خریف کے لیے پانی کی کوئی قلت نہیں
یہ بات بہت اطمینان بخش ہےکہ اس وقت وطن عزیزمیں پانی کی کوئی قلت نہیں ہےاورچاروں صوبوں کو ان کی ضرورت کا پوراپانی ملےگا
وفاقی حکومت کو اس انتہائی اہم مسئلے پر توجہ دینی چاہیے اور چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر مناسب منصوبہ بندی کی جانی چاہیے، فوٹو : فائل
لاہور:
یہ خبر خوش آیند ہے کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے رواں سیزن میں صوبوں کو ضرورت کے مطابق پانی دینے کا فیصلہ کرلیا، اخباری اطلاعات کے مطابق رواں سیزن میں صوبوں کو پانی کی قلت صفر ہو گی جس پر چاروں صوبوں نے اتفاق کرلیا تاہم سندھ اور پنجاب کے درمیان سی جے کینال کھلنے سے متعلق تنازعہ برقرار ہے۔ یہ بات بہت اطمینان بخش ہے کہ اس وقت وطن عزیز میں پانی کی کوئی قلت نہیں ہے اور چاروں صوبوں کو ان کی ضرورت کا پورا پانی ملے گا جس سے یقینی طور پر فصلوں کی پیداوار بھر پور ہو سکے گی تاہم صوبہ سندھ کے جو اعتراضات ہیں انھیں دور کیا جانا چاہیے تاکہ معاملات شفاف طریقے سے چلتے رہیں اور صوبوں کے درمیان کوئی تنازع نہ پیدا ہو۔
سندھ کو ایک اعتراض اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ کوٹری ڈاؤن اسٹریم پر سمندر کے لیے کم پانی چھوڑا جاتا ہے لیکن ارسا نے بتایا ہے کہ اس مرتبہ 14.7 ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑا جائے گا۔ یہ اچھی بات ہے، اس سے معاملات بہتر ہوں گے۔ ہمارے ایٹمی طاقت والے ملک کے پاس فالتو پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی انتظام ہی نہیں حالانکہ اگر کسی کو ڈیم کی تعمیر پر تحفظات ہوں تو کیا بڑے بڑے تالاب اور مصنوعی جھیلیں بھی نہیں بنائی جا سکتیں۔
ارسا ذرایع کے مطابق سی جے کینال سے خریف کے دوراں سیزن میں 1.12 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوگا جس میں سے پنجاب کو 36.6 فیصد، سندھ کو 33.4 فیصد، بلوچستان کو 2.8 فیصد اور خیبر پختونخوا کو عشاریہ .8 فیصد پانی دیا جائے گا۔ بہرحال یہ طے ہے کہ پاکستان کو پانی کی اشد ضرورت ہے، ادھر پاکستان کے دریاؤں میں اور زیرزمین پانی کی سطح بھی کم ہو رہی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو وفاقی حکومت کو اس انتہائی اہم مسئلے پر توجہ دینی چاہیے اور چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر مناسب منصوبہ بندی کی جانی چاہیے تاکہ ضایع ہونے والے پانی کو محفوظ کر کے پانی کی کمی پر قابو پایا جا سکے۔
یہ خبر خوش آیند ہے کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے رواں سیزن میں صوبوں کو ضرورت کے مطابق پانی دینے کا فیصلہ کرلیا، اخباری اطلاعات کے مطابق رواں سیزن میں صوبوں کو پانی کی قلت صفر ہو گی جس پر چاروں صوبوں نے اتفاق کرلیا تاہم سندھ اور پنجاب کے درمیان سی جے کینال کھلنے سے متعلق تنازعہ برقرار ہے۔ یہ بات بہت اطمینان بخش ہے کہ اس وقت وطن عزیز میں پانی کی کوئی قلت نہیں ہے اور چاروں صوبوں کو ان کی ضرورت کا پورا پانی ملے گا جس سے یقینی طور پر فصلوں کی پیداوار بھر پور ہو سکے گی تاہم صوبہ سندھ کے جو اعتراضات ہیں انھیں دور کیا جانا چاہیے تاکہ معاملات شفاف طریقے سے چلتے رہیں اور صوبوں کے درمیان کوئی تنازع نہ پیدا ہو۔
سندھ کو ایک اعتراض اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ کوٹری ڈاؤن اسٹریم پر سمندر کے لیے کم پانی چھوڑا جاتا ہے لیکن ارسا نے بتایا ہے کہ اس مرتبہ 14.7 ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑا جائے گا۔ یہ اچھی بات ہے، اس سے معاملات بہتر ہوں گے۔ ہمارے ایٹمی طاقت والے ملک کے پاس فالتو پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی انتظام ہی نہیں حالانکہ اگر کسی کو ڈیم کی تعمیر پر تحفظات ہوں تو کیا بڑے بڑے تالاب اور مصنوعی جھیلیں بھی نہیں بنائی جا سکتیں۔
ارسا ذرایع کے مطابق سی جے کینال سے خریف کے دوراں سیزن میں 1.12 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوگا جس میں سے پنجاب کو 36.6 فیصد، سندھ کو 33.4 فیصد، بلوچستان کو 2.8 فیصد اور خیبر پختونخوا کو عشاریہ .8 فیصد پانی دیا جائے گا۔ بہرحال یہ طے ہے کہ پاکستان کو پانی کی اشد ضرورت ہے، ادھر پاکستان کے دریاؤں میں اور زیرزمین پانی کی سطح بھی کم ہو رہی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو وفاقی حکومت کو اس انتہائی اہم مسئلے پر توجہ دینی چاہیے اور چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر مناسب منصوبہ بندی کی جانی چاہیے تاکہ ضایع ہونے والے پانی کو محفوظ کر کے پانی کی کمی پر قابو پایا جا سکے۔