تشدد سے پاک انتخابی سیاست کی ضرورت
اپنے منشور و نظریات کی بنیاد پر عوامی رابطہ مہم اور ووٹ مانگنے کا حق ہر سیاسی پارٹی کو حاصل ہے۔
حلقے میں 213 پولنگ اسٹیشن اور 769 پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے جب کہ 3 لاکھ 57 ہزار 781 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ فوٹو : ایکسپریس
BEIJING:
انتخابات کے دن قریب ہوں تو تمام سیاسی جماعتیں متحرک اور کارکنوں میں جوش و جذبہ عروج پر ہوتا ہے، عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے وعدے وعید اور جلسے جلوسوں کا انعقاد معمول کی بات ہے۔
اپنے منشور و نظریات کی بنیاد پر عوامی رابطہ مہم اور ووٹ مانگنے کا حق ہر سیاسی پارٹی کو حاصل ہے۔ لیکن بعض اوقات مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن جب اس مہم پر نکلتے ہیں تو باہمی ٹکراؤ کے د واقعات بھی پیش آجاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین تشدد سے پاک مثبت سیاست کے فروغ پر توجہ دیں اور اپنے کارکنوں کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنائیں۔
گزشتہ روز کراچی میں کریم آباد چورنگی پر تحریک انصاف کی جانب سے لگایا گیا الیکشن سیل ہٹائے جانے کے بعد متحدہ اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی میں شدت آ گئی ہے، جو کہ افسوسناک ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے246 میں ضمنی الیکشن سے قبل جمعرات کو بھی کریم آباد میں دنوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان نعرے بازی کے بعد ہاتھا پائی ہو گئی جب کہ کریم آباد میں لگا پی ٹی آئی کا انتخابی کیمپ گرا دیا اور جھنڈے کو آگ لگا دی گئی۔
بلاشبہ قائد متحدہ الطاف حسین نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں اور ایسا کوئی بھی عمل نہ کریں جس سے افہام و تفہیم کی فضا خراب ہو۔ دوسری جانب حلقہ این اے 246 کے ضمنی انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق مرتب کر لیا گیا ہے۔
حلقے میں 213 پولنگ اسٹیشن اور 769 پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے جب کہ 3 لاکھ 57 ہزار 781 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے انتخابات کی تیاری اور عوامی رابطہ مہم کا پرجوش انداز میں آغاز کر دیا گیا ہے۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے پوسٹر اور بینرز لگانے کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ اس تمام گہما گہمی میں سیاسی جماعتوں اور کارکنان کو صبر و تحمل اور برداشت کے نظریے کو مدنظر رکھنا ہو گا، اختلاف کی جنگ سڑکوں، میدانوں کے بجائے پولنگ اسٹیشن میں بیلٹ کے ذریعے لڑنے کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں تشدد سے پاک سیاست کو فروغ دیں۔
انتخابات کے دن قریب ہوں تو تمام سیاسی جماعتیں متحرک اور کارکنوں میں جوش و جذبہ عروج پر ہوتا ہے، عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے وعدے وعید اور جلسے جلوسوں کا انعقاد معمول کی بات ہے۔
اپنے منشور و نظریات کی بنیاد پر عوامی رابطہ مہم اور ووٹ مانگنے کا حق ہر سیاسی پارٹی کو حاصل ہے۔ لیکن بعض اوقات مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن جب اس مہم پر نکلتے ہیں تو باہمی ٹکراؤ کے د واقعات بھی پیش آجاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین تشدد سے پاک مثبت سیاست کے فروغ پر توجہ دیں اور اپنے کارکنوں کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنائیں۔
گزشتہ روز کراچی میں کریم آباد چورنگی پر تحریک انصاف کی جانب سے لگایا گیا الیکشن سیل ہٹائے جانے کے بعد متحدہ اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی میں شدت آ گئی ہے، جو کہ افسوسناک ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے246 میں ضمنی الیکشن سے قبل جمعرات کو بھی کریم آباد میں دنوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان نعرے بازی کے بعد ہاتھا پائی ہو گئی جب کہ کریم آباد میں لگا پی ٹی آئی کا انتخابی کیمپ گرا دیا اور جھنڈے کو آگ لگا دی گئی۔
بلاشبہ قائد متحدہ الطاف حسین نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں اور ایسا کوئی بھی عمل نہ کریں جس سے افہام و تفہیم کی فضا خراب ہو۔ دوسری جانب حلقہ این اے 246 کے ضمنی انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق مرتب کر لیا گیا ہے۔
حلقے میں 213 پولنگ اسٹیشن اور 769 پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے جب کہ 3 لاکھ 57 ہزار 781 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے انتخابات کی تیاری اور عوامی رابطہ مہم کا پرجوش انداز میں آغاز کر دیا گیا ہے۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے پوسٹر اور بینرز لگانے کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ اس تمام گہما گہمی میں سیاسی جماعتوں اور کارکنان کو صبر و تحمل اور برداشت کے نظریے کو مدنظر رکھنا ہو گا، اختلاف کی جنگ سڑکوں، میدانوں کے بجائے پولنگ اسٹیشن میں بیلٹ کے ذریعے لڑنے کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں تشدد سے پاک سیاست کو فروغ دیں۔