داعش کے ہاتھوں عراقی تہذیب کی تباہی

داعش اپنے نظریات کے مطابق تاریخ کی ہر علامت کو مٹانے کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی اداروں کو بھی تباہ کر رہی ہے

داعش کے ہاتھوں عالمی تاریخی ورثے کی تباہی کو بچانے کے لیے اقوام متحدہ اور مسلم ممالک کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

داعش کے جنگجوؤں نے عراق کے قدیمی شہر ہترہ کو مسمار کر دیا ہے۔ داعش کی جانب سے جاری ویڈیو میں شدت پسندوں کو عراق کے آثار قدیمہ کے مشہور شہر ہترہ کی دیواروں کو ہتھوڑے مار کر جب کہ نایاب مجسموں کو رائفل سے نشانہ بنا کر تباہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ بعض ذرایع کے مطابق داعش نے کچھ نایاب چیزیں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی ہیں ۔

جس کا مقصد اپنے عزائم کے فروغ کے لیے رقوم اکٹھی کرنا ہے۔ یونیسکو نے ہترہ کے آثار کو پہلی اور دوسری صدی عیسوی کے دور کی یاد گار بتایا ہے۔عراق کی تہذیب قدیم تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے جس سے ایک تاریخ وابستہ ہے۔سیاحوں کی ایک بڑی تعداد عراق میں قدیمی آثار کو دیکھنے کے لیے بڑے ذوق و شوق سے آتی رہی ہے یہی وجہ ہے کہ عراقیوں کو اپنی اس قدیم تہذیب پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔مگر اب داعش کی شکل میں پیدا ہونے والا مسلح گروہ عراق میں قدیم دور کی ہرنشانی کا خاتمہ کرنے پر تلا ہوا ہے جو نہ صرف عراقیوں بلکہ دنیا بھر کے آثار قدیمہ کے ماہرین کے لیے پریشان کن امر ہے۔

داعش نے کچھ عرصہ قبل قدیم تاریخی علاقے نمرود کو بھی تباہ کر دیا تھا۔داعش اپنے نظریات کے مطابق تاریخ کی ہر علامت کو مٹانے کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی اداروں کو بھی تباہ کر رہی ہے اس طرح وہ اپنے ان عاقبت نااندیشانہ اقدامات کی بدولت عراقی معاشرے کا تعلق نہ صرف اپنی قدیم تہذیب سے ختم کر رہی ہے بلکہ جدید سائنسی اداروں کو تباہ کرکے انھیں جہالت کے اندھیروں میں دھکیل رہی ہے۔


جن علاقوں پر داعش کا قبضہ ہو چکا ہے وہ روز بروز پسماندگی کی طرف جا رہے ہیں اور وہاں ترقی اور خوشحالی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ داعش نے صوبہ ہساکے میں ایک چرچ کو بھی دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا۔ اس طرح وہ اپنے مفتوحہ علاقے میں غیر مسلموں کی کسی عبادت گاہ کو بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ داعش عراق اور شام کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر چکی ہے اب وہ لیبیا کی جانب بھی بڑھ رہی ہے۔

لیبیا کے شہر مصراتہ میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمے داری بھی داعش نے قبول کی ہے جس میں چار افراد ہلاک اور 21 زخمی ہو گئے۔ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے تو کر رہے ہیں مگر ان کی داعش کے خلاف کارروائی اتنی موثر نہیں جتنی ہونی چاہیے۔

اگر امریکا اور اتحادی ممالک بھرپور کارروائی کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ عراق اور شام سے داعش کا خاتمہ نہ ہو سکے۔ داعش کے ہاتھوں عالمی تاریخی ورثے کی تباہی کو بچانے کے لیے اقوام متحدہ اور مسلم ممالک کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ورنہ عراقی تہذیب مکمل طور پر تباہی کا شکار ہو جائے گی۔
Load Next Story