پانی کی قلت اور ارسا کی امید افزا رپورٹ
رواں موسم گرماکےساتھ ہی پنجاب، بلوچستان پختونخوا اورسندھ سمیت کراچی میں پینے کےپانی کی دستیابی کاشفاف میکنزم لازمی ہے۔
یہ صورتحال بلاشبہ بلوچستان کی قلت آب کے تناظر میں تسلی بخش ہے تاہم کاشتکاری اور پینے کے صاف پانی کی قلت ایک ایٹمی ملک کے شایان شان نہیں۔ فوٹو : فائل
عالمی بینک کی نائب صدر سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے انہیں آگاہ کیا کہ صوبہ کو پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے اور عالمی ادارہ کا اس حوالے سے بلوچستان کی سماجی اور اقتصادی شعبہ میں مالی اور فنی امداد و تعاون ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال میں خرابی کا تاثر غلط ہے۔
وائس پریزیڈنٹ انیتے ڈکسن کے مطابق بلوچستان پہلے ہی کنٹری ڈیویلپمنٹ اسٹرٹیجی کے تحت ادارہ کے ایجنڈے میں شامل ہے تاہم پانی کی قلت یا اس پر صوبوں کے مابین اختلافات اور اصراف کے الزامات و مطالبات کے ضمن میں اجلاس، تنازعات اور مذاکرات کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
آبی مسئلہ صرف بلوچستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ پورا ملک پانی کے بحران کے دائرے سے اپنے 67 سالہ تاریخ میں کبھی نکل نہیں سکا۔ ملک کے کئی دور افتادہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا نہیں، جب کہ پینے کے صاف پانی یا کاشتکاری کے لیے پانی کی فراہمی سے متعلق حکومتی اداروں کے اقدامات، ارسا کی حکمت عملی اور عالمی اداروں کی سابقہ رپورٹوں کو دیکھتے ہوئے ایک مخدوش صورتحال سامنے آتی رہی ہے، رواں موسم گرما کے ساتھ ہی پنجاب، بلوچستان پختونخوا اور سندھ سمیت کراچی میں پینے کے پانی کی دستیابی کا شفاف میکنزم لازمی ہے۔
ادھر تیسری دنیا کو جنگوں کے افق پر ایک آبی جنگ کا خطرہ بھی منڈلاتا نظر آتا ہے، بھارتی ڈیموں کی تعمیر اور ان کے غیر قانونی توسیعی عزائم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ تاہم ایک انگریزی معاصر نے پانی کی فراہمی کے حوالے سے امید افزا رپورٹ دی ہے جس کے مطابق سال رواں پاکستان میں پانی کی دستیابی کی صورتحال بہتر ہو گی جس میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ، اچھی فصلیں اور پانی کے بہترین بہاؤ کے ساتھ سمندر برد ہونے کی اطلاعات خوش آئند ہیں۔
ارسا کی شماریاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبوں نے اب تک 33 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی استعمال کیا، جب کہ 1,50,000 کیوسک پانی ڈیموں اور ان کے اسٹوریج میں موجود ہے، جو 3 اپریل2015 ء تک 3.4 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچا ہے، سال رفتہ یہ شرح2.2 ملین ایکڑ فٹ تھی، دریاؤں مین پانی کا مجموعی بہاؤ3 لاکھ کیوسک رہا، گزشتہ سال یہ شرح ایک لاکھ 20 ہزار تھی۔
ارسا کا کہنا ہے کہ پنجاب اپنے مختص کوٹہ سے90 ہزار کیوسک کے مقابلہ میں20 ہزار، سندھ 66 ہزار کیوسک کے مختص کوٹہ سے 43 ہزار کیوسک استعمال کر چکا ہے، سندھ نے چشمہ جہلم لنک کینال کھولنے کی مخالفت کی تھی جسے بوجوہ رد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سمندر میں 17 ہزار کیوسک پانی گر رہا ہے۔گزشتہ سال صوبوں کے لیے مجموعی طور پر 69 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب رہا۔
