائد ایوان جہانگیر بدر نے کہا کہ گزشتہ شب نیب کے کہنے پر کسی شخص کی گرفتاری کیلیے انکے کمرے پر چھاپہ مارا گیا، چھاپہ مارنے والوں میں پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے شامل تھی، انھوں نے کہا کہ وہ جان تو دے سکتے ہیں لیکن کسی مجرم کو پناہ نہیں دے سکتے۔ اس پر اپوزیشن لیڈر اسحاق ڈار نے کہا کہ پنجاب پولیس وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر اسلام آباد میں داخل نہیں ہو سکتی۔ سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ جہانگیر بدر کو جان بوجھ کر بے عزت کرنے کی کوشش کی گئی۔
سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ چھاپہ سیاستدانوں کیخلاف گھنائونی سازش کا حصہ ہے، جس کا آغاز بلوچستان سے ہوا، یہ ریاستی دہشت گردی ہے، بلوچستان میں ریاستی اداروں کو بے لگام نہ چھوڑا جاتا تو آج بات ارکان پارلیمان تک نہ پہنچتی، چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری نے قائد ایوان جہانگیر بدر کے گھر کی تلاشی اور ریڈ کرنے پر وزارت داخلہ سے بدھ تک رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ایوان بالا نے گستاخانہ فلم کے خلاف مذمتی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کو اس معاملے میں ملوث نہ کیا جائے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران ارکان کی طرف سے اس معاملے پر اظہار خیال کے بعد چیئرمین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کا کام تھا کہ وہ ارکان سے انتخاب کے وقت فارم ون پر عملدرآمد کراتے، ان کی ذمے داری سینیٹ سیکریٹریٹ کو منتقل کیوں کی جا رہی ہے؟ قبل ازیں (ن) لیگ کے رکن سید ظفر علی شاہ نے دہری شہریت پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر سے کچھ باتیں منسوب کیں جس پر پیپلزپارٹی کے ارکان نے احتجاج کیا اور کہا کہ ہمیں بھی اس معاملے پر بات کرنے دی جائے لیکن چیئرمین نے کہا کہ میں نے دو ایشوز پر رولنگ دینی ہے اس معاملے کو سمیٹنے دیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جن ارکان نے دہری شہریت کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لیا ہے ان کو سزا مل گئی ہے ۔
قائد ایوان جہانگیر بدر نے کہا کہ گزشتہ شب نیب کے کہنے پر کسی شخص کی گرفتاری کیلیے انکے کمرے پر چھاپہ مارا گیا، چھاپہ مارنے والوں میں پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے شامل تھی، انھوں نے کہا کہ وہ جان تو دے سکتے ہیں لیکن کسی مجرم کو پناہ نہیں دے سکتے۔ اس پر اپوزیشن لیڈر اسحاق ڈار نے کہا کہ پنجاب پولیس وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر اسلام آباد میں داخل نہیں ہو سکتی۔ سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ جہانگیر بدر کو جان بوجھ کر بے عزت کرنے کی کوشش کی گئی۔
سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ چھاپہ سیاستدانوں کیخلاف گھنائونی سازش کا حصہ ہے، جس کا آغاز بلوچستان سے ہوا، یہ ریاستی دہشت گردی ہے، بلوچستان میں ریاستی اداروں کو بے لگام نہ چھوڑا جاتا تو آج بات ارکان پارلیمان تک نہ پہنچتی، چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری نے قائد ایوان جہانگیر بدر کے گھر کی تلاشی اور ریڈ کرنے پر وزارت داخلہ سے بدھ تک رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ایوان بالا نے گستاخانہ فلم کے خلاف مذمتی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی۔