کاش نوبل یا کوئی پرائز ہمارے میں ہوتا

آج ہمیں اپنی بے بضاعتی تہی دامنی اور کم مایہ ہونے کا احساس بڑی شدت سے ہو رہا ہے۔

barq@email.com

آج ہمیں اپنی بے بضاعتی تہی دامنی اور کم مایہ ہونے کا احساس بڑی شدت سے ہو رہا ہے۔ یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ ہم کسی کو نوبل پرائز، لینن پرائز، پلٹیرز پرائز وغیرہ تو چھوڑیئے پرائیڈ آف پرفارمنس یا پرم ویر چکر یا وکٹوریہ کراس جیسا موٹا موٹا انعام یا ایوارڈ بھی نہیں دے سکتے کیونکہ ہمیں ایک ایسے آدمی کا پتہ چلا ہے جس نے انسانیت پر اتنا احسان عظیم کیا ہے کہ اتنا بڑا احسان پنسلین ایجاد کرتے یا لوئی پاسچر یا مادام کیوی یا رونتجن جس نے ایکسرے ایجاد کیا ہے نے بھی نہیں کیا ہو گا یعنی

کودا ترے گھر میں کوئی یوں دھم سے نہ ہو گا
جو کیا ''تم نے'' وہ رستم سے نہ ہو گا

بلکہ جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار یا ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی ، جن لوگوں کا ہم نے نام لیا یا جن کو آج تک نوبل، لنین اور دوسرے انعامات ملے ہیں، ان لوگوں نے جو کچھ بھی کیا ہے انسان کے جسم کو امراض وغیرہ سے بچانے کے لیے کیا ہے لیکن جس ''ہیرو'' کو ہم یہ سارے ''پرائز'' اکٹھے دینا چاہتے ہیں اس نے انسان کے دماغ پر حملہ آور ہونے والے ''جراثیم'' کا علاج دریافت کیا ہے بلکہ کر کے دکھایا ہے۔

وہ تو خدا بھلا کرے ایک شاعر صاحب کا ورنہ ہم تو اتنے بڑے کارنامے اور انسانیت کے اتنے بڑے محسن سے بے خبر ہی رہتے۔ دراصل یہ جو اصل نیک لوگ ہوتے ہیں، یہ اپنا کام کسی کو کانوں کان خبر ہوئے بغیر کرتے رہتے ہیں۔ نیکی کی اصل شکل بھی یہی ہے کہ دایاں ہاتھ جب نیکی کرے تو بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے، اور یہ کام جو اس نے کر دکھایا یقیناً اس نے دوسرے ہاتھ کو خبر ہوئے بغیر ایک ہی ہاتھ سے کیا ہو گا۔

ہاں یہ پتہ لگانا ذرا مشکل ہے کہ دائیں ہاتھ سے کیا ہو گا یابائیں سے کیونکہ کچھ لوگ تو کھبے یعنی لفٹی بھی ہوتے ہیں، شاعر نے اپنے کلام بلاغت نظام کے مجموعے میں دیباچے کے طور پر لکھا ہے کہ یہ کلام تو اس کا ''شتے نمونہ از '' خر وارے ہے کیونکہ اس کی عمر بھر کی کمائی جو ایک ضغیم دیوان کی صورت میں تھی کسی نے اس سے چرا لی تھی اور ہمارا اصل ہیرو یہ ''کسی'' ہی ہے۔ خدا اس کی نیت میں برکت ڈالے، ہاتھوں پر رحمت ہو، کیا زبردست نیکی کا کام کیا ہے۔

اب اگر خدا اور بھی توفیق دے تو کسی قریبی تندور یا ندی نالے کی طرف بھی اس کا رخ ہو جائے گا اور خلق خدا کو مزید افاقہ ہو جائے گا بلکہ ہم تو اسے دعا دیں گے کہ خدا اس ہمت میں اور برکت ڈالے، بلکہ اگر اس نیک کام کو مستقل پیشہ بنا لے تو انسانی اذہان کی ممکنہ تباہی ٹل جائے گی اور پھر ہم بڑے اطمینان سے یہ کہتے پھریں گے، رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت

جلوہ راز آتش دوزخ ہمارا دل سہی
فتنہ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے


لیکن آج کل شاعر اتنے ہو چکے ہیں کہ پہلے اگر کنکر کو اٹھا کر ایک شاعر برآمد ہونے کا خطرہ تھا تو آج کنکر اٹھانے پر ایک پورا مشاعرہ یا ایک ادبی انجمن کے برآمد ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جس کے ہر رکن کے پاس ایک عمر بھر کا ''اندوختہ'' بلکہ ادبی خدمات شعری مجموعوں کی صورت میں ہوتی ہیں۔ ان ادبی انجمنوں کا سلسلہ تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے۔