یہ صورتحال بلاشبہ بلوچستان کی قلت آب کے تناظر میں تسلی بخش ہے تاہم کاشتکاری اور پینے کے صاف پانی کی قلت ایک ایٹمی ملک کے شایان شان نہیں۔ پانی کا بحران اب قصۂ ماضی بننا چاہیے۔
وائس پریزیڈنٹ انیتے ڈکسن کے مطابق بلوچستان پہلے ہی کنٹری ڈیویلپمنٹ اسٹرٹیجی کے تحت ادارہ کے ایجنڈے میں شامل ہے تاہم پانی کی قلت یا اس پر صوبوں کے مابین اختلافات اور اصراف کے الزامات و مطالبات کے ضمن میں اجلاس، تنازعات اور مذاکرات کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
آبی مسئلہ صرف بلوچستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ پورا ملک پانی کے بحران کے دائرے سے اپنے 67 سالہ تاریخ میں کبھی نکل نہیں سکا۔ ملک کے کئی دور افتادہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا نہیں، جب کہ پینے کے صاف پانی یا کاشتکاری کے لیے پانی کی فراہمی سے متعلق حکومتی اداروں کے اقدامات، ارسا کی حکمت عملی اور عالمی اداروں کی سابقہ رپورٹوں کو دیکھتے ہوئے ایک مخدوش صورتحال سامنے آتی رہی ہے، رواں موسم گرما کے ساتھ ہی پنجاب، بلوچستان پختونخوا اور سندھ سمیت کراچی میں پینے کے پانی کی دستیابی کا شفاف میکنزم لازمی ہے۔
ادھر تیسری دنیا کو جنگوں کے افق پر ایک آبی جنگ کا خطرہ بھی منڈلاتا نظر آتا ہے، بھارتی ڈیموں کی تعمیر اور ان کے غیر قانونی توسیعی عزائم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ تاہم ایک انگریزی معاصر نے پانی کی فراہمی کے حوالے سے امید افزا رپورٹ دی ہے جس کے مطابق سال رواں پاکستان میں پانی کی دستیابی کی صورتحال بہتر ہو گی جس میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ، اچھی فصلیں اور پانی کے بہترین بہاؤ کے ساتھ سمندر برد ہونے کی اطلاعات خوش آئند ہیں۔
ارسا کی شماریاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبوں نے اب تک 33 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی استعمال کیا، جب کہ 1,50,000 کیوسک پانی ڈیموں اور ان کے اسٹوریج میں موجود ہے، جو 3 اپریل2015 ء تک 3.4 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچا ہے، سال رفتہ یہ شرح2.2 ملین ایکڑ فٹ تھی، دریاؤں مین پانی کا مجموعی بہاؤ3 لاکھ کیوسک رہا، گزشتہ سال یہ شرح ایک لاکھ 20 ہزار تھی۔
ارسا کا کہنا ہے کہ پنجاب اپنے مختص کوٹہ سے90 ہزار کیوسک کے مقابلہ میں20 ہزار، سندھ 66 ہزار کیوسک کے مختص کوٹہ سے 43 ہزار کیوسک استعمال کر چکا ہے، سندھ نے چشمہ جہلم لنک کینال کھولنے کی مخالفت کی تھی جسے بوجوہ رد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سمندر میں 17 ہزار کیوسک پانی گر رہا ہے۔گزشتہ سال صوبوں کے لیے مجموعی طور پر 69 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب رہا۔
یہ صورتحال بلاشبہ بلوچستان کی قلت آب کے تناظر میں تسلی بخش ہے تاہم کاشتکاری اور پینے کے صاف پانی کی قلت ایک ایٹمی ملک کے شایان شان نہیں۔ پانی کا بحران اب قصۂ ماضی بننا چاہیے۔