مجرموں کو تحفظ کب تک ملتا رہے گا
بااثر اور جرائم پیشہ افراد کے پاس جس قدر وافر اور جدید اسلحہ ہے، اتنا سیکیورٹی اداروں کے پاس بھی نہیں
داعش کے ہاتھوں عالمی تاریخی ورثے کی تباہی کو بچانے کے لیے اقوام متحدہ اور مسلم ممالک کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ فوٹو: فائل
لاہور:
ملک میں جہاں دہشت گردی نے امن و امان کے مسائل پیدا کر رکھے ہیں وہاں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں، اسٹریٹ کرائمز، لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ افراد کے پاس اسلحہ کی بھرمار نے شہریوں میں عدم تحفظ کے نئے احساس کو جنم دیا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ بااثر اور جرائم پیشہ افراد کے پاس جس قدر وافر اور جدید اسلحہ ہے، اتنا سیکیورٹی اداروں کے پاس بھی نہیں، بعض جرائم پیشہ افراد اتنے با اثر ہیں کہ پولیس بھی ان پر ہاتھ ڈالنے سے گھبراتی ہے۔
ریاستی اداروں کی اسی کمزوری اور نا اہلی کے باعث ان افراد کو روکنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ ملک کے بعض علاقوں خاص طور پر صوبہ خیبرپختونخوا میں اسلحے کی بھرمار ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات گھریلو تنازعات اور معمولی سے لڑائی جھگڑے میں اسلحے کے آزادانہ استعمال کے باعث متعدد بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے علاقے چارسدہ میں اتوار کو شادی کے تنازعہ پر سفاک بھتیجے نے اپنے دس مسلح ساتھیوں کے ہمراہ چچا کے گھر پر حملہ کرکے چچا، چچی، چار چچا زاد بھائیوں، چار چچا زاد بہنوں اور منگیتر کو قتل کر ڈالا۔ قتل و غارت اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کی بھرمار کی ایک بڑی وجہ قبائلی علاقے ہیں، ملزم بخوبی جانتے ہیں کہ واردات کے بعد وہ قبائلی علاقے میں فرار ہو جائیں گے جہاں انھیں باآسانی پناہ مل جائے گی اور اس طرح وہ قانون کی گرفت سے بچ جائیں گے۔
خیبرپختونخوا کے ہر شہر کے ساتھ قبائلی علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق یہ علاقے جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں جو یہاں سے نکل کر وارداتیں کرتے اور واپس ان علاقوں میں آ جاتے ہیں۔ حیرت انگیز امر ہے کہ اڑسٹھ سال گزر جانے کے باوجود ان علاقوں کی قبائلی حیثیت ختم نہیں کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان علاقوں کی قبائلی حیثیت ختم کر کے انھیں بندوبستی علاقوں میں تبدیل کر دیا جاتا تاکہ یہ علاقے جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ نہ بنتے۔
پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی بااثر شخصیات جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتی ہیں، کراچی بھی ناجائز اسلحے کا گڑھ ہے۔یہاں بھی قبائلی علاقوں سے اسلحہ آتا ہے۔
ملک بھر میں جرائم کی شرح میں اضافے کی وجوہات میں ایک یہ بھی ہے کہ جرائم پیشہ افراد بااثر شخصیات کی پشت پناہی کے باعث قانون کے شکنجے سے بچ نکلتے ہیں۔ملک میں اسلحے کی اسمگلنگ میں سیکیورٹی اداروں کے بعض بدعنوان اہلکار بھی شامل ہیں۔ اگر حکومت حقیقی معنوں میں ملک بھر سے جرائم کا خاتمہ کرنے میں مخلص ہے تو اسے ان تمام اسباب کا خاتمہ کرنا ہو گا جو ان کو فروغ دے رہے ہیں۔
ملک میں جہاں دہشت گردی نے امن و امان کے مسائل پیدا کر رکھے ہیں وہاں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں، اسٹریٹ کرائمز، لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ افراد کے پاس اسلحہ کی بھرمار نے شہریوں میں عدم تحفظ کے نئے احساس کو جنم دیا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ بااثر اور جرائم پیشہ افراد کے پاس جس قدر وافر اور جدید اسلحہ ہے، اتنا سیکیورٹی اداروں کے پاس بھی نہیں، بعض جرائم پیشہ افراد اتنے با اثر ہیں کہ پولیس بھی ان پر ہاتھ ڈالنے سے گھبراتی ہے۔
ریاستی اداروں کی اسی کمزوری اور نا اہلی کے باعث ان افراد کو روکنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ ملک کے بعض علاقوں خاص طور پر صوبہ خیبرپختونخوا میں اسلحے کی بھرمار ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات گھریلو تنازعات اور معمولی سے لڑائی جھگڑے میں اسلحے کے آزادانہ استعمال کے باعث متعدد بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے علاقے چارسدہ میں اتوار کو شادی کے تنازعہ پر سفاک بھتیجے نے اپنے دس مسلح ساتھیوں کے ہمراہ چچا کے گھر پر حملہ کرکے چچا، چچی، چار چچا زاد بھائیوں، چار چچا زاد بہنوں اور منگیتر کو قتل کر ڈالا۔ قتل و غارت اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کی بھرمار کی ایک بڑی وجہ قبائلی علاقے ہیں، ملزم بخوبی جانتے ہیں کہ واردات کے بعد وہ قبائلی علاقے میں فرار ہو جائیں گے جہاں انھیں باآسانی پناہ مل جائے گی اور اس طرح وہ قانون کی گرفت سے بچ جائیں گے۔
خیبرپختونخوا کے ہر شہر کے ساتھ قبائلی علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق یہ علاقے جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں جو یہاں سے نکل کر وارداتیں کرتے اور واپس ان علاقوں میں آ جاتے ہیں۔ حیرت انگیز امر ہے کہ اڑسٹھ سال گزر جانے کے باوجود ان علاقوں کی قبائلی حیثیت ختم نہیں کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان علاقوں کی قبائلی حیثیت ختم کر کے انھیں بندوبستی علاقوں میں تبدیل کر دیا جاتا تاکہ یہ علاقے جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ نہ بنتے۔
پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی بااثر شخصیات جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتی ہیں، کراچی بھی ناجائز اسلحے کا گڑھ ہے۔یہاں بھی قبائلی علاقوں سے اسلحہ آتا ہے۔
ملک بھر میں جرائم کی شرح میں اضافے کی وجوہات میں ایک یہ بھی ہے کہ جرائم پیشہ افراد بااثر شخصیات کی پشت پناہی کے باعث قانون کے شکنجے سے بچ نکلتے ہیں۔ملک میں اسلحے کی اسمگلنگ میں سیکیورٹی اداروں کے بعض بدعنوان اہلکار بھی شامل ہیں۔ اگر حکومت حقیقی معنوں میں ملک بھر سے جرائم کا خاتمہ کرنے میں مخلص ہے تو اسے ان تمام اسباب کا خاتمہ کرنا ہو گا جو ان کو فروغ دے رہے ہیں۔