معمولی کی ماہانہ یا ہفتہ وار یا روزانہ یا صبح و شام دونوں کی نشستیں تو ہوتی ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی کتابوں کی رونمائیاں کسی شاعر کی تعزیتی یا تہنیتی تقریبات چلتی رہتی ہیں۔

شہر میں باہر کے شاعروں کی آمدورفت اور ان کے اعزاز میں برپا ہونے والی تقریبات، عید رمضان، شب قدر، دینی یوم، قائداعظم، اقبال، غالب، مومن، فیض اور نہ جانے کس کا یوم پیدائش یا وفات اور ان سب کا صرف ایک ہی فارمولا ہوتا، تلاوت کلام پاک اس خاص شخص یا باعث تقریب کے بارے چند لوگوں کذب بیانیاں اور پھر مشاعرہ، جسے اگر ایسی تمام تقریبات کا مین آئٹم اور جزو اعظم کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔

بتاؤں نسخہ مرہم جراحت دل کا
کہ اس میں ریزہ الماس جزو اعظم ہے

ہر میلہ ٹھیلہ ہی اسی ''چادر'' کے لیے ہوتا ہے، تقریب کا لٹو گھومتا ہے اور چند چکروں کے بعد مشاعرے کا محور پکڑ لیتا ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ سب کے سب وہی لوگ ہوتے ہیں، وہی کلام سناتے ہیں، ویسے ہی داد ملتی ہے۔ ایک مرتبہ تو ہم ایک مستقل اور پیشہ ور داد دہندہ سے لڑ ہی پڑے۔ ایک اور جس کے ساتھ شاید ''باہمی داد'' دینے کا معاہدہ تھا، اس نے جب اپنی وہ خاص غزل سنانا شروع کی جو اس سے پہلے چار پانچ سال ہر مشاعرے میں سناتے چلے آرہے تھے تو ہمارے پہلو میں ایک صاحب اونچی آواز میں واہ واہ، پھر پڑھئے۔

ایک مرتبہ اور عطا کیجیے کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ہماری نیند ڈسٹرب کرنے لگے تو گزارش کی کہ حضور کم از کم ہم نے آپ کو یہ غزل دو سوئیں مرتبہ سنتے ہوئے دیکھا ہے، اب تک آپ کو ازبر ہو چکی ہو گی تویہ پھر پڑھئے پھر عطاء کیجیے ، کیا معنی۔ بولا ، اس کے بعد میرا بھی تو نمبر آئے گا۔ ایک وقت تھا کہ کوئی شاعر آکر اپنی غزل یا نظم نہایت ہی شریفانہ انداز میں سنا کر چلا جاتا تھا لیکن اب غزل سے پہلے چند شعر، غزل سے پہلے دو قطعات، غزل سے پہلے چار ہائیکو۔ یہ غزل کے پہلے کا مال ہی انسان کو ادھ موا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے ۔

ایک زمانے میں والی سوات جب کبھی بازار میں نکل جاتے اور کہیں نہ کہیں کوئی غلط کام کرتا ہوا نظر آجاتا تو وہ گاڑی روکنے کا حکم دیتے،گاڑی رکتی، والئی صاحب کے لیے دروازہ کھولا جاتا اور وہ اپنے مخصوص شاہانہ چال کے ساتھ اس شخص تک پہنچتے، تب تک پولیس اس شخص کی اتنی مرمت کر چکی ہوتی کہ والئی صاحب کو ایک شاہی تھپڑ مارنے میں کوئی دقت نہ ہوتی، لیکن والئی صاحب پھر بھی آخر والئی تھے۔

شاعر نہیں تھے اس لیے مار کھانے والے شخص یا یوں کہیے کہ چند شعر قطعات اور ہائیکو کے بعد والئی صاحب کی نظم سننے والے اس شخص کو تنبیہہ کی جاتی اور پھر سیکریٹری والئی صاحب کے اشارے پر اس شخص کو سو پچاس روپے پکڑا دیتا۔

بعد میں کچھ ہوشیار لوگوں نے اسے اپنا ذریعہ معاش بنا لیا، جب بھی والئی صاحب کی گاڑی مقررہ وقت پر بازار میں نکلتی، یہ لوگ گاڑی کے سامنے آکر کچھ نہ کچھ ایسا کر دیتے کہ پروسیجر سے گزرنے کے بعد سو پچاس روپے ہاتھ لگ جاتے، لیکن بدقسمتی سے شعرا صاحبان نہ والئی صاحب ہوتے اور نہ ان کے پاس درم و دام صرف کلام ہی کلام، دراصل شاعری نام کمانے کا وہ آسان ترین راستہ ہے جس کے لیے نہ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکڑی۔
Load Next Story