صحت کا عالمی دن فوڈ سیکیورٹی اور تھر فیسٹیول

سوچنا چاہیے جن تھری خاندانوں کے بچے روز ہلاک ہورہے ہوں اور حکومت کا بیانیہ ابھی تک...

سوچنا چاہیے جن تھری خاندانوں کے بچے روز ہلاک ہورہے ہوں اور حکومت کا بیانیہ ابھی تک... فوٹو: فائل

پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحت کا عالمی دن گزشتہ روز منایا گیا ۔ اس دن کے منانے کا مقصد صحت سے متعلق مسائل پر قابو پانے اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فوڈ سیکیورٹی اس دن کا تھیم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کے عدم تحفظ کی وجہ سے سالانہ 2.2 ملین افراد جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے ہلاک ہو رہی ہے اور حکومت سطح پر صحت پالیسیوں کے فقدان کے باعث صورتحال تشویش ناک ہے، دودھ عالمی سطح پر ملاوٹ شدہ ملتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے قیام کے بعد7 اپریل 1948 کو صحت کا پہلا عالمی دن منایا تو جاتا ہے مگر پاکستان میں عام آدمی کی صحت کو خطرات لاحق ہیں ان کے تدارک کے لیے صحت پالیسی اور بجٹ میں مختص شدہ رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ کہی جاتی ہے جب کہ ملک کے دور دراز شہروں اور دیہی علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں۔


اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں سرکاری و غیر سرکاری و سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام آگاہی واکس ، سیمینارز اورتقریبات کا انعقاد کیا ۔ ادھر سندھ حکومت کے تھر فیسٹیول پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے ہیں اور تھری عوام کا غصہ میڈیا تک بھی آیا ہے۔ تھر میں بچوں کی ہلاکت رکنے کا نام نہیں لے رہی ایسے میں ان معصوموں کو بچانے کے بجائے تھر فیسٹیول پر کثیر رقوم خرچ کرنا محکمہ صحت کی حکمت عملی کے افسوس ناک رویے کا مظہر ہے۔

سوچنا چاہیے جن تھری خاندانوں کے بچے روز ہلاک ہورہے ہوں اور حکومت کا بیانیہ ابھی تک '' قحط سے نہیں بیماریوں سے ہلاکتیں ہورہی ہیں '' پر مبنی ہو تو صحت کا عالمی دن اس کی مقصدیت کی تکمیل کیسے کر سکے گا؟ بے آسرا تھری مائیں اپنے بچوں کی لگاتار ہلاکتوں کے غم میں کس دل کے ساتھ اس فیسٹیول میں شریک ہونگی ۔ ارباب اختیار کو اس ضمن میں تھر سانحے پر غور کرنا چاہیے۔

ادھر جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے وزراء صحت کا پانچواں اجلاس کل بدھ آٹھ اپریل سے نئی دہلی میں شروع ہوگا۔ اس کانفرنس میں افغانستان ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، مالدیپ ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا شرکت کرینگے۔ پاکستان کو صحت کے شعبے میں سارک کانفرنس کو اپنی ترجیحات سے آگاہ کرنا چاہیے اور ملک کو فوڈ سیکیورٹی کے تھیم کی کامیابی کے لیے تن دہی سے کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔
Load Next Story