ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے پر اوباما کا مؤقف
امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کے نتیجے میں دنیا زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔
ایران کا اگرچہ شروع ہی سے یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کو انسانیت کے خلاف بھیانک جرم تصور کرتا ہے وہ ہرگز اس جرم کا مرتکب نہیں ہو گا۔ فوٹو: فائل
امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کے نتیجے میں دنیا زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔ اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں صدر اوباما نے کہا ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ ایک طرف ایران کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے میں مانع ہو گا جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ ہمارا ملک محفوظ ہو جائے گا بلکہ ہمارے اتحادی بھی تحفظ میں آ جائیں گے۔ امریکی صدر نے اس موقع پر امریکی کانگریس کی طرف سے اٹھائے گئے بعض اعتراضات کا جواب بھی دیا۔ اس اعتراض کہ ایران سے یہ کیا ضمانت ہے کہ وہ اس معاہدے پر حرف بہ حرف عمل کرے گا، انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صرف بھروسے اور اعتماد کی بنیاد پر ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس میں ان تمام امکانات کو بھی مدنظر رکھا۔ جو کوئی منفی رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ اوباما نے زور دے کر کہا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔
یہاں یہ بات واضح کرنے والی ہے کہ ایران کا اگرچہ شروع ہی سے یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کو انسانیت کے خلاف بھیانک جرم تصور کرتا ہے وہ ہرگز اس جرم کا مرتکب نہیں ہو گا بلکہ وہ صرف پرامن مقاصد کی خاطر ایٹمی صلاحیت کا استعمال چاہتا ہے تا کہ اس کی توانائی کی ضروریات بہ کفایت پوری ہو سکیں۔ تاہم مغربی ممالک ایران کی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ گو کہ ایران جو شاہ ایران کے دور میں امریکا کا جنوبی ایشیا کے لیے تھانیدار سمجھا جاتا تھا، شاہ کے جانے کے بعد امریکا اپنے تمام سفارتی عملے کو تہران میں پاسداران انقلاب کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے پر ایران سے بہت دور چلا گیا۔ اس واقعے کو تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم وہ زخم اتنے گہرے تھے کہ ابھی تک نہیں بھر سکے۔
البتہ اب ایران کے ساتھ سمجھوتے کا ہو جانا بہت مثبت علامت ہے کہ اس طرح ایران پر سالہاسال سے لگی ہوئی اقتصادی پابندیاں ہٹ سکیں گی۔ اس کے غیرملکی منجمد اکاؤنٹس کی برف پگھل سکے گی اور ایران ایک بار پھر عالمی برادری میں وقار و تکریم کے ساتھ سر اٹھا کر قدم رکھ سکے گا۔ صدر اوباما نے اپنے خطاب کے آخر میں معترضین کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ابھی سمجھوتے پر دستخط نہیں کیے گئے اور اس معاہدے کو مکمل ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ تاہم اس سمجھوتے سے ایران کی سفارتی دانش بھی آشکار ہوتی ہے اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات سے یہ دانش ہمارے دفتر خارجہ کو بھی منتقل ہوسکتی ہے۔
یہاں یہ بات واضح کرنے والی ہے کہ ایران کا اگرچہ شروع ہی سے یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کو انسانیت کے خلاف بھیانک جرم تصور کرتا ہے وہ ہرگز اس جرم کا مرتکب نہیں ہو گا بلکہ وہ صرف پرامن مقاصد کی خاطر ایٹمی صلاحیت کا استعمال چاہتا ہے تا کہ اس کی توانائی کی ضروریات بہ کفایت پوری ہو سکیں۔ تاہم مغربی ممالک ایران کی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ گو کہ ایران جو شاہ ایران کے دور میں امریکا کا جنوبی ایشیا کے لیے تھانیدار سمجھا جاتا تھا، شاہ کے جانے کے بعد امریکا اپنے تمام سفارتی عملے کو تہران میں پاسداران انقلاب کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے پر ایران سے بہت دور چلا گیا۔ اس واقعے کو تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم وہ زخم اتنے گہرے تھے کہ ابھی تک نہیں بھر سکے۔
البتہ اب ایران کے ساتھ سمجھوتے کا ہو جانا بہت مثبت علامت ہے کہ اس طرح ایران پر سالہاسال سے لگی ہوئی اقتصادی پابندیاں ہٹ سکیں گی۔ اس کے غیرملکی منجمد اکاؤنٹس کی برف پگھل سکے گی اور ایران ایک بار پھر عالمی برادری میں وقار و تکریم کے ساتھ سر اٹھا کر قدم رکھ سکے گا۔ صدر اوباما نے اپنے خطاب کے آخر میں معترضین کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ابھی سمجھوتے پر دستخط نہیں کیے گئے اور اس معاہدے کو مکمل ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ تاہم اس سمجھوتے سے ایران کی سفارتی دانش بھی آشکار ہوتی ہے اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات سے یہ دانش ہمارے دفتر خارجہ کو بھی منتقل ہوسکتی ہے۔