یمن کا بحران اسلامی ممالک حل تلاش کریں

یمن کی جنگ کو ہوا دینے کے بجائے عالمی قوتیں، عرب لیگ اور او آئی سی اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں

یمن کی جنگ میں متعدد ممالک ملوث ہونے کے باعث مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ایک گروہ یمن حکومت اور دوسرا باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
یمن کی صورت حال روز بروز خراب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ باغیوں اور اتحادی فوجوں کے درمیان جاری جنگ دسویں روز میں داخل ہوگئی۔ سعودی عرب کی سربراہی میں اتحادی ممالک کے طیاروں نے جنوبی یمن میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 13 باغی ہلاک ہو گئے۔ گزشتہ روز کی میڈیا اطلاعات کے مطابق عدن میں شدید جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 185 ہو گئی جب کہ ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب کی اسپیشل فورسزیمن آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں، سعودی مشیر کے مطابق یہ اسپیشل فورسز عدن میں حکومت کے حامی جنگجوؤں کو اسلحہ اور رابطے کے لیے ساز و سامان پہنچا رہی ہیں۔

عرب اتحادیوں کی بمباری اور اسلحہ کی فراہمی کے بعد یمن حکومت کی حامی ملیشیا کو مزید تقویت ملی ہے جس کے بعد اس نے باغیوں پر بھرپور حملے کیے اور ان سے وسطی عدن کے کئی علاقوں اور صدارتی محل کا قبضہ چھڑا لیا۔ مختلف علاقوں میں سرکاری فوج سے لڑائی میں حوثی باغیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ جنگ میں فوری طور پر کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ سعودی عرب کی جانب سے یمن حکومت کی حامی ملیشیا کو اسلحہ ملنے کے بعد لڑائی میں شدت آ گئی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ جنگ مزید پھیلے گی جس سے انسانی ہلاکتوں اور تباہی میں مزید اضافہ ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ یمن حکومت کی حامی ملیشیا نے اسلحہ فراہم کرنے پر سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔

یمن کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہفتے کو منعقد ہوا جس میں روس کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فضائی حملے روکنے کی تجویز پیش کی گئی اور یہ کہا گیا کہ فضائی حملے روکے جائیں تاکہ غیرملکیوں کو نکلنے کا موقع مل سکے۔ روس نے قرارداد پیش کرتے ہوئے یمن کے مسئلے کا کوئی حل پیش نہیں کیا اور نہ ہی دیگر عالمی قوتوں نے اس سلسلے میں اپنا کوئی کردار ادا کیا۔ صرف غیرملکیوں کی جان بچانے کے لیے فضائی حملے روکنے کی قرارداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی قوتیں بھی یمن کی جنگ روکنے کے لیے سنجیدہ نہیں۔روس کو حوثی باغیوں کو بھی حملے روکنے کا کہنا چاہیے تھا کیونکہ جب تک باغیوں کے حملے جاری رہیں گے اتحادی طیاروں کی بمباری کا سلسلہ رکے گا نہیں۔


اخباری خبروں کے مطابق یمن کے ایک باغی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے روس سے انتہائی جدید میزائل حاصل کیے ہیں اور وہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگر واقعی روس نے باغیوں کو جدید میزائل فراہم کیے ہیں تو اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ روس اور امریکا یمن میں بھی پراکسی وار لڑ رہے ہیں اس سے یہاں لڑائی میں مزید شدت آئے گی۔ اس جنگ میں امریکا اور برطانیہ سعودی عرب کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں، کیا وہ بمباری روکنے کے لیے روس کی قرارداد کو اہمیت دیں گے۔ اگر اس مسئلے کا کوئی فوری حل تلاش نہ کیا گیا اور جنگ یونہی بڑھتی چلی گئی تو سعودی عرب کی سالمیت کو خطرات لاحق ہونے سے پورا عرب خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

یمن میں القاعدہ بھی متحرک ہو گئی ہے اور اس نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مکلہ شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس طرح یمن کی لڑائی میں مختلف گروہوں کے شامل ہونے سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ایک جانب القاعدہ ہے تو دوسری جانب باغی تو تیسری جانب حکومت اور اس کی حامی ملیشیا، اس طرح یمن تقسیم ہو کر مختلف مسلح گروہوں کے زیرتسلط آ گیا ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں عیاں ہوتا ہے کہ یمن میں ابھی مزید خون خرابہ ہو گا اور حالات کی بہتری کے فی الفور کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

ادھر یہ خبر بھی ہے کہ یمن کی صورت حال پر مشاورت کے لیے مصری وزیر دفاع اسلام آباد میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے مشاورت کرنا چاہتے ہیں، مصری فوج، بحریہ اور فضائیہ یمن میں باغیوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ یمن بحران کے حل کے لیے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ترکی کا دورہ کر چکے ہیں، دونوں ممالک نے ضرورت پڑنے پر سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کا عزم کیا اور یمن بحران کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔ یمن کی جنگ میں متعدد ممالک ملوث ہونے کے باعث مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ایک گروہ یمن حکومت اور دوسرا باغیوں کی حمایت کر رہا ہے، یہ معاملات کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے ہفتے کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر نوڈیرو ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کی عزت کرتے ہیں، ان کے لیے جان بھی حاضر ہے مگر مسلم دنیا کو لڑا کر اسے کمزور کیا جا رہا ہے۔ بہت سے مبصرین بھی اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ یمن کی جنگ کی آڑ میں اسلامی ملکوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کی جا رہی ہے۔یمن کی جنگ کو ہوا دینے کے بجائے عالمی قوتیں، عرب لیگ اور او آئی سی اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں، یمن حکومت اور اس کے باغیوں کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں کی جائیں۔ جنگ سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ یہ مزید مسائل کو جنم دیتی ہے۔
Load Next Story